*عنوان: قادیانیوں سے نرمی، دین محمدی ﷺ سے بخاوت ھے۔۔۔۔!!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: قادیانیوں سے نرمی، دین محمدی ﷺ سے بخاوت ھے۔۔۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*
ہر دور میں کج فہم، بد باطن اور مغرور افراد پائے جاتے رہے ہیں جو اپنی خباثت ذہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیکر انسانیت، رحمۃ للعالمین ﷺ کی شان میں کسی نہ کسی طرح کی گستاخی کا ارتکاب کردیتے ہیں، ان ناعاقبت اندیشوں نے پیارے نبی ﷺ کا تو کچھ نہیں بگاڑا البتہ اس قسم کے عمل سے انہوں نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری، اور کیفر کردار کو پہنچے۔ انہیں بدبخت ذلیل، مردود اور ناجائز اولادوں میں برصغیر سے تعلق رکھنے والا ملعون، ملحد، ذندیق، فاسق، غیرمذہب، لادین مرزا غلام احمد قادیانی بھی گزرا ھے جسکی موت نجس خانہ میں نجس حالت میں واقع ہوئی، جسکی شر انگیزی اور دین محمدی ﷺ پر دشمنی نے ہمیشہ مسلم ریاستوں اور نو مسلموں کو بھڑکانے گمراہ کرنے اور نئی نسل کو اپنی دوشیزاؤں و دولت کے ذریعے مجبور کمزور معاشی کمزور عقیدہ اور کمزور ایمان والوں پر حملہ کرتے چلے آرھے ہیں اسی سبب آج کی نسل اور پارلیمینٹیرین و سیاستدانوں کی آگاہی معلومات کیلئے حقائق پر مبنی تحقیقی کالم پیش خدمت ھے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! ملعون ذندیق ملحد لادین و غیر مذہب مرزا قادیانی کی پہلی بیوی سے بتیس سال میں صرف دو بچے پیدا ہوئے جبکہ مرزا قادیانی کی دوسری بیوی سے چوبیس سال میں دس بچے ہیدا ہوے کیسے؟ جبکہ مرزا قادیانی کی شادی ہوئی تھی تو اس کو یقین تھا کہ وہ نامرد ہے. بحوالہ ”مکتوبات احمدیہ جلد پانچ نمبر دو، صفحہ اکیس، مکتوب نمبر چودہ“اس کا نام حرمت بی بی تھا۔ اس سے اٹھارہ سو باون یا تریپن عیسوی میں شادی ہوئی. پہلی بیوی سے مرزا قادیانی کے دو بیٹے تھے۔ اوّل مرزا سلطان احمد دوئم مرزا فضل احمد۔ ان دونوں بیٹوں نے مرزا قادیانی کو دعوی نبوت میں کذاب سمجھا تھا۔ مرزا فضل احمد، مرزا قادیانی اپنے باپ کی زندگی میں مر گیا لیکن مرزا نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔ بحوالہ”روزنامہ الفضل قادیان سات جولائی سنہ انیس سو تینتالیس عیسوی ص نمبر تین“مرزا قادیانی کی دوسری بیوی نصرت جہاں ایک رنگین مزاج عورت تھی۔ بیوی صاحبہ مرزا جی کے مریدوں کو ساتھ لے کر لاہور وغیرہ سے کپڑے بھی خود ہی خرید لایا کرتی تھیں۔ بحوالہ”کشف الظنون مرتبہ ڈاکٹر بشارت احمد صفحہ اٹھاسی“نصرت جہان سے شادی؛ دوسری بیوی جس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے اس سے نکاح سنہ اٹھارہ سو چوراسی عیسوی میں ہوا. "نصرت جہاں بیگم کے متعلق مرزا قادیانی نے خود اعتراف کیا ہے کہ لوگ میری بیوی پر الزام لگاتے ہیں کہ اس کی میرے بعض مریدوں سے آشنائی ہے.” بحوالہ”روحانی خزائن جلد چودہ صفحہ ایک سو ستانوے تا دو سو تین “۔ مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے لکھا ہے کہ ”کیا وجہ ہے کہ حکیم نور الدین اور عبدالکریم سیالکوٹی باقی قادیانی جماعت کے برعکس نصرت جہاں بیگم کو ” ام المومنین ” کی بجائے "بیوی صاحبہ” کہتے تھے؟“بحوالہ”سیرت المہدی جلد اوّل حصہ اوّل صفحہ تریسٹھ روایت نمبر ستاتر طبع جدید سنہ دو ہزار آٹھ عیسوی ص نمبر چھپن“”نصرت جہاں سے مرزاقادیانی کی اولادیں”
مرزا قادیانی کی دوسری بیوی نصرت جہاں سے درج ذیل اولاد ہوئیں۔ ” لڑکے ” ۔۔۔۔۔اوّل: مرزا بشیر احمد سنہ اٹھارہ سو ستاسی تا سنہ اٹھارہ سو اٹھاسی عیسوی۔ دوئم: مرزا بشیر الدین محمود احمد سنہ اٹھارہ سو نواسی تا سنہ انیس سو پینسٹھ عیسوی۔ سوئم: مرزا شوکت احمد سنہ اٹھارہ سو اکیانوے تا سنہ اٹھارہ سو بیانوے عیسوی۔ چہارم: مرزا بشیر احمد ایم اے سنہ اٹھارہ سو تیرانوے تا سنہ انیس سو تریسٹھ عیسوی۔ پنجم: مرزا شریف احمد سنہ اٹھارہ سو پچانوے تا سنہ انیس سو اکسٹھ عیسوی۔ ششم: مرزا مبارک احمد سنہ اٹھارہ سو ننانوے تا سنہ انیس سو آٹھ عیسوی۔ ” لڑکیاں” ۔۔۔۔ اوّل: عصمت سنہ اٹھارہ سو چھیاسی تا سنہ اٹھارہ سو اکیانوے عیسوی۔ دوئم: مبارکہ بیگم سنہ اٹھارہ سو ستانوے تا سنہ انیس سو ستانوے عیسوی۔ سوئم: امتہ النصیر سنہ انیس سو تین تا سنہ انیس سو تین عیسوی۔ چہارم: امتہ الحفیظ بیگم سنہ انیس سو چار تا سنہ انیس سو ستاسی عیسوی۔ بحوالہ دیکهے حسب نامہ مرزا سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ ایک سو سولہ روایت ایک سو انتیس طبع جدید سنہ دو ہزار آٹھ عیسوی صفحہ ایک سو چار روایت نمبر ایک سو اٹھائیس حصہ دوئم صفحہ ایک سو پچاس روایت نمبر چار سو سرسٹھ طبع جدید روایت نمبر چار سو ستر صفحہ نمبر چار سو بیالیس۔ مرزا قادیانی کا جب نصرت جہاں سے نکاح ہوا تو مرزا کے پاس نقدی دو اڑھائی سو روپے تھے کوئی زیورات نہیں تھے جو نصرت جہاں کو پہنائے جب نصرت جہاں کی رخصتی ہوئی صرف ایک صندوق میں کچھ سامان تھا جس کی چابی مرزا قادیانی کو دی گئی تھی بحوالہ اس کیلئے دیکھیں حیات ناصر صفحہ آٹھ مولف شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی اور سیدہ نصرت جہاں بیگم صفحہ دو سو پانچ مولف شیخ محمود عرفانی قادیانی ۔۔۔ مرزا قادیانی بیوی کے پاس اتنے زیورات اور روپیہ کہاں سے آیا؟؟ مرزا قادیانی کے اپنے بیان کے مطابق حال ہی میں اس نے اپنا باغ اپنی زوجہ یعنی دوسری بیوی مسماۃ نصرت جہاں بیگم کے پاس گروی رکھ کر اس سے چار ہزار روپیہ کا زیور اور ایک ہزار روپیہ نقد وصول پایا ہے تو جس شخص کی عورت اس قدر روپیہ دے سکتی ہو اسکی نسبت گمان گزرتا ہے کہ وہ مالدار ہوگا ” بحوالہ خزائن جلد تیرہ صٖفحہ پانچ سو سترہ۔ مرزا قادیانی کی بیوی نسرت جہاں کے پاس جو زیورات تھے ان کی کل رقم تین ہزار پانچ سو پانچ روپے ہے۔ بحوالہ”قادیانی نبوت صفحہ نمبر پچاسی“ اس زمانہ میں سونا تقریباً بیس روپے تولہ تھا اب اس زمانہ سے خود ہی مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کے زیورات کی مالیت کا اندازہ لگالیں نصرت جہاں بنا روپے پیسے اور زیورات کے بیاہ کر آئیں پر اتنی دولت اور زیورات کہاں سے آئے قادیانی اس کا جواب دیں۔؟؟ قادیانی شرانگیز فتنہ گروہ کے ماننے والے اس قدر عقل و شعور سے عاری ہوچکے ہیں کہ انہیں مرزا قادیانی کی کذابیت جعل سازیاں اور فرنگیوں کی آلہ کاری سمجھ کیوں نہیں آتی۔ ضروری نہیں کہ تمام قادیانی کے دلوں اور سوچوں میں حقائق کی تلاش کا مادہ نہ ہو یہ ھم غلامان رسول ﷺ اور خادمین رسول ﷺ پر فرض اولیت ھے کہ قادیانی نئی نسل کو حقیقی آئینہ دکھائیں تاکہ وہ سچے مسلمان بن کر دوزخ سے نجات اور جنت کے والی بنیں۔ یہاں مختصر عرض ھے کہ مرزا قادیانی کے پیروکار جو اپنے جسم و روح سے عقل و شعور، سوچ و افکار کو مار کر اوندھے گڑھے سے باہر ہی نہیں نکلنا چاہتے ایسوں کیساتھ جہاد کا حکم ھے اور جنکے دل و دماغ میں تھوڑی بھی لگن اور ایمان کی جستجو ھے انہیں حقیقی قرآن فہمی سے روشناس کرایا جائے تاکہ وہ صراط المستقیم پر گامزن ہوسکیں یاد رکھیں کہ قادیانی تمام کافروں، غیر مسلموں، یہویوں، نصاریوں، بت پرستوں اور مشرکوں سے کئی گناہ دین محمدی ﷺ کے بد ترین دشمن ہیں انکے ہر وار، ہر حملہ، ہر شر اور ہر ابلیسی منطق سے بچنا لازمی ھے کیونکہ انکا سب سے بڑا ہدف ایمان پر حملہ کرنا مقصود رہتا ھے۔ ابلیس شیطان اور دجال و دجالی چیلوں کی سب سے زیادہ پیروی یہی کرتے ہیں۔ جان لیجئے کہ کوئی بھی مسلمان اگر ان سے ہمدردی، رحمدلی، رعایت، اور نرم گوشی برتتا ھے تو وہ رسول خدا ﷺ سے غداری اور آپ ﷺ کے دشمن کو دوست بنا رھا ھے ایسے کوئی بھی مسلمان نہ ریاست کے مخلص، نہ دین کے مخلص اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کے مخلص ہوتے ہیں۔ قادیانیوں سے نرمی دین محمدی ﷺ سے بخاوت ھے اور بغاوت کا انجام و سزا خود دین محمدی ﷺ نے متعین کی ہوئی ھے تمام عدالتیں اور قوانین اور پارلیمینٹیرین آئین و دستور اللہ اور اسکے حبیب ﷺ کے حکم کے سامنے بے معنی بے وقعت ہیں ۔۔۔۔۔!!



