کالم/مضامین

*عنوان: قرآن ، تحقیق کی گہرائی تک ۔۔۔!!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: قرآن ، تحقیق کی گہرائی تک ۔۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

آج کے مولوی ملا مفتی اور علماء یہ کہہ کر ایک عام مسلمان کو روک دیتے ہیں کہ تم صرف ہماری بات سنو اور من و عن یقین کرلو بصورت اختلاف و حجت تمہارا ایمان زائل ھوجائیگا اور تمہیں خبر تک نہ ہوگی پھر تمہیں تجدید ایمان کرنا پڑیکا یہی بات اس سے زائد ٹھیکیداران اسلام نے کہی کہ تنقید اعتراض اور مخالفت کی راہ اختیار نہ کرنا چاہے تم سو فیصد درست ہی ھو کیونکہ آج کے زمانے میں مسلمان منسقم ھے جس کی اکثریت دولت اور اثر رسوخ ہیں وہی معتبر اعلیٰ اور مقدس و مقدم سمجھا جاتا ھے یاد رکھنا کہ اپنی تحریر لکھتے ہوئے اس بات کا ضرور احتیاط برتنا اور سوچ سمجھنا کہ جن کے متعلق تم لکھنا چاہ رھے ہو انکے عقیدت مندوں مریدوں اور چاہنے والوں کی تعداد بیشمار ھے اور یہ عقل سے عاری سوچ سمجھ سے خالی صرف جذباتی اور جاہلیت کے کوزے میں مقید ہیں۔ ان اسلام کے ٹھیکیداروں کو بتایا کہ کیا تم اور تمہارے چاہنے والوں نے دین محمدی ﷺ کا مکمل مطالعہ کیا یا صرف مسلکی قید و حدود تک رھے۔ دین محمدی ﷺ تو نبی نوع انسان کیلئے آیا ھے اسی لئے رب العزت نے اپنی مقدس و معتبر الہامی کتاب قرآن المجید و الفرقان الحمید میں واضع طور پر اللہ نے اپنے بندوں کو زمین و آسمان اور کائنات میں رب العزت کی قدرت کو دیکھنے سمجھنے تلاش کرنے کا حکم دیا اور اطاعت رسول ﷺ پر پابند رکھا۔ آپ ﷺ نے بناء مسلک ہم مسلمانوں کو دین محمدی ﷺ عطا کیا اور آپ ﷺ کا دین اسلام آپ ﷺ کے بیٹے محمد بن عبداللہ وہی دین محمدی ﷺ پوری دنیا میں پھیلائیں گے۔ محمد بن عبداللہ کے ظاہر ھونے کے بعد تمام دنیا کی روحانی و دنیاوی اسلامی مرتبات آپ محمد بن عبداللہ کے تابع ہوجائیں گی کیونکہ آپ کی آمد پر امامت مکمل ہوجائے گی اور آپ محمد بن عبداللہ کیساتھ حکم ربانی کے تحت حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسولِ خدا ﷺ کے امتی کے طور پر آئیں گے اور محمد بن عبداللہ کیساتھ دین محمدی ﷺ کو پھیلانے اور شیاطینی ابلیسی و دجالی قوتوں کیساتھ ساتھ دجال اور دیگر خبیث اقوام سے جہاد کریں گے۔ اللہ کے پیارے رسول آخری الزمان محمد مصطفیٰ ﷺ کے حسب و نسب طرفین سید محمد بن عبداللہ کے بارے میں اور انکی آمد سے قبل کے حالات آپ ﷺ نے چودہ سو سال قبل ہی بتادیئے تھے۔ اپنے بیٹے کو زمانہ کا آخری امام آپ ﷺ نے ہی بتایا ھے جسے آج ہر فرقہ ہر مسلک محمد بن عبداللہ املعروف امام زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے نام سے جانتا پہچانتا ھے۔ آج کے عالم اسلام اور بلخصوص پاک و ہند کے مسلمانوں کی حالت دیکھ کر ہمارے دوست محقق معلم افتخار احمد قریشی میرپورخاص نے تحریر بھیجی وہ یہ تھی ”مولانا اور نام نہاد اسلامی مسالکی و فرقہ ورانہ تعلیمات نے قرآن پاک کی حقیقی و سائنسی تعلیمات کو دیو مالائی بنا کر رکھا ہوا ہے کہ جس سے مظاہر قدرت اور انکے اندر موجود نظام و انتصرام کو سمجھنا بہت مشکل ہوگیا ہے! کائنات کے اندرونی نظام اسکے وسائل توانائی قوانین فطرت اور سیکیورٹی وغیرہ کو سمجھنے کیلئے مولویانہ طرز فکر سے باہر نکل کر قوانین طبیعیات و کیمیا فلکیات و خلائیات کے مطالعہ کی شدید ضرورت پڑتی ہے! مثلاً قرآن کریم کا فرمان ہے: قیامت کے دن اللہ کے عرش کو آٹھ فرشتے تھامے ہوئے ہونگے! مولویانہ ذہن سمجھتا ہے کہ ایک تخت ہے جسے آٹھ فرشتے پکڑے ہونگے جبکہ یہاں عرش سے مراد اللہ کی کل تخلیق کردہ کائنات کے نظام کو آٹھ ستون نما الگ مظاہر نے ثقلی یا مابعد الثقل قوتوں سے تھاما ہوگا یا اس وقت بھی پکڑ رکھا ہوگا! ”عرش وہ نظامت کائنات جہاں رب تعالی کا حکم رائج ہو!“یعنی یہ کسی تخت کا نام نہیں ہے! اور نہ ہی آٹھ فرشتے اسے اس طرح پکڑے کھڑے ہونگے کہ اللہ اس پر متمکن ہو اور حساب جاری ہو! اسی طرح فرشتہ کی تعریف بھی قرآن کے بیان میں نظاموں کی سرعت میں تحریک اور تحریک میں مستعمل توانائی سے مشابہہ سمجھی جاسکتی ہے۔ جیسے جبرائیل امین علیہ السلام کی سرعت حرکت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خون کا قطرہ زمین کی جانب گر رہا تھا اس کے گرنے سے پہلے پہنچنا! تخت بلقیس لانے کیلئے اک تحریک وغیرہ۔ ان مظاہر کو سمجھنے کیلئے سائنسی علوم ناگزیر ہیں! اللہ نے فرشتوں اور تمام مخلوقات کو اپنے نور سے خلق فرمایا ہے البتہ امر کی نوعیت کے فرق سے بناوٹ میں فرق ہوجاتا ہے! جنات یا آگ بھی اللہ کا نور ہیں یہ الگ بات ہے کہ ان کی فطرت انسان کیلئے تکلیف کا سبب ہے !“یہ میرے دوست کئی تحقیقی دینی مقالہ جات اور کتب لکھ چکے ہیں انکا کہنا ھے کہ من حیث الامت ہر مسلمان کو قرآن کو روزانہ پڑھنا سمجھنا اور غور کرنا چاہئے کیونکہ قرآن کسی مولوی مفتی علماء تک کیلئے محدود نہیں اور نہ ہی علم کسی کی میراث ھے۔ ہمارے بہت ہی پیارے استاد نما دوست ڈاکٹر عبدالجبار بھی کہتے ہیں کہ دکھ ھے کہ ہم امت محمدی ﷺ سے امامت کے متعلق پوچھا جائیگا کہ ھم نے کس قدر اپنی زندگی کو قرآن احکامات رسول ﷺ اور اسوہ حسنہ کے تحت گزارا۔ کیا جینے کیلئے کھانا پینا اور سو جانا ہی کافی ھے اگر ایسا ہوتا تو وہ شہنشاہ دوجہاں مالک کونین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے کئی کئی دن فاقہ کشی بھی کیں اور اسی حالت میں کفار و مشرکین کیساتھ جہاد بھی کیا۔ آج امت مسلمہ کو تبیلغ سے زیادہ جہاد کی ضرورت ھے ستاون ممالک غفلت کی نیند سورھے ہیں اور کفار و مشرکین فلسطین و کشمیر پر ستر سال سے زائد خون ریزی تباہ و بربادی کے کھیل میں مست ھے یہ کفار و مشرکین جان چکے ہیں کہ امت مسلمہ دنیا پرستی نفس پرستی اور خوفِ موت کے مرض میں مبتلا ہوچکی ھے۔ یہی سبب ھے کہ ستاون مسلم ممالک میں ایمان ڈھونے سے نہیں ملتا اور اگر پاکستان کی بات کی جائے تو ایمان تو ایمان یہاں انسانیت تک ختم ھوچکی ھے جنکے یہ مسلمان مقلد ہونے پر فخر کرتے ہیں ان غیر مسلم ممالک میں کم از کم انسانیت اخلاقیت کا عملی کردار تو موجود ھے۔ ہم کہاں جارھے ہیں اور ہمیں کہاں ہونا چاہئے اس کیلئے آج سب سے زیادہ قرآن کی تحقیق گہرائی تک ناگزیر ھوچکی ھے اب بھی وقت نہیں گزرا سنبھل جائیں اور خود کو اپنی نسلوں کو قرآن فہمی کی جانب مرکوز کرلیں اس سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ قرآن پاک سے لگاؤ اور محبت بڑھے گی دوسرا یہ کہ رب العزت کے پوشیدہ راز عیاں ہونگے تاکہ رب العزت سے اور والہانہ محبت و جنون اور عشق بڑھے تیسرا یہ کہ غیر مسلموں کو اللہ واحد لاشریک کی جانب مبذول کرانے میں آسانی پیدا ہوسکے چوتھا یہ کہ اس عمل سے خود کی دونوں جہاں کی زندگی کامیاب و کامران ہوسکے، مانا کہ یہ کام ریاست حکومت کا ھے کہ وہ اپنی اپنی قوم میں قرآنی تحقیقی عوامل کو اجاگر کرنے کیلئے مراکز بہم فراہم کرے جن میں کتب کمپیوٹرز معلمین اور محققین شامل ہوں۔ پاکستان میں یوں تو ہزاروں نہیں بلکہ کڑوروں مدرسہ و دارالعلوم ہر ایک مسلکی فرقہ نے بنادیئے لیکن کسی کو بناء مسلک و فرقہ مسلمان نہیں بنایا کیونکہ یہ تمام کے تمام کنویں کے مینڈک ہیں نہ خود کنویں سے نکلنا چاہتے ہیں اور نہ دوسروں کو نکلنے دیتے ہیں اس بابت حکومت وقت کو سوچنا اور احکامات جاری کرنا چاہئے یاد رکھئے یہ مدارس و دارلعلوم قرآنی تحقیق پر ہرگز کام نہیں کرتے البتہ آمدن کیلئے مسالک و فرقہ کا چورن مختلف انداز مختلف طریق اور مختلف رنگ سے بیچا جاتا رھا ھے دعا ھے کہ اللہ مجھ سمیت تمام امت کو حقیقی ایمان عطا فرماے اور خادمین دین کیلئے منتخب کردے آمین یا رب العالمین۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You