عنوان: سندھ حکومت’ پولیس اور صحافی گرفتاریاں

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: سندھ حکومت’ پولیس اور صحافی گرفتاریاں
بروز پیر چوبیس مئی کو وزیراعلیٰ سندھ نے پریس کانفرنس میں عندیہ دیا کہ بروز منگل پچیس مئی سے کراچی سمیت سندھ بھر میں شام چھ بجے کے بعد سخت لاک ڈاؤن چھ جون تک کیا جائیگا اسی اعلان کے بعد بدنام زمانہ ملکی و بین الاقوامی نا اہل کرپٹ پولیس نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ صرف کراچی کے مخصوص علاقوں پر چوبیس گھنٹے قبل اپنا قانون جبراً نافذ کردیا اور شہر کے مخصوص علاقوں کو ڈنڈوں کے زور پر بند کرادیا جبکہ اندرون سندھ کھلے عام کرونا ایس او پیز کیخلاف ورزیاں جاری ہیں یہی نہیں بلکہ کراچی کے بیشتر علاقوں میں کرونا ایس او پیز کیخلاف ورزیاں اول سے تا حال جاری ہیں۔۔۔معززقارئین! بروز پیرچوبیس مئی کو سینئر فوٹوگرافر فرید خان کو لاک ڈاؤن کوریج کرنے پر متعلقہ پولیس نے لاک اپ کردیا۔جس پر ناصر محمود ڈپٹی چیئرمین دستور گروپ سابق سیکرٹری کے یو جے دستور’ محمد عارف خان ڈپٹی چیئرمین دستور گروپ’ جاوید صدیقی سرگرم رکن دستور گروپ’ سابق صدر و سیکرٹری کراچی یونین آف جرنلسٹس نے حراست میں لینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیراطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ اور آئی جی پولیس سندھ سے واقعہ کی فوری تحقیقات کروانے اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈپٹی چیئرمین دستور گروپ اور سابق سیکرٹری کے یو جے دستور ناصر محمود نے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ مبینہ طور پر جوہرآباد کے علاقے میں پولیس کیجانب سے کاروباری مراکز بند کروانے کی تصویریں بنانے پر فرید خان کو حراست میں لیا گیا اور تھانے منتقل کر دیا۔انہوں نے کہا کہ پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران پولیس کا یہ اقدام انسانی حقوق اور فوٹو گرافرز جرنلسٹس حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔اعلیٰ حکام اسکا فوری نوٹس لیں۔۔معزز قارئین!! دستور گروپ نے مطالبہ کیا ھیکہ صحافیوں’ فوٹو گرافرز’ کیمرہ مینز اور میڈیا ورکرز کو رات آٹھ بجے کے بعد باہر نکلنے کی پابندی سے استثنیٰ قرار دیا جائے۔ دستور گروپ آف کراچی یونین جرنلسٹس دستور نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ رات آٹھ بجے کے بعد باہر نکلنے کی پابندی سے صحافیوں، فوٹو گرافروں، کیمرہ مینوں اور میڈیا ورکرز کو استثنی دینے کا اعلان کرے۔چیئرمین دستور گروپ ڈاکٹرعبدالجبار خان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا میں کام کرنے والے صحافی، فوٹوگرافر کیمرہ مین اور دیگر میڈیا ورکرز عموماً رات گئے اپنے دفاتر سے گھروں کو واپس لوٹتے ہیں جبکہ میڈیا کی ٹیمیں بھی کوریج کیلئے شہر کے مختلف علاقوں میں جاتی ہیں۔ وزیراعلی سندھ کیجانب سے رات آٹھ بجے کے بعد جس پابندی کا اعلان کیا گیا ہےاسکے بعد رات گئے گھروں کو واپس جانے والے یا شفٹوں میں کام والےمیڈیا ورکرز کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کیجانب سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے لہٰذا وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور آئی جی سندھ کو اس حوالے سے واضح ہدایات جاری کریں کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو انکی جانب سے شناخت ظاہر کئے جانے کے بعد پریشان نہ کیا جائے۔۔معزز قارئین!! پاکستان بھر کی عدالتیں سندھ پولیس کے کرپشن بدعنوانی رشوت ستانی کا اعتراف کرتے ہوئے سندھ حکومت کو صوبائی سطح پر پولیس کی اصطلاحات کا بار ہا بار حکم دے چکی ھے دیکھیں سندھ حکومت عوام پر کب رحم کرتی ھے۔ عوام کا کہنا ھے کہ جرائم کی پرورش تھانوں سے کی جاتی ھے۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی



