کالم/مضامین

*عنوان شخص سے شخصیت تک کا سفر*

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

*عنوان شخص سے شخصیت تک کا سفر*

*‏یہ الگ بات ہے خاموش کھڑے رہتے ہیں*
*پھر بھی جو لوگ بڑے ہیں وہ بڑے رہتے ہیں*

بابر کیانی بیورو چیف جہلم سے بات کرتے ہوئے کالم نویس وقاص عارف کیانی سوھاوہ نے اظہار کیا کہ
آج ہم جس دور سےگذر رہے ہیں یہ دور دو مختلف ادوار کا امتزاج ہے آج ان احباب کی بہت سی تعداد حیات ہے جنھوں نے دونوں ادوار کو باخوبی دیکھا ہے پہلے دور پر فخر اور نئے دور پر افسوس کے جذبات دیکھنے کو بھی ملتے ہیں
ایک دور تھا جب وقت ہوتا تھا لوگ آپس میں بیٹھ کر گھنٹوں گفتگو کرتے تھے
آپس کی لازوال محبتیں تھیں
محبت ، حیاء ، اور احساس کا یہ عالم تھا کہ
گاؤں کا ہر بڑا فرد ہر کسی کا بڑا ہوتا تھا ہر بچہ ہر کسی کا بچہ ہوتا تھا
اس دور میں سخاوت تھی اس دور میں پردہ پوشی تھی
تب حیاء تھی تب وفا تھی تب ادب تھا تب احترام تھا اور اس وقت ایک ایسا جذبہ بھی تھا جس جذبے کو ان سب جذبات کی *ماں* کہوں گا
جی ہاں ایک جذبہ جس کو اردو دان *احساس* کا نام دیتے ہیں تب احساس تھا اور مائیں جنم دیتی تھی ان بچوں کو جو ماں کی درس گاہ سے تربیت لے کر ایسی عظیم شخصیات بنتی تھیں جو مفلوک الحال احباب کے لئے رب العالمین اور مخلوقِ خدا کے درمیان وسیلہ بن جاتے ہیں
اسی احساس کی بدولت دنیا میں پاکستان کو ایک فلاحی ریاست کے طور پر بھی جانا جاتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جب بھی پاکستان یا کوئی مسلم ملک کسی بڑی قدرتی آفت کا شکار ہوا پاکستان اور پاکستانی قوم نے ہمیشہ بحثیت قوم پاکستان کا وقار سربلند کیا یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی ماؤں نے ہردور میں ہر خطے میں عبدالستار ایدھی جیسے احباب کو جنم دیا ہے
عبدالستار ایدھی کی طرح بہت سے احباب پاکستان کے طول و عرض میں میسر ہیں جن کا نام لیتے ہی ایک عظیم تصور سامنے آ جاتا ہے جو تصور فلاح وبہبود ، درد انسانیت ، تعلیم و تربیت ، حسن اخلاق کا مجسم مجموعہ ہوتا ہے
اس پہلے دور کے احباب جن جذبات سے لبریز ہوتے تھے ان میں سے بیشتر رفتہ رفتہ مفقود ہوتے گئے اور باقی مفقود ہو رہے ہیں اور اگر ان کو بچانے کا ساماں نہ کیا گیا تو وہ وقت انتہائی قریب ہے جب صرف *میں* (انا) رہ جائے گی نہ محبت ہو گی نہ حیاء نہ وفا نہ احساس
اس درمیانی دور میں ہم جی رہے ہیں جو ان جذبوں کو دفنانے کا کردار ادا کر رہے ہیں
ان کو بچانے کی ضرورت ہے
ان کا امین بننے کی ضرورت ہے اپنا آپ، اپنا معاشرہ، اپنی روایات، اپنی اقدار کو بچانے کی ضرورت ہے
یہ ممکن ہے جی ہاں بلکل ممکن ہے
آج ایک اہم شخصیت کو آپ کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ ہے وہ شخصیت مذکورہ بالا جذبات کی مجسم روشن مثال ہے
ان سے مل کر احساس ،محبت ، وفا ،حیا ، اپنائیت ، سخاوت ،کشادہ دلی ، اور بڑے پن کا مفہوم سمجھ آتا ہے
ایک ایسی شخصیت جس نے لڑکپن میں ہی شخص سے شخصیت تک کا کٹھن سفر طے کر لیا جس سفر کے لئے بیشتر احباب کی ذندگی گذر جاتی ہے۔

ایک فرد جس نے ایک ادارہ بن کر ایک ادارے سے بڑھ کر زمہ داریاں نبھائی ہوں ایک نام جس نے اپنے نام کے مفہوم کو وجود دے دیا ہے

🌸 *راجہ محمد شیراز کیانی*🌸

مجاھدوں کی سر زمین پوٹھوہار کے ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ کے نواحی گاؤں کرونٹہ سے تعلق رکھنے والے لمبردار آف سرأے راجگان راجہ لہراسب خان گکھڑ کے گھر پیدا ہونے والا بچہ جس کا نام محمد شیراز رکھا گیا
تب کون جانتا تھا کہ یہ بچہ اپنے خطے کا وقار بنے گا
یہ بچہ محبت اور احساس کو ایک نیا وجود ایک نیا رنگ دے گا
یہ اپنی قوم کا نام ایسے اجاگر کرے گا کہ اس جیسی مثال تلاش بسیار سے بھی نہ ملےگی

جی ہاں جنوری 1952 میں لمبردار آف سرأے راجگان راجہ محمد لہراسب خاں گکھڑ کے گھر اللہ کریم کی طرف سے خصوصی کرم ہوا اور ایک بیٹے کی نعمت سے لمبردار صاحب کو نوازا گیا جن کا نام راجہ محمد شیراز کیانی رکھا گیا آپ کی پیدائش سوہاوہ کے نواحی گاؤں سرأے راجگان میں ہوئی
آپ تین بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں اسکے علاؤہ آپ کی دو ہمشیرہ ہیں

*شیراز* کے لفظی معنی
*محبت کرنے والا خیال رکھنے والا*
جیسا کے اوپر ذکر کی گیا ہے کہ *ایک نام جس نے اپنے نام کے مفہوم کو وجود دے دیا*

مقاصد کی شروعات اور شخص سے شخصیت تک کے سفر کی بچپن میں تکمیل آپ کو اس واقعہ میں نظر آئے گی آپ کو محسوس ہو گا کہ

*پھر بھی جو لوگ بڑے ہیں وہ بڑے رہتے ہیں*

گو کہ آپ ایک خاموش طبیعت کے مالک ہیں لیکن آپ کی گفتگو میں جتنی اپنائیت ،محبت اور مٹھاس محسوس ہوتی ہے اس کی نظیر ملنا محال ہے
واقعہ راجہ محمد شیراز کیانی صاحب کی ذبانی پیش خدمت ہے آپ فرماتے ہیں کہ
ہر بچے کی طرح مجھے بھی اپنی ماں سے شدید محبت تھی لیکن تھوڑا شعور آنے پر *احساس* ہوا کہ صرف آپ کو جنم دینے والی عظیم عورت آپ کی ماں نہیں ہے بلکہ یہ دھرتی بھی ماں کا درجہ رکھتی ہے
صرف خونی رشتے دار ہمارے رشتے دار نہیں ہیں بلکہ اہل علاقہ بھی ہمارا کنبہ ہیں ہمارے رشتے دار ہیں
اور اس احساس کا بھرپور احساس مجھے عمر کے چھوٹے سے حصّے میں تب ہوا جب میں گاؤں سے بازار کچھ خریدنے کے لیے گیا تو
*ایک بچے نے کچھ بچنے کے لئے چند اشیا ہاتھ میں اٹھائے میری طرف ہاتھ بڑھایا آج بھی وہ منظر نامہ نظر کے سامنے ہے*
*اس بچے کے معصوم چہرے پر لکھی ضرورت اور یوں ایک مظبوط امید کے ساتھ مجھے روکنے کی ادا میرے دل کو چھو گئی* *اس کی خود داری نے اس کو بھکاری نہ بنایا بلکہ مخنت کش بنایا*
بس وہ وقت تھا جس نے روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھا دیا اور میری ذندگی کی منازل کی طرف ایک رستہ واضع ہو گیا
پھر کیا تھا میں نے اپنی محبت کا دائرہ کار بڑھا دیا صرف اپنے لئے سوچنا چھوڑ دیا صرف اپنے لئے جینا چھوڑ دیا
اپنے معاشرے کے سب لوگوں کو اپنا کنبہ تصور کر لیا اور بغیر رنگ و نسل ، عقیدے اور زبان کی تفریق کے انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنا لیا جو اب تک جاری و ساری ہے

*ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی*

یہ تھا شخص سے شخصیت تک کا سفر جو محترم راجہ شیراز کیانی صاحب نے عمر کے اس دور میں مکمل کیا جو کھیل کود کا دور ہوتا ہے
شخص محدود سوچ محدود دائرہ کار اور محدود وسائل پر نظر رکھتا ہے اور شخصیت کی سوچ و دائرہ کار وسیع پیمانے پر ہوتا ہے بس اتنی سی سوچ کا عملی جامہ آپ کو شخص سے شخصیت تک پہنچا دیتا ہے
کسی کو یہ سفر طے کرنے میں عمر بیتانی پڑتی ہے اور کوئی جوانی میں اس منزل کو پا لیتا ہے اور کچھ راجہ محمد شیراز کیانی صاحب کی طرح بھی ہوتے ہیں جو یہ سفر بچپن لڑکپن میں ہی پا لیتے ہیں
شخص اور شخصیت میں فرق واضح ہونے کے بعد شخصیت بننے کی خواہش تو ہر شخص کو ہوتی ہے لیکن اس دشوار گزار راستے سے گذر کامر شخصیت بننا کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے
راقم الحروف کیونکہ سوہاوہ ضلع جہلم کا رہائشی ہے اور عمر دراز اسلام آباد میں رہائش پذیر رہنے کے بعد سوہاوہ میں رہائش اختیار کی جس وجہ سے اہل علاقہ سے کچھ اچھی شناسائی نہ تھی
ایک وقت سے راجہ محمد شیراز کیانی صاحب کے اقدامات، خدمات اہل علاقہ کے لئے دیکھ رہا تھا جن کا تذکرہ آگے جا کر پیش کیا جائے گا
راقم الحروف انسانیت کی اس طور خدمات پر نہ صرف خوشی محسوس کرتا تھا بلکہ فخر محسوس ہوتا تھا کہ راجہ محمد شیراز کیانی کا تعلق میرے خطے سوہاوہ سے ہے آپ کا تعلق میرے جد امجد گکھڑ سلطان سکندر خان گکھڑ کی اولاد سے ہے
آپ کا تعلق خطہ پوٹھوار کی زیرک قوم گکھڑ سے ہے
لیکن جب راجہ محمد شیراز کیانی صاحب نے گکھڑ فیملی ویلفئیر ٹرسٹ میں شمولیت کا شرف بخشا تو آپ کی قربت میں بہت سے راز افشاں ہوئے
آپ گکھڑ فیملی ویلفئیر ٹرسٹ ضلع جہلم کے سرپرست اعلیٰ بھی ہیں اور گکھڑ فیملی ویلفئیر ٹرسٹ کے زیر انتظام تمام پروجیکٹس میں بھرپور مالی تعاون فرماتے ہیں جن میں سر فہرست تقریباً 220 یتیم بچوں کی تعلیمی کفالت ہے

