عنوان : پینشنرز اپلیکیشن ناگزیر

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان : پینشنرز اپلیکیشن ناگزیر
کالمکار : جاوید صدیقی
دنیا اس وقت بادشاہی نظام میں ھو یا صدارتی نظام میں یا پھر جمہوری نظام میں گوکہ مسلم و غیر مسلم ممالک نے اپنی عوام کی سہولت کیلئے آج کے زمانے کی سائنسی ترقی کو بروکار لاتے ھوئے سرکاری و نجی دستاویزات کو انتہائی آسان اور مفید ترین بنادیا گیا ھے۔ ہر ملک کے سیاسی و غیر سیاسی سربراہان جماعتیں تنظیمیں اپنے ملک و قوم سے حقیقی معنوں میں سچائی ایمانداری خلوص نیک نیتی کیساتھ عمل پیرا دکھائی دیتے ہیں لیکن اسی دنیا میں دو قومی نظریہ کے تحت وجود میں آنے والے پاکستان اور بھارت ھیں۔ ایک جانب بھارت کو دیکھتے ھیں تو سب کے سب حب الوطنی سے سرشار جے ہند کہتے تھکتے نہیں دوسری جانب یعنی خود پر نظر دوڑاتے ہیں تو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں نفرتوں عصبیتوں تعصبوں میں منقسم دکھائی دیتے ہیں یہی سبب ہے کہ ھمارے حکمران سربراہان بھی بے انتہا جھوٹے منافق اور لٹیرے ھیں ہر ایک سیاستدان حکمران اپنی اپنی جگہ بگڑے نواب کی طرح پھرتا نظر آتا ھے۔ یہاں قانون تو ھے مگر قانون پر عمل درآمد نہیں۔ کرپشن لوٹ مار بدعنوانی رشوت ستانی کمال عروج پر ھے۔ ھمارے اعمال اس قدر پرگندہ ھیں کہ ممکن ھے ھم پر اللہ کی رحمت ہی نہ برستی ھو اور ھم اپنے غلیظ اعمال کی سزا بھگت رھے ھوں۔ یہ تکلیف دہ تحریر میں نے اس لئے لکھی کہ جب مجھے ضعیف بزرگوں پر مشتمل وفد نے ملاقات کے دوران پینشرز کیساتھ ھونے والے مسائل کے انبار پیش کردیئے ان کی تمام باتیں سن کر میں نے عہد کیا کہ خود جاکر مشاہدہ اور تجربہ کرونگا۔۔ معزز قارئین!! میں مہینے کی پہلی تاریخ کو میں نیشنل بینک آف پاکستان سخی حسن برانچ فائیو اسٹار چورنگی گیا میں نے اس بینک کا انتخاب اس لیئے کیا کہ نیشنل بینک سرکاری عرصہ دراز سے چلا آرھا ھے اور تقریباً تمام سرکاری مالیاتی امور لین دین کے کام یہی بینک سرانجام دیتا چلا آرھا ھے، مجھے اچھی طرح سے یاد ھے آج سے تقریباً چالیس سال قبل اس بینک کی خدمات کمال درجہ بہترین انتہائی سادہ فوری عمل والی تھی وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ جدید خطوط پر استوار تو ھوگیا مگر اسی قدر اس کی خدمات اور کارکردگی ناکارہ سست و کاہلی کا شکار ھوکر رہ گئی ھے۔ میں نے دیکھا کہ انتہائی عمر رسیدہ بزرگ خواتین و حضرات پینشنرز بڑی بری حالت سے دوچار ھیں۔ معلوم ھوا کہ اس بینک کا آئے روز سسٹم بیٹھ جاتا ھے جس بناء ضعیف بزرگ پینشنرز گھنٹوں گھنٹوں انتظار کی تکالیف سے دوچار ھوتے ہیں۔ کئی ایسے بھی ضعیف بزرگ پینشرز دیکھے جن کی فنگرز کے نشان مٹ چکے ھیں وہ بائیو میٹک سے معزور ھیں مگر عملہ بضد بار بار کرنے پر تھک ہار کر دوبارہ اگلے دن آنے کا کہتے نظر آئے جو بزرگ پینشنر میرے ساتھ تھے ان کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا گیا۔ لائف سرٹیفیکٹ جمع کرانے والوں کا بھی رش دیکھنے میں آیا کچھ ایسے بھی ملے جنھوں نے چند دن قبل جمع کرایا تھا پھر بھی دوبارہ منگوایا گیا۔ اس بینک میں مینجر سمیت صرف چند گنتی کے ملازم ایسے تھے جو نہایت ادب و احترام تہذیب اور انکساری سے بات بھی کررھے تھے اور پریشان کن سائل کو سمجھا بھی رھے تھے لیکن بقیہ اف توبہ جیسے وہ تنخواہ نہیں لیتے احسان کررھے ھوں۔ ان عملہ کا انتہائی بدتہذیبی طریقہ کار نظر آیا جو قانوناً بینک ایکٹ کی مکمل خلاف ورزی میں شامل ھوتا ھے۔ مینجر صاحب انتہائی معقول انسان تھے انہیں پینشنرز کیساتھ ھونے والے مسائل سے آگاہ کیا کہ آپ کا وہ عملہ جو پینشنرز کو دیکھ رھا ھے اس کا اور کیش کاونٹرز کا رویہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک ھے جس پر خود مینجر صاحب روم سے باہر نکل کر معاملہ کو دیکھا اور پینشرز کے مسائل کو فوری حل کروایا مجھے یہ خیال آیا کہ اگر مینجر صاحب چھٹی پر ھوں تو یہ کیا حال کرتے ھونگے۔ ایک یہ احساس ھوا کہ اسٹیٹ بینک کے گورنر جناب طارق باجوہ اور نیشنل بینک کے چیئرمین جناب سید علی رضا کے علم میں پیشنرز پر گزرنے والے بینکنک عملہ کی ظلم و بربریت کی داستان بیان کروں جو اب تک لکھا ھے وہ صرف اعشاریہ صفر پانچ ھے۔ مجھے علم ھے کہ اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک اچھی طرح واقف ھے کہ ضعیف پینشنرز کیساتھ کس طرح کا ناروا سلوک رکھا جاتا ھے اس تمام مسائل اور سائل کی پریشانی کا حل اور تدارک پیشنرز اپلیکیشن میں ھے۔ الحمدللہ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنا لوہا منواچکا ھے ایک سے بڑھ کر ایک قابل ذہین فطین آئی ٹی ایکسپرٹ ھیں ان سے تبادلہ خیال کرکے پیشنرز کیلئے ایک آسان موثر اور مکمل اپلیکیشن تیار کروائیں تاکہ جعل سازوں گھوسٹ ملازمین اور دھوکہ سازوں کا خاتمہ بھی ممکن ھوسکے اور پیشنرز کیلئے آسان فحال اور بہترین ثابت ھو تاکہ پیشنرز اپنی پینشن فوری بآسانی حاصل کرسکے اور ضروری دستاویزات بھی فراہم کرسکے تاوقتکہ اپلیکیشن تیار اس عرصہ میں نیشنل بینک آف پاکستان کے ملک بھر کے ملازمین اسٹاف عملہ جات کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اور نیشنل بینک آف پاکستان کے چیئرمین پابند رکھیں کہ پیشنرز کیساتھ حسن سلوک نرم گوشہ اور آسانی فراہم کریں بصورت حکم عدولی پر معطل یا پھر دور دراز منتقل کردیا جائے یوں بھی ھمارا دین بزرگوں سے ادب و احترام نرم گوشی اور انکساری کی ترغیب و احکامات دیتا ھے۔۔۔۔!!




