کالم/مضامین

عنوان: کے ای ایس سی سے کے الیکٹرک تک

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: کے ای ایس سی سے کے الیکٹرک تک ۔۔۔!!

‏کے الیکٹرک سترہ سال گزرنے کے بعد بھی بجلی کی پیداوار میں خود انحصاری حاصل نہ کرسکا۔ آج بھی اس کا دارومدار این ٹی ڈی سی پر ہے اور این ٹی ڈی سی سے بجلی کم ملنے کو بہانہ بناکر کراچی بھر میں لوڈشیڈنگ شروع کردی ہے۔ اگر یہی ہونا تھا تو کے ای ایس سی کو پرائیویٹائز کیوں کیا اور ابراج کیپٹل کو نوازنے کیلئے کراچی ہی قربانی کا بکرا کیوں بنایا گیا۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! ‏کے الیکٹرک سترہ سال گزرنے کے بعد بھی بجلی کی پیداوار میں خود انحصاری حاصل نہ کرسکا۔ آج بھی اس کا دارومدار این ٹی ڈی سی پر ہے اور این ٹی ڈی سی سے بجلی کم ملنے کو بہانہ بناکر کراچی بھر میں لوڈشیڈنگ شروع کردی ہے۔ اگر یہی ہونا تھا تو کے ای ایس سی کو پرائیویٹائز کیوں کیا اور ابراج کیپٹل کو نوازنے کیلئے کراچی ہی قربانی کا بکرا کیوں بنایا گیا۔ کے ای ایس سی کراچی اور اس سے متصل صوبہ سندھ اور بلوچستان کے بعض علاقوں کو بجلی فراہم کرتا ہے۔ ماضی قریب میں ھم کے الیکٹرک کے مالکان کے متعلق بین الاقوامی سطح پر مسلسل منفی چہرے دیکھتے چلے آرہے ہیں۔ یاد رھے کہ ماضی میں ایک امریکی اخبار نے لکھا تھا کہ ابراج کیپیٹل نامی کمپنی کے الیکٹرک کے شیئرز فروخت کرنے کی خواہش مند تھی اور اس کام میں نواز شریف اور شہباز شریف کی مدد حاصل کرنے کیلئے اس کمپنی نے نوید ملک نامی ایک بزنس مین کو دو کروڑ ڈالر کی پیشکش کی تھی۔ پاکستانی بزنس مین اور ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی کو امریکا کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، برطانوی عدالت نے امریکا کی درخواست پر حوالگی کا فیصلہ سنایا تھا۔
عارف نقوی کو منی لانڈرنگ سمیت سولہ الزامات کا سامنا رہا، اس حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ جعل سازی اور منی لانڈرنگ سمیت سولہ الزامات پر عارف نقوی کو تین سو برس تک کی سزا ہوسکتی تھی۔ یاد رہے کہ بارہ اپریل سنہ دو ہزار انیس کو یو اے ای کی تباہ حال پرائیویٹ ایکویٹی فرم ابراج کیپیٹل لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹیو اور مینیجنگ پارٹنر کو اپنے سرمایہ کاروں سے فراڈ کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ دبئی فنانشنل سروسز اتھارٹی (ڈی ایف ایس اے) کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ انہوں نے ابراج انوسٹمنٹ مینجمنٹ انتیس کروڑ تیرانوے لاکھ اور ابراج کیپٹل لمیٹڈ پر ایک کروڑ تریپن لاکھ ڈالر کا جرمانہ کیا تھا۔ مذکورہ کمپنیاں ابراج گروپ سے منسلک ہیں جو چودہ ارب ڈالر کے اثاثوں کے ساتھ ایک زمانے میں مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی نجی سرمایہ کاری کی کمپنی تھی۔ اس کمپنیوں کے چند نمایاں سرمایہ کاروں میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن اور عالمی بینک کی ایک منسلک ادارہ بھی شامل رہا ہے۔ ڈی ایف ایس اے کا کہنا تھا کہ اٹھارہ ماہ پر محیط تفتیش کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ ابراج انویسٹمنٹ مینجمنٹ غیر مجاز مالیاتی سرگرمیوں میں ملوث تھی اور ایک طویل عرصے تک ابراج فنڈ میں سرمایہ کاروں سے غلط بیانی کرتی رہی تھی۔ کے ای ایس سی کے ترجمان سید سلطان احمد نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دبئی کے ادارے ابراج کیپیٹل نے ادارے کے کنٹرولنگ شیئرز خریدنے کے بعد ادارے کا انتظام سنبھال لیا ہے جس کے بعد نئی انتظامیہ نے بھی چارج سنبھال کر کام شروع کردیا ہے۔ انکے مطابق کے ای ایس سی کی نئی انتظامیہ چیف ایگزیکٹو آفیسر نوید اسماعیل، چیف فنانشل آفیسر جلیل کریم سمیت دوسرے افسران پر مشتمل ہے۔ وفاقی حکومت نے تین سال قبل کے ای ایس ای کو غیر ملکی کمپنی الجمیح کو فروخت کردیا تھا جس نے اب ادارے کے کنٹرولنگ شیئرز ابراج کیپیٹل کو فروخت کردئیے ہیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! کے ای ایس سی کو ختم اس بابت کیا تھا کہ پھیلتے شہر کراچی کی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کیلئے بجی بجلی کمپنی توانائی کی خود سستے دام تیار کرکے کراچی کے شہریوں کو سستی اور بہتر بجلی کی سپلائی کو یقینی بنائے گی مگر اس کے برعکس ھوا۔ سب سے پہلے ابراج کیپیٹل قومی مالیت کے خذانے کو ملی بھگت جس میں اس وقت کی وفاقی حکومت مسلم لیگ نون صوبائی حکومت پی پی پی اور ایم کیو ایم کیساتھ مل کر کھربوں نہیں بلکہ نربوں ارب کے قومی خذانے کو لوٹا جس میں کراچی بھر کے کھمبوں سے نایاب ترین کاپر وائر اتار کر سستے ناکارہ المونیم کے وائر لگادیئے جس سے نہ صرف وولٹیج بلکہ بلوں میں بھی ہوشربا یونٹس آنے لگے اس پر سونے پر سہاگہ ڈیجیٹل میٹر نے کسر پوری کردی۔ آج تک نربوں مالیت کے کاپر وائر کا کچھ پتا نہیں چلا اور نہ ہی کسی نے اس بابت بات کی۔ البتہ سیاستدانوں کے قریب ترین رشتہ داروں کو بڑی رقموں پر جاب دی گئیں تاکہ وہ بھی جرم میں شامل رہتے ھوئے خاموشی اختیار رکھیں۔ عدالتِ عظمیٰ کی چیف جسٹس آتے رہے مگر کسی ایک نے بھی اس بابت ازخود نوٹس نہیں لیا اور نہ ہی بیوروکریٹس نے ملکی و قومی مفادات میں سمری عدالت میں بھیجی خیر سیاستدانوں کے مگرمچھ کے آنسو تاحال جاری ہیں جھوٹ مکارپن ریاکاری اور منافقت کے کرتب ان سیاستدانوں کے جاری ہیں۔ اب دیکھنا یہ ھے کہ آپریشن رد الفنانس اور آپریشن رد التجارت کیوں شروع کریگا کیونکہ ملکِ پاکستان کی بقاء و سلامتی اسی دونوں آپریشنز پر محیط ہے ان آپریشن کے بعد ہی مافیاز کا خاتمہ ممکن ھوسکے گا اور بین الاقوامی بدنام زمانہ کرپٹ کمپنی ابراج کیپیٹل احتساب کے شکنجے میں آسکتا ھے بصورت یہ ایسٹ انڈیا کمپنی سے بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ھوگا۔ کراچی کی عوام مطالبہ کرتی ھے کہ کے ای ایس سی کے دور میں کھمبوں پر لگے کاپر تاروں کا حساب ابراج کیپیٹل سے لیا جائے اور سترہ سالہ دور کا آڈٹ کراکے اس سے معاہدہ منسوخ کیا جائے اسی میں قومی خذانے کی بہتری ھے۔ واپس حکومتی ادارے کو سونپتے ھوئے عصرِ حاضر کے تقاضوں کے تحت ڈھال کر بہتر انداز میں چلایا جائے۔ قائد اعظم زندہ باد, پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You