عنوان: محران نبوی روضہ رسول ﷺ کا محراب

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: محران نبوی روضہ رسول ﷺ کا محراب

محران نبوی مسجد نبوی کے چھ محرابوں میں سے ایک ہے اور یہ محراب روضہ رسول ﷺ کے اندر موجو ہے۔
اس حوالے سے اسلامی آثارِ قدیمہ کے اسسٹنٹ پروفیسر اور شاہ سعود یونیورسٹی کے کالج آف ٹور ازم اینڈ آرکیالوجی فار ڈیولپمنٹ اینڈ کوالٹی کے وائس ڈین ڈاکٹر محمد السبیعی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ محراب نبوی وہ جگہ ہے جہاں تحویل قبلہ سے قبل رسول ﷺ نے نماز ادا فرماتے تھے۔ جہاں رسول ﷺ نے اماں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کےحجرے مبارک میں چند درجن فرض نماز پڑھائی پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے آگے بڑھ کر محراب میں اپنا مصلیٰ بنا لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رسول ﷺ کے دور میں کوئی محراب تعمیر نہیں کیا گیا تھا لیکن آپ ﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد وہاں ایک علامت بنادی گئی جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ اس مقام پر رسول ﷺ نماز ادا فرماتے تھے اس جگہ کو *المخلقہ* کا نام دیا گیا۔ اہلِ علم نے نماز کے مقام اور اس کے علم کے بارے میں تواتر کیساتھ معلومات کے حصول میں دلچسپی دکھائی۔ علماء کا اس بات پر اتفاق تھا کہ اسمیں پہلے یا بعد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ڈاکٹر السبیعی نے کہا کہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ کے محراب کی جگہ چھوٹے سےنشیبی حوض کی شکل اختیار کر گئی۔ مسجد میں آئمہ جس مقام پرامامت کرتے ہیں اس سے تقریباً ایک ہاتھ نیچے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اسلامی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑھئیوں نے اس محراب کو بنانے میں کمال مہارت دکھائی۔ اس کے اندر امام کے چہرے کیطرف *بسم اللہ* شریف اور اس کے بعد *آیت الکرسی* اور بابِ محراب پر *بسم اللہ الرحمٰن الرحیم* لکھا ہوا ہے۔
ڈاکٹر محمد السبیعی نے کہا کہ ذرائع بتاتےہیں کہ محراب پر *لاجوردی رنگ* کیا گیا اور اس پر سونے کے پانی کی قلعی کی گئی جس سے دیکھنے سے یہ زیادہ دلکش ہوگیا ھے۔ محراب کے اندر ایک ریشمی نفیس غلاف ہے۔ محراب کے اوپر، اسکے دائیں بائیں، روضہ شریف کیساتھ ساکٹیں بنائی گئیں ہیں جن پر شمع دان رکھے جاتے اور انہیں رات کو جلایا جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ محراب سنہ چھ سو چوون ہجری میں پہلی بار مسجد میں آتشزدگی کے سانحے کے بعد بنایا گیا اغلب امکان یہ بھی ہے کہ محراب سلطان ظاہر بیبرس کے دور میں تعمیر کیا گیا کیونکہ سلطان بیبرس نے مسجد نبوی کی توسیع میں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا تھا۔ نہایت مہارت سے تیار کیئے گئے محراب کو سنہ چھ سو چھیاسٹھ ہجری میں مسجد نبوی میں بھیجا گیا کیونکہ اس کا امکان کم ہے کہ منبر محراب کے بغیر تعمیر کیا گیا۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ سنہ آٹھ سو چھیاسی ہجری میں مسجد نبوی میں دوسری آتشزدگی تک یہ محراب قائم رہا۔ اسکے بعد سلطان اشرف قایتبائی نے دوسرا محراب تیار کرنے کا حکم دیا۔ نیا محراب خوبصورت رنگین سنگ مرمر سے بنایا گیا۔ یہ پہلے محراب سے زیادہ خوبصورت دکھتا تھا۔ وہ محراب جسے اشرف قایتبائی نے بنایا زمانوں تک موجود رہا۔ اس میں بہت سی تزئین و آرائش بھی کی گئیں۔ اس میں نوشتہ جات اور سجاوٹ کو برقرار رکھا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر مملوک انداز کی تحریریں موجود ہیں۔ دعا ھے کہ اللہ ہم سب کو زیارت پاک روضہ رسول ﷺ پر حاضری کا شرف عطا فرماتا رھے آمین یا رب العالمین۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی



