*عنوان: پینشنرز کے خلاف حکومتی حربے یا چالاکیاں ۔۔۔ !!*
*ٹائٹل : بیدار ھونے تک*
*عنوان: پینشنرز کے خلاف حکومتی حربے یا چالاکیاں ۔۔۔ !!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
ایک جانب کہا جاتا رھا کہ ملک دیوالیہ کے قریب پہنچ گیا پھر سیاسی کھیلاڑیوں نے سازشی حربے، جھوٹ و نفاق پر مبنی داؤ داغے اور تمام تر الزام بہتان اور ذمہداری آئی ایم ایف پر لادتے رہے دوسری جانب شاہ خرچیوں میں لاکھوں نہیں کروڑوں فیصد اضافہ جاری رہا اور مسلسل قومی خذانے پر بوجھ لادتے رہے، اشرفیاء کے بے مقصد فضول بیرون ملک کے بے پناہ دورے جاری ہیں، اور عوام پر گھنٹوں کی نسبت مہنگائی اور ٹیکس کا بوجھ بڑھاتے رھے۔ صدر آصف علی زرداری ہوں یا وزیراعظم میاں شہباز شریف انھوں نے پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی ہے اس پر محافظ چپ تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ریاست کے تمام اداروں کے سربراہاں بے ضمیر بے حس نااہل و ناکارہ تعینات کردیئے گئے تاکہ وہ ہاتھ باندھے ہر حکم کو بجا لائیں چاہے وہ ملک فروشی کے تحت کیوں نہ ہو۔ ان مکار و عیار حکمران و وزراء کا ہمیشہ سے رنڈوے اور بیوہ کی طرح ہر وقت مکارانہ بین کرنا آتا ھے مگر مسائل کا حل نکالنا نہیں آتا کیونکہ مسائل و مشکلات انہی کی پیداوار ہیں۔ بحرحال بدکرداری اور جمہوریت کے الاپ گانے والوں نے ہی جمہوریت کو بدترین آمریت بنا ڈالا ھے بس اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل اور بادشاہی لبادے کیلئے۔ معزز قاڑئین!! ہر سال کی طرح میں پینشنرز حضرات کے حقوق اور انکے جائز مطالبات کیلئے قلم کاری کرتا ھوں اور اپنی تحریر سے پس مردہ حکمرانوں میں جنبش ڈالنے کی کوشش کرتا ھوں کہ وہ اپنی عیاشیوں بد مستیوں اور بے حسیوں سے ذرا کچھ لمحہ بیدار ہوجائیں اور ساٹھ سال تا اسی سال کے پینشنرز کی جسمانی و ذہنی کمزوری بیماری اور قرضوں کے بوجھ کے احساس کو محسوس کرلیں۔ میرا لکھنے کا مقصد یہی ہوتا ھے کہ انھوں نے ساٹھ سال تک اس سرزمین پاکستان اور ریاست کی باگ ڈور بہترین استوار میں اپنا اہم کردار ادا کیا ھے۔ سبکدوشی کے بعد ریاست کو سنبھالا دینا چاہئے ناکہ آج یہ انکا جینا بھی دوبھر کرنے کیلئے ظالمانہ پالیسیاں مرتب کرتے تھکتے نہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ امسال بجٹ 2025۔2026 میں پینشنرز کی پینشن گریڈ 1 تا 16 میں 100 فیصد اضافہ کرتے اور گریڈ 17 تا 22 میں 50 فیصد پیشن میں اضافہ کرکے انہیں سکھ کا سانس لینے دیتے۔ یوں تو پاکستان بھر کی تمام سیاسی جماعتیں جمہوریت اور عوامی فلاح کیلئے آئے روز جلسہ جلوس اجتماعات بیانات کرتے رہتے ہیں مگر ان میں سے کسی نے بھی ان عمر رسیدہ پینشنرز کیلئے آواز بلند نہیں کی کیا انکے ریٹائرڈ ہونے کے بعد ووٹ یعنی حق خود ارادی کے حقوق ختم ہوجاتے ہیں اگر ایسا نہیں تو یہ پینشنرز عمر رسیدہ ووٹرز بھی دیگر پاکستانی ووٹرز کی طرح اہمیت و قدر کی منازل پر ہیں یقیناً انہی کے ووٹوں سے آپ اسمبلی میں پہنچتے ہیں یا پھر یہاں الیکشن کا نظام نہیں بلکہ سلیکشن کا نظام ھے اگر ایسا ہی ہے تو الیکشن کا ڈھکوسلا بند کردیا جائے اس ڈرامہ دھوکہ اور فریب پر اربوں رقم عوام کی قومی خذانے سے کیوں برباد کی جاتی ھے اور اگر واقعی یہاں الیکشن ہوتا ھے تو پھر بدکرداروں عیاشوں مکاروں فریبیوں کا سخت ترین احتساب سپریم کورٹ ملک و قوم اور ریاست کی بقاء کیلئے از خود نوٹس لیکر سخت ترین احکامات جاری کریں اور ہائی کورٹ ہو یا سپریم کورٹ حکومت وقت سے قومی خذانے کا حساب طلب کرے کہ آیا اس بجٹ میں پینشنرز کیلئے اضافہ کیوں نہیں رکھا گیا۔ معزز قارئین!! ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بعد عید الفطر 2025 کو از خود نوٹس نہ لیا تو جان لیجئے ہماری عدالتیں بھی زر خرید غلام ھے اور پھر کہنے والے شائد سچ کہتے ہیں اس ملک کو ڈکیتوں رہزنوں اور ملک دشمنوں نے دبوچ لیا ھے اور وہی پینشنرز پر قہر ڈھا رھے ہیں، اللہ ہی اس ملک کی حفاظت کرے آمین ۔۔۔۔۔!!