آپ کی شخصیت کا مختصراً جائزہ پیش کروں تو آپ ایک انتہائی خاموش طبع شخصیت ،کم اور مکمل گفتگو آپ کا خاصہ، سادگی اور نفاست کا حسین امتزاج مختصر سی ملاقات میں سامنے بیٹھے شخص کو اپنا اسیر کر لینے کی ادا آپ میں موجود پائی۔
چہرے کی رونق ، مسکراہٹ سے سجے ہونٹ ، حیا دار نگاہ اور مقصد پر نظر آپ کی روح کی نفاست اور پاکیزگی کو نمایاں کرتی نظر آتی ہے
بارہا آپ سے ملاقات ہوئی اور ہر ملاقات کے بعد آپ کو ایک بھرپور شخصیت پایا
ایک ہی شخص میں فلاحی ادارہ بھی نظر آیا
حقانیت ، سخاوت ، درد دلی کا سرچشمہ ایک ولی اللہ بھی نظر آیا
آپ نے ابتدائی تعلیم سوہاوہ سے حاصل کی اور اعلٰی تعلیم کے حصول کے لیے برطانیہ تشریف لے گئے لیکن کچھ نجی معاملات اور اپنے اندر خدمت انسانیت کے جذبے کی طوفانی لہروں کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکے لیکن تعلیم کے حصول کی تشنگی اور والد محترم کی خواہش ( بیٹے کا اعلی تعلیم یافتہ ہونا) کو پورا کرنے کا عزم کئے رکھا جس کے تحت نہ صرف اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی بلکہ اہل علاقہ اور گکھڑ قوم کے بہت سے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے حصول تک ان کا بھرپور ساتھ دیا اور ساتھ دے رہے ہیں

*جھولی میں بچا کے ﺭﮐﮫ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﻮ*
*ﺟﻮ ساتھ میں جائے ﮔﺎ ﺑﺲ ﯾﮧ ﻭﮦ خزانہ ﮬﮯ*

*ﺳﻮنے ﮐﮯ ﺑﺪﻥ ﮐﻭ ھم مٹی ﮬﯽ سمجھتے ھیں*
*ھم جیسے فقیروں کی ٹھوکر میں زمانہ ھے*

*جو منزل گم گشتہ حالات نے چھنی ہے*
*اس خواب کی تعبیریں اس دل کا فسانہ ہے*

آپ اپنے والد محترم کی خواہش کو خود تو مکمل نہ کر سکے لیکن اپنی اولاد کی صورت اس کو مکمل کیا اور اعلیٰ تعلیم دلوائی
آپ کے چار بیٹے ہیں اور ایک بیٹی ہے چاروں بیٹے ڈاکٹر ہیں میڈیکل کے مختلف شعبوں میں اپنا ایک الگ مقام رکھتے ہیں اور بیٹی بھی میڈیکل کے شعبے سے منسلک ہیں
یہ انہی دعاؤں کا نتیجہ ہے
جن کو شاعر نے بیاں کیا ہے

*جھولی میں بچا کے ﺭﮐﮫ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﻮ*
*ﺟﻮ ساتھ میں جائے ﮔﺎ ﺑﺲ ﯾﮧ ﻭﮦ خزانہ ﮬﮯ*

آپ نے نہ صرف اپنے بچوں کو بلکہ اپنے علاقے کےبہت سے ہونہار بچوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا
آپ کی اعلیٰ ظرفی کا عالم یہ ہے کہ اپنے پاس آنے والے کسی ضرورت مند کو خالی ہاتھ نہیں جانے دیتے ہیں آپ کے دل میں دعاؤں کی طلب ہے یا نہیں لیکن بہت سے ایسے احباب کو تہہ دل سے آپ کے لئے دعا گو پایا جن کی آپ سے ملاقات تک بھی نہیں ہے آپ ان کے لئے اور وہ آپ کے لئے انجان ہیں *نیکی کر دریا میں ڈال کا عملی نمونہ راجہ محمد شیراز کیانی صاحب ہیں*

تحقیقی ونگ

اپنے فلاحی کاموں میں مستحقین تک ہی آپ کی خدمات پہنچیں اس کے لئے آپ نے اپنا ایک تحقیقی ونگ بھی بنا رکھا ہےجو کہ ضرورت مندوں کی تفتیش کچھ اس انداز سے کرتا ہے کہ ضرورت مند کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی ہے یہ ہدایات پردہ پوشی اور عزت نفس کے ذمرے میں دی جاتی ہیں
*آپ کی کامیابی کا اہم اصول عزت نفس کا بھرم اور پردہ پوشی ہے*
آپ کی ٹیم کے بہترین جانبازوں میں جن کا شمار ہوتا ہے ان میں
آپ کے چار بیٹے
ڈاکٹر راجہ عادل شیراز کیانی
ڈاکٹر راجہ عمران شیراز کیانی
ڈاکٹر راجہ عرفان شیراز کیانی
ڈاکٹر راجہ ہارون شیراز کیانی

آپ کے مرحوم بڑے بھائی لمبردار صوبیدار راجہ محمداختر کیانی صاحب کے بیٹے

پروفیسرجمیل احمد کیانی
راجہ شکیل احمد کیانی
راجہ جلیل احمد کیانی
ان کے علاؤہ
ہیڈماسٹر راجہ امتیاز کیانی
ہیڈماسٹر مرزا نعیم اختر
راجہ سجاد کیانی اور سرفہرست ہیں

محترم راجہ شیراز کیانی صاحب کے تمام تر پروجیکٹ کی تفصیلات کا ریکارڈ انتہائی خوبصورتی سے مرتب کیا جاتا ہے جس میں تمام تر تفصیلات درج ہوتی ہیں اور یہ زمہ داری محترم راجہ امتیاز کیانی صاحب کے ذمہ ہے جن کی محنت اور لگن سے بھرپور زمہ داری کے ساتھ مرتب شدہ تفصیلات دیکھ کر آپ کو اختر ویلفئیر کے لئے ریڑھ کی ہڈی سمجھتا ہوں راجہ امتیاز کیانی صاحب بھی درس وتدریس سے وابستہ انتہائی سادہ و ملنسار مزاج کے مالک ہیں آپ گورنمنٹ مڈل اسکول سوہاوہ کے پرنسپل ہیں
ایک سب سے خاص اصول جس کو آپ نے پتھر پر لکیر کی طرح ثبت کیا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ فلاح انسانیت کے ان تمام پروگراموں میں مالی معاونت کسی اور فرد یا ادارے سے کسی طور نہیں لی جاتی ہے بنا شرکت غیرے بنفس نفیس تمام اخراجات اپنے پاس سے کئے جاتے ہیں یہی ایک اصول آپ کو زمانے میں منفرد کر دیتا ہے تن تنہا اتنی سی ذندگی میں اتنا کچھ نا ممکن لگتا ہے
اسی کو رب العالمین کی طرف سے وقت ، مال ، صحت ،اولاد اور عمر میں *برکت الہیٰ* کہا جاتا ہے جس برکت الہیٰ کے لوگ طلب گار ہیں شیراز کیانی صاحب کو وہی برکت الہیٰ میسر نظر آتی ہے
آپ کے پروجیکٹس کی تفصیلات اس قدر طویل ہیں کہ ان کی ایک الگ سے تحریر اس مضمون کے ساتھ لف کی جائے گی جس میں آپ کے چیدہ چیدہ منصوبات کا ذکر کی جائے گا مکمل احاطہ ممکن نہیں ہے کیونکہ بہت سے پروجیکٹ صرف اور صرف آپ کی شخصیت کے علم میں ہیں
گو کہ اس تحریر کا مقصد آپ کے فلاحی کاموں کی تشہیر ہرگز نہیں ہے لیکن ان کا تذکرہ آپ کی ذندگی کا ایک اہم حصہ ہے
راجہ محمد شیراز کیانی صاحب کی شخصیت کو عوام الناس کے سامنے پیش کرنے کا ایک مقصد ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جبکہ دوسرا بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ اگر آج کے پر فتن اور نفسا نفسی کے دور میں راجہ محمد شیراز کیانی صاحب کی واحد ذات ایک بہت بڑے منظم ادارے کی طرح فلاح انسانیت میں اپنے آپ کو وقف کئے ہوئے ہے تو باقی احباب ایسا کیوں نہیں کر سکتے ہیں
اس کے لئے صرف اور صرف عزم کی ضرورت ہے صرف انفرادی سوچ کی اجتماعی سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے
ہرفرد جو اس دنیا میں ذندگی گزار رہا ہے کسی شعبے میں امیر ہے کسی میں غریب
اگر کسی کے پاس اعلیٰ تعلیم ہے تو ممکن ہے وہ دولت مند نہ ہو
اگر کوئی سرمایہ دار یا جاگیردار ہے تو وہ تعلیم یافتہ نہ ہو یا با اخلاق نہ ہو کسی کے پاس تعلقات کی فراوانی ہے تو کسی کے پاس اعلیٰ عہدے کا بھرم ہے
المختصر جس کے پاس جو وافر مقدار میں موجود ہے اس کو صرف کرے اس سے فلاح انسانیت میں اپنا کردار ادا کرے بس یہی مقاصد ہیں جن کے تحت راجہ محمد شیراز کیانی صاحب کو مثال بنا کر پیش کیا گیا ہے خلق خدا کی خدمت رضائے الٰہی کا سبب ہے
مثال کے طور پر پیش کرنے کے لئے زمانہ حال کی حیات شخصیات کا چناؤ اس لئے کیا جاتا ہے کہ
ہم ان کی پیروی آسانی سے کر سکیں ان سے مل سکیں ہم بھی شخص سے شخصیت بن سکیں
ہم بھی اس کردار کو اپنا سکیں
بہرحال ہمارے آج کی معزز شخصیت راجہ محمد شیراز کیانی صاحب کے لئے بارہا ادارے کا لفظ استعمال کیا ہے
جب قارئین آپ کی مختصر عمر میں آپ کے کارناموں کی لسٹ دیکھیں گے تو ضرور بضرور احباب ناقابلِ یقین صورت حال سے دوچار ہوں گے
انفرادی طور پر عرصہ دراز سے بہت سی بیوہ خواتین کی کفالت ، غریب گھرانوں کی کفالت ، اور یہاں تک کے بشتر بے گھر غریب خاندانوں کو مکان کی تعمیر کی خدمات بھی موجود ہیں
میرے ایک قابلِ احترام معزز بھائی آپ کو سوہاوہ اور گردونواح کی غریب عوام کے لئے *سائبان* کا لقب مرحمت فرماتے ہیں

