*عنوان: کیا ھماری اسٹبلشمنٹ کامل ماہر ھے؟؟

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: کیا ھماری اسٹبلشمنٹ کامل ماہر ھے؟؟*
*کالمکار : جاوید صدیقی*
یہ مسلمہ حقیقت ھے کہ خفیہ اداروں کے پاس تمام کے تمام صحافیوں کا ڈیٹا موجود رہتا ھے اور اگر میں اپنی بات کرونگا تو ایک الیکٹرونک سٹلائٹ چینل کے لائسنس کیلئے کئی ایجنسیوں کو انٹرویو دیئے تھے اس وقت میں دنگ رہ گیا کہ وہ سوالات بھی شامل تھے جو میں اپنے اور اپنے خاندان کے متعلق بھی نہیں جانتا تھا بحرحال اپنے معزز قارئین کو بتانے کا مقصد یہ ھے کہ ہماری اسٹبلشمنٹ اور خفیہ ایجنسی انتہائی ماہرانہ صلاحیت کی مالک ہیں اور انکی انہی صلاحیتوں کو دنیا بھر کی ایجنسی اور سپر پاور ممالک اعتراف بھی کرتے ہیں یقیناً ہمیں اپنی اسٹبلشمنٹ اور خفیہ ایجنسیوں پر ناز ہونا چاہئے اور فخر بھی۔ سنہ انیس سو ساتتر عیسوی میں جب پاکستان دولخت ہوا تو پھر اسٹبلشمنٹ اور خفیہ ایجنسیوں نے مکمل گرفت کیساتھ ریاست کی کمر تھام لی وہ جان چکے تھے کہ سیاستدان ناہل ناکارہ اور انتہائی خودغرضی کے مریض ہیں اور یہ مرض تواتر کیساتھ انکی نسلوں میں منتقل ہوتا رہیگا، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی کی ناانصافی اور عدم شعوری سوچ کو دیکھ کر کئی فیصلے کئے گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے قابلیت اہلیت ذہانت کا نہ صرف قتل کیا بلکہ کرپشن لوٹ مار بدعنوانی اقربہ پروری اور تعصب زدہ فرمان نے عوام سے قوموں میں منقسم کردیا۔ آج سندھ انہی خاندان کے ہاتھوں میں ھے ان ستر سے ابتک پچپن سالوں میں سوائے مارشل لاء اور ایمرجنسی کے بقیہ دورانیہ انہی کی حکومتوں میں رھا ھے اور اب بھی جاری ھے۔ سابقہ صدر و جنرل ضیاءالحق نے اپنے مارشل لاء کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کیلئے مشکل راہ بنانے کیلئے سندھ میں اے پی ایم ایس او بنائی جو آگے چل کر مہاجر قومی موومنٹ اور پھر متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل ہوئی اب اسکے کئی دھڑے ہوچکے ہیں کیونکہ ان میں کوئی سیاستدان تھا ہی نہیں جو سیاست چلتی اپنے اپنے وقت میں لوٹاماری کرتے رہتے جو تاحال جاری ھے۔ پنجاب میں میاں نواز شریف کا لایا گیا یہ بھی ایک الگ فلم تھی ہوس دولت کا مریض اور نفس کا پجاری یہی نہیں بلکہ خاندان شریفیہ کا یہی حال ھے، دونوں کی کمال کمینگیاں دیکھ کر پھر عمران خان کو لائے جو ایک نمبر جھوٹا فاسق اور عیار ھے۔ عورت اور نشہ اسکی کمزوری یہی سبب تھا کہ یہودیوں نے اسے بآسانی شکار کرکے پاکستان کو ناتلافی نقصان سے دوچار کرنے کیلئے انکارکی پھیلانے اور ریاست کو کمزور کرنے کیلئے مالی و دیگر معاونت کی اور جاری ھے۔ اگر پاکستان کے حالات کو باریکی سے دیکھیں تو ہر سو منافق بہروپیئے اور غدار ہی نظر آئیں گے اس سرزمین پاک کے اہم ترین منصبوں پر غیر ملکی سہولتکاروں کی ایک طویل قطار موجود ھے اس بابت ہماری اسٹبلشمنٹ اور خفیہ ایجنسی جس طرح نبردآزما ہیں یہ کوئی معمولی بات نہیں خود کبھی کبھار ان میں بھی گھس بیٹھ جاتے ہیں جنکا علم تادیر ہونے کے سبب نقصان سے گزرنا بھی پڑتا ھے۔ ہمارا میڈیا انڈسٹری نوے فیصد غیروں کے ہاتھوں کھلونہ بنی ہوئی ھے اس میں مالکان، اینکرز، ڈین این، بی سی، رپورٹرز اور دیگر شامل ہیں۔ امریکہ اسرائیل بھارت برطانیہ فرانس اور دیگر غیر مسلم ممالک نے پاکستان کی سیاست کو ناپید تو کردیا مگر افواج کو زرہ برابر فرق پیدا نہ کرسکی البتہ الٹا اپنے ہی منفی عزائم کے نتیجہ میں بری طرح شکست خور رہی۔ درحقیقت پاکستانی عوام شعوری لحاظ سے بہت پیچھے ہیں انکی کم عقلی اور جذباتیات کے سبب ان میں غور و فکر سمجھ بوجھ کا عمل مانند پڑ گیا ھے۔ پاکستانی عوام میں مثبت چالاکی ہوشیاری اور پھرتی کہیں نظر نہیں آتی کیونکہ ہمارے سول ادارے انہی کرپٹ جاہل سیاستدانوں کے ماتحت کام کررہے ہیں ان کا حال اب ڈھکا چھپا نہیں رھا۔ ان حالات کے تحت پاکستانی اسٹبلشمنٹ ان سیاستدانوں کو فری ہینڈ نہیں دے سکتی کیونکہ یہ پاکستان فروخت کرنے میں ذرا دیر نہیں لگائیں گے المیہ تو یہ ھے کہ ان سیاستدانوں کی پشت سب سے زیادہ مذہبی طبقہ کرتا ھوں کیونکہ حلوے ہانڈے بھی تو کھانے ہوتے ہیں جبھی تو دنیا کہتی ھے کہ پاکستان کو اللہ ہی چلا رھا ھے اللہ کے صبر کو زیادہ نہ آزاماؤ وگرنہ رب العزت کیلئے نا ممکن نہیں کہ وہ اپنے فیصلے عملاً دکھادے بیشک وہ قادر مطلق ھے۔ یہ حقیقت ھے کہ ہمارے ہاں حکومت چلانے کیلئے عرصہ ستر سالوں سے الیکشن نہیں سلیکشن ہوتے چلے آرھے ہیں، عوام کو نہ الیکشن سے دلچسپی ھے نہ الیکشن سے پاکستانی عوام جینے کیلئے بنیادی ضرورتوں کو اس قدر سستا دیکھنا چاہتی ھے جو اسکے دست رست میں بآسانی آسکے یاد رھے کہ کسی بھی ریاست و حکومت میں بنیادی ضرورتوں میں اشیاء خوردنوش، تن ڈھانپنے کیلئے لباس، رہنے کیلئے گھر، علم حاصل کرنے کیلئے تعلیم، بیماری سے نجات کیلئے علاج، اور جہیز کی لعنت سے چھٹکارہ و شادی کے طعام پر ون ڈش اور روزگار کے بیشمار مواقع، پختہ و وسیع شاہراہیں، کم نرخ کرایہ پر ٹرانسپورٹ، اور یوٹیلٹیز بلز اتنے کم کہ نہ ہونے کے برابر بس یہی تو عوام اپنے ٹیکسوں کے بدل چاہتی ھے جو بآسانی ممکن ھے لیکن اس کیلئے اشرفیہ اور حکومتی اداروں کی عیاشیوں کا خاتمہ ناگزیر ھے یہ سب کچھ اسٹبلشمنٹ ہی کرواسکتی ھے کیونکہ سٹی کورٹ کے جج سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کرپٹ ہوچکے ہیں اور یہ عیاشیوں میں مدہوش ہیں وگرنہ اسٹبلشمنٹ سمجھ لے کہ اللہ واحد لاشریک اگر فیصلہ کرنے پر آگیا تو کوئی بھی نہ بچ سکے گا یاد رکھئے کہ اللہ کو بندوں کی ضرورت نہیں بندوں کو اللہ کی ضرورت رہتی ھے، کراچی ملک کا واحد شہر بن گیا ھے جہاں روزانہ کی بنیاد پر ملک بھر سے جرائم پیشہ افراد گروہ در گروہ کی آمد کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ھے کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ، کراچی آمد و رفت کا ڈیٹا روزانہ کی بنیاد پر مروج ہونا ناگزیر ھے اور خاص طور پر کراچی میں میٹروپولیٹن پولیس مقامی شہریوں پر محیط ہونا چاہئے اور سندھ پولیس کو کراچی سے بیدخل لازم کیا جائے۔ پاکستان اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جبتک کہ کراچی مستحکم خوشحال ترقی کی جانب گامزن نہ ہو یہی سچ ھے اور یہی حقیقت۔۔۔!!



