عنوان: کلام اللہ خوبصورت بیان زوجہ۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: کلام اللہ خوبصورت بیان زوجہ۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
بندۂ خدا جب کلام اللہ قرآن الحکیم والفرقان المجید کا بڑی توجہگی کیساتھ مطالعہ کرتا ھے تو بہت سے باریک راز افشاں ھوتے ھیں، قرآن زبانِ رب ھے تو اللہ اپنے مقدس کتاب قرآن پاک میں بہت سادہ نفیس اور علوم سے مزین ایک ایک نقطہ عیاں کرتا ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! ہمارے ہمسفر زوجہ بیوی کے متعلق جس خوبصورت انداز اور جداگانہ طرز کا استعمال کیا ھے دنیا بھر کے دیگر مذاہب ایک نقطہ بھی پیش نہیں کرسکتے اور یہ سب عنایت اس امت کو رسول اللہ ﷺ کے صدقے نصیب ھوئی ھے،۔۔۔۔ معزز قارئین!! اردو زبان ميں جسے ہم "بيوی” کہتے هيں قرآن مجيد ميں اس کیلئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں
1- إمراءة ، 2- زوجة، 3- صاحبة، ۔۔۔۔۔۔امراءة : امراءة سے مراد ايسی بيوی جس سے جسمانی تعلق تو ہو مگر ذہنی تعلق نہ ہو
زوجة : ايسی بيوی جس سے ذہنی اور جسمانی دونوں تعلقات ہوں يعنی ذهنی اور جسمانی دونوں طرح ہم آہنگی ہو۔۔۔۔ صاحبة : ايسی بيوی جس سے نه جسمانی تعلق ہو نہ ذہنی تعلق ہو اب ذرا قرآن مجيد كی آيات پر غور كيجئے : 1- امراءة۔۔۔ حضرت نوح اور حضرت لوط عليهما السلام كی بيوياں مسلمان نہیں ہوئی تھيں تو قرآن مجيد ميں انكو "امراءة نوح” اور "امراءة لوط” كہہ كر پكارا هے، اسی طرح فرعون كی بيوی مسلمان هوگئی تھی تو قرآن نے اسكو بھی "وامراءة فرعون” کہ كر پكارا هے، ملاحظه كريں سورة التحريم كے آخری آيات ميں۔ یہاں پر جسمانی تعلق تو تھا اس لئے کہ بيوياں تهيں ليكن ذهنی ہم آہنگی نہیں تھی اس لئے کہ مذہب مختلف تھا۔۔۔ 2- زوجة : جہاں جسمانی اور ذہنی پوری طرح ہم آہنگی ہو وہاں بولا گيا جيسے” ﻭﻗﻠﻨﺎ ﻳﺎ آﺩﻡ ﺍﺳﻜﻦ ﺃﻧﺖ ﻭ ﺯﻭﺟﻚ ﺍﻟﺠﻨﺔ ” اور نبی ﷺ كے بارے فرمايا ” يأيها النبي قل لأزواجك …” شائد اللّٰہ تعالٰی بتانا چاہتا ہے کہ ان نبيوں كا اپنی بيويوں كے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا۔ ایک عجيب بات هے زكريا علیہ السلام كے بارے کہ جب أولاد نہیں تھی تو بولا ” و امراتي عاقرا ….” اور جب أولاد مل گئی تو بولا ” ووهبنا له يحی و أصلحنا له زوجه ۔۔۔ ” اس نكته كو اہلِ عقل سمجھ سكتے هيں۔ اسی
طرح ابولهب كو رسوا كيا يہ بول کر ” وامرءته حمالة الحطب ” کہ اس کا بيوی كے ساتھ بھی كوئی اچھا تعلق نہیں تھا۔۔۔ 3 – صاحبة : جہاں پر كوئی کسی قسم کا جسمانی يا ذہنی تعلق نہ ہو۔ اللّٰہ تعالٰی نے اپنی ذات كو جب بيوی سے پاک کہا تو لفظ "صاحبة” بولا اس لئے كه یہاں كوئی جسمانی يا ذہنی كوئی تعلق نہیں ہے ” ﺃﻧﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻭﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻪ ﺻﺎﺣﺒﺔ” اسی طرح ميدان حشر ميں بيوی سے كوئی جسمانی يا ذہنی كسی طرح كا كوئی تعلق نہیں ہوگا تو فرمايا "ﻳﻮﻡ ﻳﻔﺮ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻣﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻭﺃﻣﻪ وﺃﺑﻴﻪ ﻭﺻﺎﺣﺒﺘﻪ ﻭﺑﻨﻴﻪ ” کیونکہ وہاں صرف اپنی فكر لگی ہو گی اس لئے "صاحبته” بولا
اردو ميں: امراءتي، زوجتي، صاحبتي سب كا ترجمة ” بيوی” ہی كرنا پڑے گا لیکن ميرے رب كے كلام پر قربان جائيں جس كے ہر لفظ كے استعمال ميں كوئی نہ كوئی حكمت پنہاں ہے اور رب تعالى نے جب دعا سکھائی تو ان الفاظ ميں فرمايا ” رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما ” ۔۔۔
"وأزواجنا” ۔۔۔ زوجہ سے استعمال فرمايا اس لئے كه آنكھوں کی ٹھنڈک تبھی ہوسکتی ہے جب جسمانی كے ساتھ ساتھ ذہنی بھی ھم آہنگی ھو ۔۔۔۔ معزز قارئین!! دنیا کے تمام مذاہب میں صرف اور صرف دین محمدی ﷺ سچا مذہب ھے اس دین محمدی ﷺ کو اللہ نے اپنے آخری نبی و پیغمبر حضرت محمد مصطفٰی ﷺ پر نازل کیا، دین محمدی ﷺ کی کتاب کلام اللہ ھے اللہ نے خود اس کتاب المبین کی حفاظت کا ذمہ لے رکھا ھے، دین محمدی ﷺ تا قیات رہیگا ۔۔۔۔۔!!



