*عنوان: سیانے لوگوں کی سیانی باتیں*

*ٹائٹل : بیدار ھونے تک*
*عنوان: سیانے لوگوں کی سیانی باتیں*
*کالمکار : جاوید صدیقی*
میں سمجھتا ہوں کہ میں ان چند خوش نصیب لوگوں میں ایک ہوں جنکے والدین قبل از پاکستان پڑھے لکھے تھے۔ والد محترم کی تعلیم والدہ سے زیادہ تھی ، میرے مرحوم والد سردار حسین صدیقی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ہوئی تھی اسی سبب انکی گفتگو سے علم کے موتی جھلکتے تھے میں اپنے والد کے پاؤں کی خاک کے برابر تک نہیں، یہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ھے کہ انکی تعلیمات اور تربیت کی کچھ تاثیر نصیب ہوئی اسی سبب میں نے مکمل توجہ علم و فنون کی جانب رکھی لیکن اسی سبب مالی صورتحال سے کمزور پڑ گیا اسکا مجھے نہ افسوس ھے اور نہ ہی دکھ کیونکہ والد محترم فرمایا کرتے تھے کہ سکہ، سونا چاندی اور جائیداد کی دولت تو ضائع ہوسکتی ھے، ختم ہوسکتی ھے، چوری ہوسکتی ھے چھینی جاسکتی ھے لیکن علم کی دولت وہ نعمت ھے جو موت تک ساتھ رہتی ھے اور جس قدر علم کی شمعیں اپنے دل و دماغ میں روشن کی جاتی ہیں اسی قدر شعور شفاف اور تیز ترین متحرک رہتا ھے یہی سبب ھے کہ ایسی ذی شعور انسانوں کو سیانے کہتے ہیں جو اپنے علم مشاہدے اور تجربہ سے جو نتائج اخذ کرتے ہیں ان میں کہاوت محاورت اور نصیحتیں جبم لیتی ہیں۔ ایسے ہی ایک سیانے کی تحریر پڑھنے کا اتفاق ھوا جسے اپنے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کررھا ہوں ۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! ایک شکاری نے کنڈی میں گوشت کی بوٹی لگا کر دریا میں پھینکی۔ ایک مچھلی اسے کھانے دوڑی۔ وہیں ایک بڑی مچھلی نے اسے روکا کہ اسے منہ نہ لگانا، اس کے اندر ایک چھپا ہوا کانٹا ھے جو تجھے نظر نہیں آرہا۔ بوٹی کھاتے ہی وہ کانٹا تیرے حلق میں چبھ جائیگا، جو ہزار کوششوں کے بعد بھی نہیں نکلے گا۔ تیرے تڑپنے سے باہر بیٹھے شکاری کو اس باریک ڈوری سے خبر ہوجائیگی۔ تو تڑپے گی وہ خوش ہوگا، اس باریک ڈور کے ذریعے تجھے باہر نکالے گا، چھری سے تیرے ٹکڑے کریگا، مرچ مسالحہ لگا کر آگ پر ابلتے تیل میں تجھے پکائے گا، دس ، دس انگلیوں والے انسان بتیس، بتیس دانتوں سے چبا چبا کر تجھے کھائیں گے۔ یہ تیرا انجام ہوگا۔ بڑی مچھلی یہ کہہ کر چلی گئی۔ چھوٹی مچھلی نے دریا میں ریسرچ شروع کردی، نہ شکاری، نہ آگ، نہ کھولتا تیل، نہ مرچ مسالحہ، نہ دس دس انگلیوں اور بتیس بتیس دانتوں والے انسان، کچھ بھی نہیں تھا۔ چھوٹی مچھلی کہنے لگی یہ بڑی مچھلی انپڑھ جاہل، پتھر کے زمانے کی باتیں کرنیوالی، کوئی حقیقت نہیں اسکی باتوں میں۔ میں نے خود ریسرچ کی ھے، اسکی بتائی ہوئی کسی بات میں بھی سچائی نہیں، میرا ذاتی مشاہدہ ھے، وہ ایسے ہی سنی سنائی نام نہاد غیب کی باتوں پر یقین کیئے بیٹھی ھے، اس ماڈرن سائنسی دور میں بھی پرانے فرسودہ نظریات لئے ہوئے ھے۔ چنانچہ اس نے اپنے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر بوٹی کو منہ ڈالا، کانٹا چبھا، مچھلی تڑپی، شکاری نے ڈور کھینچ کر باہر نکالا، آگے بڑی مچھلی کے بتائے ہوئے سارے حالات سامنے آگئے ۔۔۔۔ معزز قارئین!! انبیاء علیھم السلام نے انسانوں کو موت کا کانٹا چبھنے کے بعد پیش آنے والے غیب کے سارے حالات و واقعات تفصیل سے بتادیئے ہیں۔ بڑی مچھلی کیطرح کے عقلمند انسانوں نے انبیاء کی باتوں کو مان کر زندگی گزارنی شروع کردی۔ چھوٹی مچھلی والے نظریات رکھنے والے انبیاء کا رستہ چھوڑ کر اپنی ظاہری ریسرچ کے رستہ پر چل پڑے ہیں۔ یاد رکھئے کہ موت کا کانٹا چبھنے کے بعد سارے حالات سامنے آجائیں گے مچھلی پانی سے نکلی واپس نہ گئی اسی طرح انسان دنیا سے گیا واپس نہ آیا بس یہی وقت ہے اگر سمجھ گئے تو بہتر ھے وگرنہ ہمیشہ کی ذلت و رسوائی اور پچھتاوا۔ اللہ نے سورة العصر میں بھی انسان کو بیدار کرتے ہوئے کہا ھے کہ ترجمہ: زمانہ کی قسم ہے۔بے شک انسان گھاٹے میں ہے۔مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور حق پر قائم رہنے کی اور صبر کرنے کی آپس میں وصیت کرتے رہے۔(پارہ 30 ؛ سورة العصر؛ آیت 103) ۔۔۔۔۔!!




