کالم/مضامین

عنوان: صحافت کے لبادہ میں کالی بھیڑیں۔۔۔۔ !!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: صحافت کے لبادہ میں کالی بھیڑیں۔۔۔۔ !!

کالمکار: بیدار ھونے تک

اس میں کوئی شک نہیں کہ سابق صدر و ریٹائرڈ جنرل سید پرویز مشرف نے آزادی رائے آزادی صحافت کو اخلاق و قانون کے دائرے میں رھتے ھوئے کھلا میدان فراہم کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں نئے باب کا دریچہ روشن کیا کہ صحافت کو حکومت کے پنجے سے آزاد نجی سطح پر پرواز کرنے کی راہیں میسر دیں یہی نہیں بلکہ لاکھوں روزگار کے مواقع فراہم کئے۔ پیمرا کو وجود میں لانے کے بعد نئے الیکٹرونک چینلز کی دوڑ شروع ھوگئی، اشاعتی اداروں کی بہتات ھونے لگی اور زمانے کے مطابق یوٹیوب چینلز کی قطاریں لگ گئیں ان راہوں کو دیکھتے ھوئے صحافت سے نابلند دولت اور ناجائز امور کی تکمیل کیلئے چور دروازوں سے داخل ھوگئے بیشتر تو ایسے ھیں جنہیں خبر کی ایک لائن تک لکھنا نہیں آتی اور بیپر کے انٹرو و ایکسٹرو کی تمیز تک نہیں حیرت و تعجب کی بات یہ ھے کہ کچھ چند ایک پروفیشنلز نے اپنی پروفیشنلز جلن میں ایسے تلوہ پوشوں کی کمر پر خوب تھپکیاں دیں آخر نتیجہ صحافت کے جنازہ کی صورت میں ملا، اہل و قابل کو پیچھے دھکیلنے سے جہاں ناانصافی نے سر اٹھایا وہیں معیار اور ماحول بھی پرگندہ ھوا ۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! ایک دوست اس بابت کہتے ھیں کہ صحافتی میدان میں دو دو ہزار میں لائسنس حاصل کرنے والے بیروزگاروں کے ٹولیوں نے معاشرے کو نوچ کھانے کا کام جاری رکھا ہوا ہے ان ٹولیوں میں غنڈے، قبضہ مافیا، منشیات فروش، بلیک میلر یہاں تک جسم فروشی کے دھندے میں ملوث افراد جن کو کسی اور نام سے بھی پکارا جاتا ہے جو یہاں مینشن کرنا بھی اچھا نہیں لگتا ان سب نے ڈیرہ ڈال رکھا ہے جب کہ حقیقی صحافیوں میں جگہ نا بننے کے باعث سب نے اپنی اپنی دکانیں مختلف ناموں سے کھول لی ہیں اور ان دکانوں میں بیٹھ کر کبھی انتظامیہ کو بلیک میل تو کبھی ان کی سنی کرنے میں مصروف عمل پائے جاتے ہیں۔ کالے کردار کے لوگ اس وقت معاشرے کو نوچنے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ کالے کردار کے حامل یہ بھول رہے ہیں کے اس معاشرے میں حقیقی صحافی جو کے معاشرے کے علمبردار ہیں اب بھی موجود ہیں جو ان کالے کتوں کی رستا روکے رکھیں گے اور انکے کردار کو آشکار کرکے انکی ذلت کا باعث بنیں گے۔ اس وقت تمام حقیقی صحافیوں کی ذمہداری بنتی ہے کہ اس قسم کے ناسوروں کے خلاف علم جہاد بلند کریں اور ان بنا لائسنس سو کالڈ صحافیوں کو نکال باہر کریں۔۔۔۔ معزز قارئین!! حقیقت تو یہ ھے کہ ان کالے کرتوت والے کالی بھیڑیں صحافت کو دبوچ چکی ھیں دیکھا یہ بھی گیا ھے کہ مافیاء انداز میں کئی ایسے ایسے تنظیمی سطح پر عہدوں پر برجمان بھی رھے کہ کچھ انجانے میں سیدھے سادھے صحافیوں نے منصب کیلئے منتخب بھی کیا۔ ان جیسے بھیڑیوں کی ہوس و لالچ کے سبب ایک جانب ملکی سطح پر صحافت بد نام ھورھی ھے تو دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر انتہائی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ھے البتہ مالکان کو ان جیسے تلوہ گری والے نہایت پسندیدہ ھیں وہ ان جیسوں سے ان جیسے کام کراتے ھیں یاد رھے جمعدار گندی صاف کرتا ھے اسی لیئے جمعدار سے یہی کام کراتے ھیں کالی بھیڑیں بھی جمعدار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ بحرحال اب بھی وقت ھے کہ منصب اعلیٰ پر جو بھی پروفیشنل صحافی یا پروفیشنل میڈیا پرسن ھیں خدارا اہلیت و قابلیت کو فوقیت دیتے ھوئے قابل صحافی و میڈیا پرسن کو حق دیں تاکہ یہ انڈسٹری صاف و شفاف ماحول میں ترقی کی راہ پر بہتر انداز سے گامزن ھوسکے۔۔۔۔۔۔ !!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You