*معاشرتی کردار*

*مجھے ذندگی میں قدم قدم تیری رضا کی تلاش ہے*
*تیرے عشق میں اے اللّٰہ مجھے انتہا کی تلاش ہے*

*راجہ محمد شیراز کیانی صاحب* جیسے چشمے سے صرف افراد مستفید نہیں ہوئے ہیں بلکہ اجتماعی طور پر پورے پورے علاقے آپ سے مستفید ہوئے ہیں
کرونٹہ ، سرأے راجگان و دیگر دیہاتوں میں اہل علاقہ کی عوام الناس کے لئے اجتماعی طور پر ایسے پروجیکٹ مکمل کئے جو حکومتیں بھی حیل و حجت سے مؤخر کرتی آ رہی تھیں
اس کے علاؤہ سوہاوہ شہر اور سوہاوہ کے نواحی علاقہ جات کے بیشتر دیہاتوں میں آپ کی بے شمار خدمات انجام تک پہنچ چکی ہیں فراہمی آب کے سلسلے میں کئی دیہات ، مساجد ، قبرستان ، اور شہری آبادی میں بیشتر جگہوں پر بورنگ کے ذریعے پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا ہے
نہ صرف سوہاوہ اور گردونواح بلکہ آپ کا دائرہ کار بڑھتے بڑھتے پاکستان کے دیگر حصوں اور آزاد کشمیر تک کے بیشتر حصوں کا احاطہ بھی کئے ہوئے ہے
پھر آپ کا دائرہ کار صرف فلاحی کاموں اور تعلیمی شعبے تک محدود نہیں رہا ہے
بلکہ بچوں کی تعلیم و تربیت ، جسمانی نگہداشت سے لے کر سرکاری اور پرائیوٹ اسکولوں اور دینی مدارس کی اہم ترین بڑی ضرورتوں تک کو احاطہ کئے ہوئے ہیں جن میں اسکول لیب ، کمپوٹر لیب، بڑے بڑے ہال کی تعمیر ، فراہمی آب و راشن و یونیفارم کے پروجیکٹس شامل ہیں
اس سے آگے چلیں خطہ پوٹھوار کی تاریخ اور پاکستان کے تصور تک کو احاطہ کئے ہوئے ہے جس کے تحت آپ نے عوام الناس اور بچوں کے لئے سوہاوہ میں واحد کشمیر پارک کی تعمیر میں مالی طور پر اہم حصہ داری اور بہت سے مونومنٹ تعمیر کروائے جو جب تک قائم رہیں گے علاقہ اور پاکستان کی ثقافت کو اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتے رہیں گے
اہل علاقہ کے لئے صرف دو مونومنٹ کا تذکرہ کروں گا
ایک ڈگری کالج سوہاوہ کے سامنے مین جی ٹی روڈ کے درمیان گرین بیلٹ میں تعمیر شدہ *کتابوں کا مونومنٹ* جو اعلیٰ دینی و دنیاوی تعلیم کے حصول کا عکاس ہے
دوسرے نمبر پر جہلم میں جی ٹی روڈ پر موجود جادہ چوک جہلم میں تعمیر شدہ *ہڑیال* کا مونومنٹ ہے
