کالم/مضامین

*عنوان: نیکی، بدی اور امت مسلمہ ۔۔۔۔!!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: نیکی، بدی اور امت مسلمہ ۔۔۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

ہر مسلمان شعوری زندگی کے بعد نیکی اور بدی میں مبتلا رہتا ھے جس طرح چھوٹے بڑے گناہ ہوتے ہیں اسی طرح نیکیاں بھی چھوٹی بڑی ہوتی ہیں۔ ہر انسان کیساتھ نفس امارہ یعنی خواہش نفس ہر وقت منسلک رہتا ھے جو بدی یعنی گناہ کی طرف مسلسل مائل رکھتا ھے اسی کیساتھ ایمان یعنی نیکی نفس خواہشات کے ہر فعل، ہر سوچ و افکار کے خلاف اپنا رد عمل پیش کرتا رہتا ھے اور مسلمان کو اللہ کا خوف اور رسول پاک ﷺ سے محبت، چاہت اور لگن کا احساس بیدار کرنے کیلئے شمع روشن رکھتا ھے۔ نیکی کا ہمسفر ساتھی انسان کے اندر موجود رہتا ھے جسے ضمیر کہتے ہیں گوکہ انسان اس نیکی و بدی کی جنگ میں اپنی تمام زندگی گزار دیتا ھے اور موت کے بعد یہ جنگ ختم ہوجاتی ھے۔ لحد یعنی قبر میں وہ مسلمان اپنی نیکیوں کے سبب ابدی و دائمی راحت، سکون، آرام اور جنت حاصل کرکے روز قیامت تک آرام کی نیند سو جاتا ھے جبکہ وہ مسلمان جو کثرت بدی یعنی گناہ کا موجب رہتا ھے اسکی لحد یعنی قبر دوزخ کا ایک ٹھکانہ بن جاتی ھے اور وہ روز محشر تک عذاب جھیلتا رہتا ھے۔ یاد رکھیں کہ نیکیوں کو قطعی نظر انداز نہ کیا کریں چاہے وہ معمولی سی معمولی ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ ھم سب کا رب العزت اپنے بندوں کو ایک نیکی کے بدل کم از کم دس ورنہ ستر تک لازمی عطا کرتا ھے وہ بڑی شان والا، بڑی عظمت والا، بڑی قدرت والا ھے اسکے خذانے میں کمی نہیں کیونکہ رب العزت ایک ماں سے ستر گناہ زیادہ اپنے بندوں سے پیار کرتا ھے اور رحم و کرم فرماتا ھے۔ وہ بہت بڑا غفور الرحیم ھے اسکی رحمت کا اندازہ لگانا ممکن ہی نہیں بس یہ جان لیجئے کہ جبتک انسان گناہ کا مرتکب نہیں ہوتا اس وقت تک گناہ ہی نہیں لکھا جاتا گناہ سرزست ھونے کے بعد ہی ایک گناہ لکھ دیا جاتا ھے جبکہ نیکی کا ارادہ اور سوچ رکھنے پر نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اس حساب سے اگر مسلمان بندہ یا بندی نیکیوں کی جانب ہی اپنی توجہ مرکوز رکھے اور نیکیوں کو عملی جامع پہناتے رہیں تو بندہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ رب العزت اپنے بندے اور بندیوں کو نہ صرف آخرت بلکہ اس دار فانی دنیا کی زندگی میں ہی بے پناہ ثمرات و انعامات سے بھی نوازتا رہتا ھے اور ایسے بندے و بندیاں جو نیکی کو اپنی عادت بنا لیتے ہیں وہی کامیاب و کامران رھتے ہیں۔ یاد رکھئے کہ نیکی ہے کیا پہلے نیکی کو با زبان قرآن سمجھیں غور کریں توجہ دیں اور سیکھیں پھر نیک امور اختیار کریں اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ نیکیاں حقوق العباد اور حقوق اللہ میں موجود ہیں ان دونوں نیکیوں کے پلڑے کا توازن ہونا شرط اوّل ھے۔ ایسا ہرگز ممکن نہیں کہ عبادات و تسبیحات میں بھرپور نیکیاں کمالی جائیں اور معاملات یعنی اچھے رویئے، باکردار اور حسن سلوک سے بالکل خالی ہوں اور ایسا بھی ممکن نہیں کہ معاملات میں بھرپور نیکیاں جمع تو کرلی جائیں اور عبادات و تسبیحات سے مکمل خالی۔ عبادات یعنی حقوق اللہ میں فرائض، واجب، سنت اور مستحب ہیں جبکہ حقوق العباد میں زندگی کے ہر لمحہ کے معاملات۔۔۔ اچھا اور بہترین اللہ کا بندہ اور بندی وہی ہیں جو اپنی زندگی کو توازن کیساتھ گزارتے ہیں۔ عبادات آپ کا ذاتی فعل ھے جبکہ معاملات اللہ کے مخلوق کیساتھ فعل، رویہ اور کردار پر منحصر ہوتا ھے۔ یہ بہت طویل موضوع ھے جس پر جتنا لکھوں کم ھے یہاں بس یہیں پر اکتفاء کرتا ھوں اس دعا کیساتھ کہ اللہ مجھ سمیت تمام عالم اسلام کے مسلمین و مسلمات، مومنین و مومینات کو توازن کیساتھ زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You