کالم/مضامین

عنوان: سنجیدہ فیصلے, سیکیورٹی ادارے

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: سنجیدہ فیصلے, سیکیورٹی ادارے ۔۔۔۔!!

اسلامی تاریخ کے اوراق میں جھانکا تو پتا چلا کہ اسلامی ریاست کی بقاء و سلامتی کیلئے ہر دور میں ایک مسلح جتھہ یا پھر فورس کا قیام ناگزیر رھا ھے۔ دینِ اسلام کے مطابق اپنی اور ریاست کی حفاظت فرضِ عین قرار دی گئی ھے۔ چودہ اگست سنہ انیس سو سینتالیس کو دو قومی نظریہ کے تحت ایک مسلم ملک دنیا کے نقشے میں ابھرا تو سامراجی قوتوں کو پہلے ہی دن سے گوارا نہ تھا کہ یہ وطنِ عزیز قائم و دائم رہے۔ خاص طور پر ہندوستان کے پیٹ میں درد ہی اسی بات کا تھا کہ مسلمان اپنا الگ آزاد ریاست کے مالک بنیں رہیں۔ دنیا نے دیکھا کہ اس نے پاکستان پر کئی بار جنگ مسلط کی اور ریاستِ پاکستان کو تباہ کرنے کی ناکام کوششیں کیں۔ جب ہندوستان اور سامراجی قوتوں کو مسلسل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے ھماری تاریخ کا از سر نو مطالعہ کرنا شروع کردیا خاص طور پر اس سلسلے میں یہودی زائینسٹ نے اپنی شیطانی و ابلیسی سازشیں خوب استعمال کیں۔ یہودیوں نے بتایا کہ مسلمانوں کو مسلمانوں سے شکست دو یعنی مسلمانوں میں منافقوں دھریوں کو چن چن کر ان مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرو پاکستان کو انہی منافقوں غداروں کے ذریعے ہی اب تک نقصان پہنچایا جاسکا ھے خاص طور پر وہ منافق جو سہولتکاری فراہم کرتے چلے آرھے ہیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! ھماری افواج دنیا کی صفِ اول کی افواج شمار اور تسلیم کی جاتی ھے کیونکہ ھماری افواج ایک بہترین پروفیشنل افواج ھے یہی وجہ ھے کہ یہودی زائینسٹ سامراج اور ہندوستان پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے کھربوں ڈالرز استعمال کرچکا ھے اور یہ دشمنانانِ وطن زر خرید غلاموں کے ذریعے ہر سطح پر منفی کاروائیوں سے باز نہیں آتے یہاں تک کہ پاکستان کی افواج کی ہرزہ سرائی کرنے میں کوئی شرم اور دقیقہ نہیں چھوڑتے اس سلسلے میں وہ سیاست مسلک اور قوم پرست کا خاص طور پر انتخاب کرتے ہیں میں انہیں بتاتا چلوں کہ ریاستِ پاکستان کسی چڑیا کا نام نہیں یہ بہت مضبوط چٹان کی مانند ریاست ھے اور اس ریاست کے محافظ دنیا کی بڑی سے بڑی سپرپاور کو مزا چکھا سکتے ہیں اور کئی ایک کو چکھا بھی دیا ھے۔ ہمارے محافظ اور اسکے سربراہ کوئی معمولی اور عام انسان نہیں انکے بارے میں بتاتا چلوں کہ ‏بیس بائیس سال کی عمر میں کمیشنڈ آفیسر بننے کے بعد سیکنڈ لیفٹیننٹ سے لیفٹیننٹ پھر کیپٹن پھر میجر پھر لیفٹیننٹ کرنل پھر کرنل پھر برگیڈئیر پھر میجر جنرل پھر لیفٹیننٹ جنرل اور پھر ان میں سے ایک آرمی چیف تب جا کے کالر پر چار ستارے لگتے ہیں مگر ‏اس میں پینتیس سال لگتے ہیں اور ان پینتیس سالوں میں بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں سے لے کر سیاچین کی یخ بستہ وادیوں تک کی ڈیوٹی شامل ہوتی ہیں۔ کئی جنگیں سینکڑوں محاذ سینکڑوں آپریشن سینکڑوں بار موت سے سامنا شامل ہوتا ہے اور جب اس سب سے نکل کر آنے والا جی ایچ کیو پہنچتا ہے وہ کوئی عام انسان نہیں ہوتا ‏اور ان سب سے نکل کر منجھے ہوئے تجربہ کار صاحبِ بصیرت حوصلوں والے دور اندیش افراد تھنک ٹینک کا حصہ ہوتے ہیں اور ریاست کی پالیسیز بناتے ہیں لہٰذا وقتی یا نظر آنے والی چیزوں کو بنیاد بنا کر یا سیاسی وابستگی کے واسطے فوج پر کیچڑ اچھالنا کسی طور مناسب نہیں جو ایسا کرتے ہیں یا کررہے ہیں!! ‏ان کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے فوج ریاست کی سالمیت و دفاع کی ضامن ہے !! ھونا تو یہ چاہئے تھا کہ جمہوری حکومتیں سول سیکیورٹی اداروں جن میں پولیس شامل ہے انہیں مکمل پروفیشنل انداز میں ڈھالتی میں ان پچھہتر سالوں میں اشرفیہ نے سوائے اپنی شان و شوکت بڑھانے کیلئے پولیس کو ذاتی غلام بناکر رہ دیا یہی وجہ ھے کہ ملک بھر میں کرپشن لوٹ مار اور بے انتظامی سرے عام نظر آتی ھے اگر پولیس کو بھی مکمل خود مختیار آزادانہ فیصلے سے مزین کردیا جائے تو مجھے یقین ھے کہ پھر پولیس میں جہاں اہلیت قابلیت اور میرٹ پر تقرریاں ہونگیں وہیں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ بھی نظر آئیگا اگر یہی نظام یہی سلسلہ جاری رہا تو الله ہی حافظ ھے۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You