عنوان: کون صحیح کون غلط

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: کون صحیح کون غلط۔۔۔!!
انسان بیشک خسارے میں ھے۔ الله تبارک تعالیٰ نے قرآن الحکیم والفرقان المجید میں سورۃ عصر میں انسان کے خسارے کے متعلق ذکر کیا ھے الله کا ارشاد ھے۔ترجمہ: زمانہ کی قسم ہے۔ بے شک انسان گھاٹے میں ہے مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور حق پر قائم رہنے کی اور صبر کرنے کی آپس میں وصیت کرتے رہے۔۔۔۔۔معزز قارئین!! اس مختصر سورۃ میں رب الکائنات نے انسان کے نفع و نقصان کو واضع کردیا سب سے پہلے انسان کو آگاہ اور تنبیہ کرتے ھوئے بتاتا کہ انسان خسارے میں ھے مطلب انسان خود کو عقل قل سمجھتے ھوئے کہیں دولت کہیں شہرت کہیں مرتبے کہیں طاقت گوکہ زیرہ کے برابر عقل پر اکڑتا اور غرور کرتا ھے اپنی اسی آن و شان کیلئے بیشمار جھوٹ فریب گمراہ کن عمل سے ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کرتا رہتا ھے مگر حقیقت اس کے برعکس ھوتی ھے۔ پھر دوسری آیت میں ایمان کی جانب متوجہ
کیا کہ جو ایمان لائے اور نیک کام کئے اور حق پر قائم رہنے کی اور صبر کرنے کی آپس میں وصیت کرتے رہے انکے لیئے فلاح اور کامیابی ھے لیکن یہ بات واضع کرتا چلوں کہ ایمان کی جز کہہ لیجئے یا بنیاد یا پھر روح وہ صرف اور صرف حق سچ میں ہی پنہاں ھے۔ جھوٹ سے جہاں ایمان زائل ھوجاتا ھے وہیں کفر شرک منافقت جنم لے لیتے ہیں۔معززقارئین! میرے ایک قاری میم سین بٹ نے مجھے ایک تحریر بھیجی جس میں موجودہ وزیراعظم عمران خان کو یادداشت کراتے ھوئے بآور کرایا کہ جس خدمت الناس کے چرچے کرتے پھرتے ھیں وہ’ وہ میاں نوازشریف کی کارفرمائیاں اور احسانات تھے جسے تم نے فراموش کرکے احسان عدولی کی ھے انھوں نے مزید بتایا کہ یوسف خان عرف دلیپ کمار سابق وزیراعظم نوازشریف کی دعوت پر سنہ انیس سو نوے کی دہائی کے آغاز میں بھی پاکستان آئے تھے اس موقع پر نوازشریف نے دلیپ کمار کو پاکستان کا اعلیٰ سول ایوارڈ بھی دیا تھاجس پر مسلم لیگ کے حامی پاکستانی اداکار یوسف خان نوازشریف سے ناراض ہوگئے تھے نوازشریف نے جب عمران خان کو پچاس کروڑ روپے کی گرانٹ دیکر شوکت خانم کینسر اسپتال کا سنگ بنیاد رکھا تھا تو دلیپ کمار بھی اس تقریب میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ شریک ہوئے تھے میم سین بٹ نے مجھ سے کہا کہ جاوید صدیقی صاحب حضرت علی کرم الله وجہہ الکریم نے فرمایا تھا جس پر ایک بار احسان کرو تو باقی زندگی اسکے سائے سے بھی دور رہو کیونکہ وہ احسان کا بدلہ حسد سے ضرور لے گا۔ عمران خان بطور وزیراعظم کسی کو اسپتال بنانے کیلئے پچاس کروڑ تو دور کی بات پچاس لاکھ روپے بھی نہیں دے سکتا یہ دل گردے کی بات ہے نوازشریف نے چاہے سرکاری گرانٹ ہی دی ہو یہ اس کا عمران خان پر ذاتی احسان تھا مگر اس احسان فراموش نے اسپتال کے سنگ بنیاد کی تختی ہی اکھڑوا کر پھینک دی تھی اخبار ریکارڈ گواہ ہے کہ عمران خان نے نوازشریف کو شوکت خانم کینسر اسپتال کیلئے پچاس کروڑ روپے اور اراضی دینے بعد چور قرار دیا تھا پہلے نہیں لہٰذاموجودہ وزیراعظم کو سابق وزیراعظم کےخلاف چوری کا پرچہ درج کرواکر مال مسروقہ برآمد کروانا چاہیے۔۔۔ معزز قارئین!! تمام باتیں ایک طرف لیکن یہ جو وزیراعظم عمران خان صاحب ریاستِ مدینہ ثانی کا اعلان کرتے پھرتے ہیں یہ اعلان کرنے کا کس نے مشورہ دیا تھا۔ بحیثیت ایک صحافی آجتک میں یہ سمجھنے سے قاصر رھا ھوں کیونکہ میں نے جہاں تک دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ‘ تاریخ اسلام ‘ قرآن و احادیث کا مطالعہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی جانثاروں میں بھی ایسی جرأت نہ پائی کہ وہ ریاستِ مدینہ کا موازنہ کرسکیں۔ تمام عمر خدمت عبادات جہاد اور تقویٰ عظیم ترین ھونے کے باوجود پوری پوری شب الله کے حضور روتے گریہ زاری کرتے اور دن بھر عوام الناس کی خدمت سے سرشار رہتے تھے الله نے انہیں عشرہ مبشرہ میں شامل کرتے ھوئے دنیا کی زندگی میں اعلان فرمادیا کہ یہ سب جنتی ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حوضِ کوثر کے ساتھی ہیں ان میں چاروں خلیفہ شامل تھے کبھی بھی ان اصحابہ کرام و اجمعین نے نہ دعویٰ کیا نہ اعلان کیا خدمت در خدمت کرنے کے باوجود خود کو کم تر سمجھتے تھے یہ انکی عاجزی انکساری اور الله سے بندگی کا اظہار تھا۔۔۔۔ معزز قارئین!! میں تو بس اتنا جانتا ھوں کہ کون اعلان کرتا ھے اور کون اعلان نہیں کرتا لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کون سچا برحق حکمران رہا یا ھے یہ الله کی ذات بہتر جانتی ھے لیکن بحیثیت ایک مسلمان اور پاکستانی قوم ھم قرآن و حدیث سے موازنہ کرسکتے ہیں۔۔۔
الله ھماری قوم کو عقل و شعور اور ایمانی طاقت سے نوازے اور اگر جذبات دے تو عقل و فہم کیساتھ جہلت کے جذبات قوموں کو تباہ و برباد کردیتے ہیں۔
کالمکار: جاوید صدیقی



