*عنوان: کیا یہ جاہلیت ھے یا چالاکی یا پھر بدنیتی ۔۔۔!!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: کیا یہ جاہلیت ھے یا چالاکی یا پھر بدنیتی ۔۔۔!!*
*عنوان: جاوید صدیقی*
پاکستان کا صنعتی حب اور ٹیکس کا مرکز جو ملک کو اسی فیصد ٹیکس فراہم کرتا ھے کہنے کو تو اس شہر کو میٹروپولیٹن سٹی کہتے ہیں جو سرکاری و عدالتی کاغذوں میں تحریر شدہ ھے لیکن حالت زار ایسی کہ کسی گاؤں دیہات کی یونین کونسل ہی بہتر ہوگی۔ لاہور، اسلام آباد، پشاور، فیصل آباد، بہاولپور، ملتان، سکھر، لاڑکانہ، سیالکوٹ، گجرانولہ، گجرات، کوئٹہ، خضدار، سبی، حب، بنوں، ڈی آئی خان، ڈی جی خان اور نجانے کون کون سے شہروں کی بلدیات اس منی پاکستان و میگا شہر کراچی سے کہیں درجہ فنڈ و دیگر حکومتی مراعات سمیٹتے ہیں مگر کہیں چند عملی نظر آتے ہیں بیشتر کا پتا نہیں کاغذات کی کس سیاہی کی نظر ھوجاتے ہیں، اس بات سے قطع نظر کہ سیاسی طور پر ہم آہنگی اس شہر کی میٹروپولیٹن میں ھے کہ نہیں لیکن اکثریتی حمایت والے بناء تفریق بناء اختلاف اس شہر کو عروس البلد اور جدید ترین تمام بنیادی سہولیات سے آراستہ کرسکتے ہیں، اس کیلئے جن عناصر اور قوت کی ضرورت ھے وہ اس شہر کی خوشصیبی ھے کہ تمام تر موجود ہیں یعنی وزیراعلیٰ انکا، صدر مملکت انکا، چیئرمین سینٹ انکا اور خود نصف وزیراعظم بھی انہی کا اس سہولیات اور صوتحال کے باوجود کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب اگر کراچی کی شاہراہیں، ٹرانسپورٹ، اسٹریٹ لائٹس، واٹر سپلائی، درختوں پودوں کی افزائش اور راداری کے اطراف پھول واریاں نہ صرف ممکن ھیں بلکہ ناگزیر ھوچکی ہیں۔ صاف و شفاف فٹ پاتھ، قانون کا مضبوط ایسا عمل کہ نہ پولیس اور نہ ہی بلدیاتی افسر پتھاریدار مافیاء کا سرغنہ نظر آئے۔ کراچی کو حسین و جمیل بنانے کیلئے سخت ترین اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔ اب بھی ایسا نہ کیا تو تاریخ کوئی عذر قبول نہیں کریگی کیونکہ تاریخ میں مُورخ یہ بھی لکھے گا کہ صوبائی حکومت عرصہ دراز سے انہی کی سیاسی جماعت کو ملتی رہی ھے اور یہ بھی شہادتوں کیساتھ تحریر کریگا کہ سب کچھ آسانی ہونے کے باوجود عملی تعمیری مثبت امور سے بھاگنے کی وجہ انکے ذہنوں اور عملوں میں بسے کرپشن لوٹ مار کمیشن بددیانتی اور خائن جیسے موذی امراض میں مبتلا تھے جو ایک مکمل ناکام نامراد شکست خور انسانوں میں پائے جاتے ہیں۔ کراچی تا حال بنیادی ضروریات سے محروم اور کھنڈر شدہ شہر بن چکا ھے جہاں نہ امن و امان اور تحفظات سے عاری ھے، کیا یہ جاہلیت ھے یا چالاکی یا پھر بدنیتی کہ میٹروپولیٹن و بلدیات کے ضمن میں کئی سالوں سے ٹیکس کی مد میں کھربوں نہیں بلکہ نربوں کماتے رھے پھر وہ دولت کہاں اور کس کی جیب میں۔۔۔۔ !!



