کالم/مضامین

عنوان: متروکہ سندھ اور ھم

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: متروکہ سندھ اور ھم

متروکہ سندھ کا فیصلہ تاحال ممکن نہیں بنایا جاسکا ھے۔ متروکہ سندھ کے بارے میں مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے اپنا موقف دیتے ھوئے بتایا کہ کراچی سمیت متروقہ سندھ اٹھاسی فیصد پر محیط ھے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے معروض پاکستان کے وقت لوئس لارڈ ماؤنٹ بیٹن’ پنڈت نہرو گاندھی اور موہن داس گاندھی کے درمیان متروکہ سندھ کے دستاویزات پر دستخط ھوئے تھے۔ جس میں طے پایا گیا تھا کہ جو سندھ بھر سے ہندو بھارت ہجرت کریں گے انہیں بھارت میں متروکہ املاک دی جائیں گی اور اسی طرح بھارت سے جو ہجرت کرکے مہاجرین آئیں گے تو انہیں ہندؤں کی املاک دی جائیں گی۔ جب دو ملک بنتے ہیں تب جو اراضی کا معاہدہ طے کیا جاتا ھے اسے متروکہ کہا جاتا ھے۔دستاویزات میں لکھا گیا تھا کہ پاکستان میں جہاں جہاں ہندو اور سکھوں کی املاک ہیں وہ متروکہ املاک ہجرت کرنے والے مہاجرین میں منقسم کردی جائیں گی۔ اکثر و بیشتر پی پی پی کے رہنما نثار کھوڑو’ آغا سراج درانی’ سید ناصر حسین شاہ کہتے ہیں کہ سندھ کی تاریخ پانچ ہزار سال پر محیط ہے مگر وہ تاریخ کو مکمل بیان نہیں کرتے وہ یہ نہیں بتاتے کہ ان خطوں پر ہندوؤں کی املاک بلواسطہ و بلاواسطہ اٹھاسی فیصد تھیں جن میں بارہ فیصد مسلمان سندھیوں کے پاس تھیں ان بارہ فیصد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے انگلستان کی وفاداری میں املاک حاصل کیں۔ یہی حال دیگر صوبوں کا بھی رہا لیکن سب سے زیادہ متروکہ املاک سندھ میں تھیں۔ بھارت سے ہجرت کرنے والے مہاجرین کو دھکیلتے دھکیلتے ساحل سمندر کے قریب شہر کراچی پہنچادیا اور پورے صوبہ سندھ بشمول کراچی کی متروکہ املاک پر جابرانہ و ظالمانہ قبضہ بھی کرلیا۔ اس وقت سندھ بھر کی متروکہ املاک کو بڑی سازش و عیاری کے ساتھ ہتھیالیہ گیا۔ ٹپہ داروں کیساتھ حکومتی اراضی میں بڑے پیمانے پر ہیر پھیر بھی کی گئیں۔۔معزز قارئین!! میں نے اپنے استاد مترم جعفری صاحب سے متروکہ سندھ کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ مہاجروں کی سر زمین متروکہ سندھ’ جو صوبہ سندھ کا وہ ساٹھ فیصد حصہ ھے جس پہ آج بھی وڈیرہ قابض ہے!! ہندو سندھ میں ساٹھ فیصد متروکہ زمین چھوڑ کرچلے گئے تھے اور اس کے تبادلہ میں بھارت میں مسلمانوں کی زمین پہ اسے قبضہ ملا تھا۔ ساٹھ فیصد سندھ کی زمین تو سو فیصد مہاجر کا قانونی حق ہے جو اس کو تمام تر شواہد اور قانون کے باوجود اب تک نہیں دیا گیا۔ مسلم سندھی وڈیرہ آج تک اس زمین کو قابو کئے بیٹھا ہے۔ اگر سندھی قوم پرست حمیدہ کھوڑو کو ہی میزان بنایا جائے تو انکی کتاب ” کاغذات برائے علیہدگیِ سندھ از بمبئی ” کے اقتباسات کی روشنی میں تو مسلم سندھی صرف تیس فیصد زمین کا حقدار ہے۔ یہ ہی ساٹھ فیصد وجہ بنا تھا شہری و دیہی کوٹہ کا جب ذولفقار علی بھٹو نے اپنے خبیث کزن ممتاز بھٹو کی معئیت میں مہاجروں پہ سرکاری، اقتصادی، معاشی و تعلیمی حملہ کیا تھا۔ جو سندھی قوم پرست جھوٹ بولتیں ہیں کہ مہاجر نے انکی زمین پہ قبضہ کرلیا۔ آج تک مہاجر قوم پر سرکاری، اقتصادی، معاشی و تعلیمی بندشیں قائم ہیں۔ سچ یہ ہے کہ مسلم سندھی کسی بڑے شہر میں پہلے ہی نہیں رہتا تھا۔ جب رہتا نہیں تھا مالک نہیں تھا تو اس کی زمین پہ قبضہ کیسا۔ یہ شہر ہندو کے تھے جن سے مسلم سندھی نے خود سو سالہ انگریز دور میں اس طرح لڑائی کی کہ کئی بار انگریز کو سندھ میں کرفیو لگانا پڑا۔ سنہ انیس سو انتالیس میں منزل گاہ سکھر میں مولویوں کی مدد سے مقامی مسلم لیگی سندھی مسلمانوں نے ہندؤں پہ جو حملہ کیا تھا اس کے نتیجہ میں ڈیڑھ سو سے اوپر ہندو نہ صرف یہ کہ ہلاک ہوئے بلکہ مقامی وڈیروں نے انگریز جج تک کو پیسے کھلا کر اس سانحہ کے مرکزی ملزموں سائیں جی ایم سیّد، ایوب کھوڑو اور سر عبدالله ہارون کو سزا ہونے سے صاف بجا لیا تھا جس طرح آج سندھی وڈیرہ مہاجروں کو ایک طرف تو یہ کہتا ہے کہ وہ سندھی ہیں اور سندھ کا اہم حصّہ ہیں اسی طرح ماضی میں بھی اپنے مقصد کیلئے ہندو کو سندھ کا اہم رکن قرار دیتے تھے مگر مسلم قومیت کی آڑ میں ہندو سندھی کی زمینوں پہ قبضہ کا خواب بھی دیکھ رہے تھے۔ سندھی وڈیرے کو اندازہ نہ تھا کہ مسلم قومیت کے نام پہ جب ملک بنے گا تو اس طرح سے ظلم و زیادتی ہوگی اور نتیجہ میں بھارت سے مسلم آبادی کا سندھ کی ہندو آبادی سے زمینوں اور جائدادوں سمیت قانونی تبادلہ رونما ہوجائیگا۔سندھی وڈیرے اور قوم پرست نے اپنی خود غرضی میں مہاجر حق کو مارنے کا پلان سنہ انیس سو اڑتالیس میں ہی بنایا لیا تھا اور آج وہ اسی پلان پہ گامزن ہیں۔۔معزز قارئین!! ہمارے اسلام آباد کے دوست نے متروکہ سندھ کے بارے میں بتایا کہ
ایک جانب ریاست پاکستان مقبوضہ کشمیر پر اپنا موقف قائم رکھتا ھے کہ بھارت مسلم اکثریت کو کم کرنے اور جبراً ظالمانہ قوانین کو تمام حقائق کے برخلاف نہتے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر آئے روز سازشوں اور جھوٹ سے بنیادی حقوق تک سلب کیئے ھوئے ہیں جو بین الاقوامی قوانین کی شدید مخالفت ھے یہی عمل اور طریقہ کار صوبے سندھ میں مہاجر قوم کیساتھ جاری ھے۔ انھوں نے بتایا کہ سندھ کے منتخب وڈیروں نے سندھ اسمبلی کے ایوان میں اپوزیشن ارکان کی ہنگامہ آرائی کے دوران صرف پانچ منٹ میں متروکہ وقف املاک ایکٹ منظور کرلیا۔ ایوان سے منظوری کے بعد اب ’’سندھ اویکیو ٹرسٹ پراپرٹی‘‘ مینجمنٹ اینڈ ڈسپوزل ایکٹ کہلائے گا۔ سندھ اویکیو ٹرسٹ بورڈ بارہ رکنی ہوگا۔ بورڈ کے چیئرمین کا تقرر وزیر اعلی سندھ کرینگے۔ تین ارکان سندھ اسمبلی بھی بورڈ کے رکن ہونگے۔ ایکٹ کی منظوری کے بعد وفاقی قانون اویکیو ٹرسٹ "مینجمنٹ اینڈ ڈسپوزل” ایکٹ کا سندھ پر اطلاق ختم ہوجائے گا۔ دوست کا کہنا تھا کہ چور سے کہو ہمارا سامان دے یقیناً پہلے تو چور اپنی چوری پر معترف نہیں ھوگا دوسرا یہ کہ اگر متعرف ھو بھی گیا تو سامان نہ دینے کے سو بہانے کریگا سندھ حکومت کا سندھ اسمبلی میں ایکٹ یہی کچھ ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہر وہ عمل جاری رکھا ھوا ھے جو صوبے کی تقسیم کا باعث بنتا ھے تاریخ کو نہ یہ بدل سکتے ہیں اور نہ ہی قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان کی شکل بگاڑ سکتے ہیں مزید برآں انھوں نے بتایا کہ اگر سیاسی جائزہ بھی لیا جائے تو ان کی منفی ذہنوں کی سازشیں عملی طور پر عیاں ھوچکی ھے۔ پاکستان میں کوئی قوم دوسری قوم کے حو پر ڈاکہ زیادہ عرصہ نہیں ڈال سکتی اسے یوں سمجھیئے کہ ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کے حقوق کا جب تک احترام رکھتا ھے وہ دونوں سکون سے رہتے ہیں مگر کوئی خود غرضی لالچ چوری ڈکیتی کرے تو اس کا انجام آپ سمجھ سکتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے متروکہ املاک کو بدنیتی کی بنیاد پر تبدیل کرنے کی جو کوشش کی ھے اس وجہ سے اب صوبہ کی تقسیم ناگزیر بن چکی ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! امریکہ میں مقیم ہمارے دوست ڈاکٹر ندیم رضوی صاحب نے متروکہ سندھ پر بات کرتے ھوئے اس کی حقانیت کو کھول کر رکھ دیا وہ کہتے ہیں کہ متروکہ سندھ کا معاملہ نہ آئینی ھے اور نہ ہی قانونی کیونکہ یہ تبادلہ املاک اراضی تھا ان کے درمیان جنھوں نے ہجرت کی۔ متروکہ سندھ چالیس فیصد پر تھا اور ھے جبکہ ساٹھ فیصد میں تیس فیصد سندھی ہاریوں نے گروی کی تھیں جن کی رقم انہیں ادا نہیں کی گئیں اسطرح سندھ کے غریب کسان بھی وڈیروں’ جاگیرداروں کے ظلم کا شکار رہے ہیں اور اب تک ہیں۔ انھوں نے واضع کیا کہ صوبے سندھ میں خیرپور میرس ریاست شامل نہیں تھی۔سنہ انیس سوچھیالیس میں تیس فیصد متروکہ سندھ کی املاک کو معاف کرانے کیلئے سندھ کے وڈیروں جاگیرداروں نے قائداعظم محمد علی جناح سے کہا جس پر آپ سخت برہم ھوئے اور ان کی اس درخواست کو خارج کردیا کیونکہ یہ تیس فیصد غریب کسانوں کی املاک ہیں۔ سنہ انیس سو ستر کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے اسی تناسب سے مہاجروں کا چالیس فیصد کوٹہ متعین کیا لیکن افسوس اس پر بھی قدغن لگاتے ہوئے حقوق سلب کرلیئے گئے جو سندھ حکومت کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ھے۔ پاکستان سے بھارت کی جانب ہجرت کے وقت ہندؤں کی تعداد تقریباً ستائس فیصد تھی اور اسی قدر مسلمان بھارت سے پاکستان آئے۔ موجودہ دور میں مردم شماری میں ہمیشہ کی طرح مہاجروں کی آبادی پر بے پناہ کٹوتی کرتے چلے آرہے ہیں اگر صرف مردم شماری اور چالیس فیصد کوٹہ کو بھی درست رکھتے تو جو آج نیا صوبہ جنوبی سندھ ناگزیر بن چکا ھے یہ صورت حال پیدا نہیں ھوتی میں سمجھتا ھوں کہ پاکستان پیپلز پارٹی اب بھی ہوش کے ناخن لے اور عدل و انصاف کے تقاضے کو ملحوظِ خاطر رکھتے ھوئے نظام حکومت کو درست سمت میں لے آئیں تو سندھ کے حالات بہتری کی جانب بڑھیں گے اور باہم عدل و انصاف سے صوبہ سندھ ترقی کی جانب بڑھے گا اور امن و امان کی فضا قائم رہے گی کیونکہ "کفر کی حکومت تو چل سکتی ھے مگر ظالم کی نہیں”۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You