عنوان: ڈاکٹر محمد حمیداللہ

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: ڈاکٹر محمد حمیداللہ ۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
*ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے*
*بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا*
اللہ نے اپنے بندوں میں مختلف مقامات و درجات رکھے ہیں جو چنے یعنی منتخب کئے گئے ھوتے ہیں جن سے دینی روحانی اور انسانی بے مثال لازوال ناقابل فراموش خدمات لی جاتی ھیں کہ وہ دنیا کیلئے مثال و مشعل راہ بن جاتی ہیں ان میں سب سے معتبر و مقدس انبیاء کرام و رسول ہیں پھر اصحاب کرام تابعین و تبع تابعین پھر اولیاء و اسلافین و بزرگانِ دین اور اسی طرح شہدائے کرام کے ساتھ ساتھ نیک پرہیز متقی سچے ایماندار دیانتدار علوم کے علمبردار درجہ بدرجہ شامل ہیں۔ اللہ جس سے جہاں کام لینا چاہے نہ کوئی روک سکتا ھے اور نہ کوئی مار سکتا ھے کیونکہ ھم جب تاریخ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو ابتدائی دنوں کے معرکوں میں قلیل تعداد ھونے کے سبب مسلمان مجاہد کثیر اور قوی دشمنوں کو ڈھیر کرتے تھے یہی صورت حال ھم نے چودہ سو سال بعد اب امریکہ جو کہ سپر پاور ھے ایک انتہائی کمزور چھوٹے سے ملک افغانستان سے انتہائی بری شکست کھاکر بھاگا اور ان چند ایمان افروز مجاہدین نے اپنے اللہ پر کامل یقین رکھنے کے عیوض جدید ہتھیاروں سے لیس بہت بڑے حمایتوں کیساتھ نامراد شکست کھاکر لوٹے۔ دنیا جانتی ھے کہ جب مسلمان ایمان یافتہ ھوجائے تو اس پر اللہ کی نصرت اللہ کا سایہ اللہ کی محبت اور اللہ کی خاص رحمتیں برکتیں گھیر لیتی ہیں جس کا محافظ و رکھوالا اللہ بن جائے تو اس بندے کی خوش نصیبی پر جتنا رشک کریں کم ھے۔۔۔ معزز قارئین!! ایسے ہی خوش نصیب انسانوں میں ایک انسان ایک اللہ کا بندہ ڈاکٹر محمد حمید اللہ تھے۔ ان کے متعلق کہا جاتا ھے کہ یہ ایک ایسے عظیم شخص تھے جس نے سنہ انیس سو چورانوے عیسوی میں کنگ فیصل ایوارڈ کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرایا کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے اللہ تعالی کی خوشنودی کیلئے لکھا ہے لہٰذا مجھ پر میرے دین کو خراب نہ کریں. ڈاکٹر محمد حمید اللہ ایسے عظیم شخص تھے جس نے فرانس کی نیشنلٹی کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دی کہ مجھے اپنی مٹی اور اپنے وطن سے محبت ہے۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ ایک ایسے عظیم شخص تھے جس کے ہاتھ پر چالیس ہزار غیر مسلموں نے کلمہ طیبہ پڑھا ڈاکٹر محمد حمید اللہ ایک ایسے عظیم شخص تھے جو بائیس زبانوں کے ماہر تھے اور چوراسی سال کی عمر میں آخری زبان تھائی سیکھ لی تھی۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ ایک ایسے عظیم شخص تھے جس نے مختلف زبانوں میں چار سو پچاس کتابیں اور نو سو سینتیس علمی مقالے لکھے۔ڈاکٹر محمد حمید اللہ ایک ایسے عظیم شخص تھے جو اس قدر علمی مقام رکھنے کے باوجود اپنے برتن اور کپڑے خود دھوتے تھے ڈاکٹر محمد حمید اللہ ایک ایسا عظیم شخص تھے جسے سنہ انیس سو پچاسی عیسوی میں پاکستان نے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ہلال امتیاز سے نوازا تو اعزاز کے ساتھ ملنے والی رقم جو ایک کروڑ روپے بنتی تھی اس رقم کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ تحقیقات اسلامی کو یہ کہتے ہوئے دیا کہ اگر اس فانی دنیا میں یہ اعزاز وصول کیا تو پھر باقی رہنے والی زندگی کیلئے کیا بچے گا۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ ایک ایسے عظیم شخص تھے جس نے حدیث کی اولین کتاب جو اٹھاون سنہ ہجری میں لکھی گئی تھی جسے صحیفہ ہمام بن منبہ کہا جاتا ہے اس عظیم حدیثی و تاریخی دستاویز کو انہوں نے تیرہ سو سال بعد جرمنی میں برلن لائبریری سے دریافت کیا اور تحقیق کے بعد شائع کرایا. ڈاکٹر محمد حمید اللہ ایک ایسے عظیم شخص تھے جس نے قرآن مجید کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ و تفسیر لکھا اس شاہکار ترجمے کے بیسوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ ایک ایسا عظیم شخص تھے جس نے "تعارف اسلام ” کے نام سے ایک شاہکار کتاب لکھی اس کتاب کو دنیا کی بائیس زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں. یہ عظیم انسان یہ نابغہ روزگار شخصیت ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی تھے، آپ سنہ انیس سو آٹھ عیسوی میں حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے، آپ نے سنہ انیس سو تینتیس عیسوی میں جرمنی کیبون یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد وہیں عربی اور اردو کے استاد مقرر ہوئے. آپ سنہ انیس سو چھیالیس عیسوی میں اقوام متحدہ میں ریاست حیدرآباد کے نمائندہ یعنی سفیر مقرر ہوئے۔ سنہ انیس سو اڑتالیس عیسوی میں سقوط حیدر آباد اور انڈیا سے ریاست کے جبری الحاق پر سخت دلبرداشتہ ہوئے اور جلاوطنی کی زندگی اختیار کی اور جلا وطنی کے دوران "حیدرآباد لیبریشن سوسائٹی” کے نام سے ایک تنظیم بھی بنائی۔ سنہ انیس سو پچاس عیسوی میں پاکستان کا پہلا قانونی مسودہ بن رہا تھا تو آپ سے رابطہ کیا گیا آپ پاکستان تشریف لائے۔ آپ نے سنہ انیس سو باون سے سنہ انیس سو اٹھہتر عیسوی تک ترکی کی مختلف جامعات میں پڑھایا اور سنہ انیس سو اسی میں جامعہ بہاولپور میں طلبہ کو خطبات دیئے جنہیں بعد ازاں خطبات بہاولپوری کے نام سے شائع کیا گیا یہ عظیم علمی اور فکری شخصیت سترہ دسمبر سنہ دو ہزار دو کو امریکی ریاست فلوریڈا میں انتقال کر گئے. ڈاکٹر محمد حمید اللہ کہنے کو ایک فرد تنہا تھے لیکن کام کئی جماعتوں سے زیادہ کر گئے، اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے. آمین یا رب العالمین۔ معزز قارئین۔۔۔۔۔!! مانا کہ موجودہ زمانہ بہت بدل چکا ھے اب علم و تحقیق زر و دولت کے ترازو میں قید ھے کیونکہ صاحب اختیار علم سے نابلد ھیں۔ جب علم عبادت سے ضیافت بن جائے وہ علم نہیں دھوکہ و فریب ھے یہی وجہ ھے کہ چین جرمنی جاپان فرانس امریکہ و برطانیہ سمیت خود مختیار آزاد ممالک اپنی قومی زبان اور ثقافت پر ہمیشہ کی طرح آج بھی کاربند ھیں ھم آزاد ہرگز نہیں ہیں نہ ذہنی طور پر اور نہ ہی جسمانی و نظریاتی طور سے حقیقت تو یہ ھے کہ ھم من حیث القوم بندر بن چکے ہیں اسی لیئے امیر ملکوں کی نقل اتار کر خوش ھولیتے ہیں جو سراسر تذلیل کے مترادف ھے جبتک ھم ایک قوم بن کر علم کو عبادت کی طرح حاصل نہیں کریں گے اور عبادت کی طرح نہیں دیں گے ھم کبھی بھی دونوں جہاں میں سرخرو نہیں ھوسکتے۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ جیسے لوگ آج بھی ھمارے ملک کی زینت بن سکتے ہیں اس کیلئے حکومتی سطح پر تعلیم کے محکموں تدریسی مدارس و معلمین کی از سر نو علمی صلاحیت کا امتحان لینا ناگزیر ھوچکا ھے۔ قابلیت و اہلیت کے جنازے کو دوبارہ از سر نو جلا بخشنا ھے۔ نجی تعلیمی اداروں کو بند کرنا ھے تاکہ تعلیم کاروباری حلقوں سے نکل کر عبادت گزاری حلقوں میں رھے۔ تحقیقاتی اداروں میں اضافہ کیا جائے اور طلبہ و طالبات کو ماہانہ مشاہراہ دیا جائے۔ امتحانات سے گریڈ ڈویژن کے نظام کو ختم کرکے ذہانت کے امتحانات کو ترجیح دیا جائے جس میں کم از کم اسی فیصد مارکس کو پاس کیا جائے اور اس طرح پروفیشنل تعلیمی درسگاہوں میں داخلہ دیا جائے تو ھم پھر دیکھیں گے کہ ڈاکٹر محمد حمید اللہ جیسے بیشمار ھمارے ہونہار طالبعلم دنیا میں ملک و قوم کا نام روشن کرتے نظر آئیں گے۔ یہ خواب نہیں حقیقت ھے لیکن سخت امتحانات سے گزرنا ھے اللہ پاکستان کو تعلیمی درسگاہوں مدارس اور انسٹی ٹیوٹ سے مافیائی طاقتوں سے پاک کردے آمین ثما آمین ۔۔۔۔۔!!