ہڑیال خطہ پوٹھوار کی علامت ہے اور لہڑی و ڈومیلی کے پہاڑوں میں کثرت سے پایا جاتا ہے جو کہ پوٹھوہار کے حسن کو چار چاند لگا دیتا ہے
یہ دونوں مونومنٹ آپ کی تعلیم سے بے پناہ محبت اور ثقافت سے لگاؤ کی دلیل ہیں
فلاحی اور رفاہی کاموں کے ساتھ ساتھ معاشرے کی ترقی اور پاکستانی قوم کے جوانوں کی تربیت و تعمیر کے لئے بھی آپ کی بہترین خدمات موجود ہیں کیونکہ یہی مستقبل کے معمار ہیں
علم کی طاقت کے مدنظر مطالعہ سے خصوصی شغف اور شوق رکھنے والے نوجوان طلباء کے لئے ایک لائبریری کا اہتمام کیا جس میں مختلف موضوعات پر بےشمار کتب موجود ہیں جس لائبریری سے اساتذہ اور طلباء کے ساتھ ساتھ کتب بینی کے شوقین اہل علاقہ بھی مستفید ہوتے ہیں
اس کے علاؤہ سوہاوہ کے جوانوں کی جسمانی نگہداشت کے مدنظر جوانوں کے لئے *شیراز کرکٹ اکیڈمی* اور *شیراز فٹبال اکیڈمی* کی بنیاد رکھ کر نوجوانوں کی جسمانی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان اقدامات کو بہت کم وقت میں مکمل کیا جس سے آپ کی زیرک سوچ اور دور اندیشی کا اندازہ ہوتا ہے
شیراز کرکٹ اکیڈمی اور شیراز فٹبال اکیڈمی میں تمام تر سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں جن میں گراؤنڈ اور انسٹرکٹر کی سہولت بھی موجود ہے سپورٹس کے تمام تر انتظامی امور پروفیسر راجہ جمیل احمد کیانی صاحب باخوبی سرانجام دیتے ہیں
اس کے علاؤہ اکیڈمیز کی بہترین کارکردگی کے جانچنے کے لئے علاقائی ،تحصیل اور ضلعی سطح پر مختلف ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں اکیڈمی کی ٹیم بھرپور کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں
اسی کارکردگی کے تحت آپ کی اکیڈمی کےپاس یہ اعزاز حاصل ہے کہ پنجاب کی پسماندہ تحصیل سوہاوہ سے ایک نو عمر بچہ راجہ عمر فاروق ڈویژن کی انڈر 13 ٹیم میں بطور باؤلر منتخب ہوا ہے جس سے منتظمین پر امید ہیں کہ ان شاءاللہ یہ بچہ پاکستان کا نام روشن کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا

*اختر ویلفئیر کاقیام*
جیساکہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ فلاحی کاموں کی شروعات لڑکپن سے ہی ہو گئی تھیں
لیکن اپنے بڑے بھائی جان لمبردار آف سرأے راجگان صوبیدار راجہ محمداختر کیانی صاحب کی وفات کے بعد اعزازی طور پر اپنے تمام تر منصوبوں کو اختر ویلفئیر کا سائبان عطاء کر دیا
اپنے مرحوم بڑے بھائی کے نام سے اختر ویلفئیر کے نام سے ایک تنظیم قائم کی جس کے بعد اپنے تمام تر پروگرام اختر ویلفئیر کے ماتحت کر دیئے اب ہر پروجیکٹ اختر ویلفئیر کے زیر سایہ مکمل ہوتا ہے آپ کے بے شمار منصوبے جو غریب اور سفید پوش طبقے سے منسلک ہیں ان کے بارے میں آپ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے جن کی ایک لمبی فہرست ہےجو کسی سے شئیر نہیں کی جاتی ہے
جو منصوبے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے یا دیہاتوں سے منسلک ہیں ان میں چیدہ چیدہ منصوبات کی تفصیل یہاں بیان کی جائے گی
یہ فہرست لف کرنے کا مقصد آپ کی جامع شخصیت کا عشر عشیر آپ کے سامنے رکھنا ہے کیونکہ آپ کی شخصیت کے بہت سے باب ہیں جن کا احاطہ کرنا انتہائی کٹھن مرحلہ ہے

جن اسکولوں اور اداروں میں پانی کی فراہمی کے لئے بورنگ ، موٹر کی تنصیب ، واٹر ٹینکی کی فراہمی، واٹر کولر اور ڈسپنسر کا بندوبست کیا گیا ان کی فہرست مندرجہ ذیل ہے

GGHS Bakrala
GHS Bakrala
GGHS Karounta
GHS Karounta
GGMS Dongi
GGMS Jharna
GGPS Bhit sher Ali
GPS Bhit mast
GGPS Gidryam
GGPS Jhanda Mera
GHS Hathia dhmial
GHS. Kot dhamiak
GHS Miani Bala
GMPS Sohawa
GMS Bidder
G.D.College Sohawa
GMPS. Jharna
GPS. Bains qaim
GPS chack miana
GHS dhoke kalyal
GPS kuliya
GPS. Hathia pine
GPS pind maty Khan
U C office pail bane Khan
A.C office sohawa
GPS. Mohra Laal
GPS. Mohra janiyal
GES sohawa
BHU. Banth
Dewan e hazori
اسکے علاؤہ جن اسکولوں و اداروں میں طلباء کے لئے فرنیچر ، آفس فرنیچر ، دیوار کی مرمت و تعمیر ، گراؤنڈ کی مرمت و تعمیر ، اسکول میں شیراز ہال کی تعمیر ، فرش و برآمدہ کی تعمیر ، سڑک کی تعمیر میں بڑی مالی معاونت کے ساتھ اہم کردار، کچھ اسکولوں میں نقد رقم کی فراہمی ،
اسکول میں یونیفارم اور انعامات برائے طلباء کی فراہمی ،
ہسپتال میں مریضوں کے بیٹھنے کے لئے کرسیوں کا انتظام وغیرہ
فہرست مندرجہ ذیل ہیں

GGMS Jharna
GGHS. Karounta
GHS. Karounta
GHS kot dhamiak
GPS Mohra janiyal
Saray e syieda’road
GPS Bhit mast
GGMS. Tandoi
Dewan hazori

آپ کے ذیر نگرانی مکمل ہونے والے چند منصوبوں کو آپ کے سامنے رکھا گا ہے
اس موقع کی خوب تر ترجمانی علامہ اقبال کے ایک شعر سے ہوتی ہے

*نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے*
*ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی*

علامہ اقبال نہ یہ شعر بہت پہلے اس قوم کے حالات و جذبات کو دیکھتے ہوئے شاید اسی لئے کہا تھا کہ اس قوم میں جذبات و احساسات اور شجاعت کی کمی نہیں ہے بلکہ اس قوم کو بس بیدار کرنے اور اسکے منصب کو یاد دلانے کی ضرورت ہے

بحثیت پاکستانی بحثیت پوٹھوہار و جہلم کا باسی ہونے کے محترم محمد شیراز کیانی صاحب آپ ہمارا فخر ، ہمارا اثاثہ ، ہمارا تاج ہیں آپ کے بارے میں جتنا لکھوں کم لگتا ہے لیکن احساسات کو الفاظ دینے ادنیٰ سی کوشش کی ہے امید ہے قارئین کے لئے مفید ثابت ہو گی

راقم الحروف
آل گکھڑ وقاص عارف کیانی
اسکندرال العارفین گکھڑ سوہاوہ ضلع جہلم

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You