عنوان: سلاسلِ تصَوُّف و طریقت اور غافل پیران۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: سلاسلِ تصَوُّف و طریقت اور غافل پیران۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
آج ہند سمیت پاکستان میں مسلمان جس طرح کفر شرک اور دین محمدی ﷺ سے دور ھوتے جارھے ھیں اور مادیت پرستی میں تیزی کیساتھ مبتلا ھورھے ھیں اس میں سب سے بڑے ذمہداران ھمارے ہند و پاک کے جہاں علمائے کرام مفتیان کرام اور پیر عظام ھیں وہیں چاروں سلاسل کے رہبر و رہنما بھی شامل ہیں۔ تاریخ اسلام شاہد ھے کہ ہند و پاک میں شمع اسلام دین محمدی ﷺ کو پھیلانے فروغ دینے اور سلطنت میں اسلامی شعائر پیدا کرنے میں صوفی اولیاء کرام کا کلیدی کردار رھا ھے اصل میں اسلام کی روشنی پھیلانے والے یہی اولیاء اللہ رہیں ھیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ھے کہ آج کے بیشتر گدی نشین صاحب مسند نہ شریعت کی تکیمل میں اور نہ ہی طریقت کی روح میں نظر آتے ھیں جو ہیں انھوں نے گوشہ نشینی اختیار کی ھوئی ھے اب وقت ھے معاشرے میں رہنی کی کہ ایوانوں میں ریاست میں اعلیٰ منصب پر پہنچایا جائے تاکہ پاکستان میں شریعت کے مطابق نظام رائج ھوسکے شکر ھے رب کا کہ افغانستان آزاد ھوا ایران اور ترکیہ آزاد ھے تو پھر پاکستان آزاد کیوں نہیں، کیوں ابتک اسلام مخالف نظام جمہوریت قائم ھے۔ آج میں اپنے معزز قارئین کو پہلے سلاسل کے متعلق بتاتا چلوں کہ سلاسل ھے کیا۔۔۔ معزز قارئین!! سلاسلِ تصَوُّف و طریقت ان چار سلاسل نے اپنی ذریں خدمات کی بناء پر بڑی شہرت اور مقبولیت حاصل کی ہے اور انہی سلاسل کی بہت ساری شاخیں جو پوری دنیا میں مقبول اور پہلی ہوئی ہیں. ان میں اول: سلسلہ قادریہ، دوئم: سلسلہ چشتہ، سوئم: سلسلہ نقشبندیہ، اور چہارم: سلسلہ سہروردیہ۔۔۔عصر حاضر کے نامور صوفی مؤرخ حضرت مولانا محمد عاصم اعظمیؒ نے مرأةالاسرار، عوارف المعارف، فتوح الغیب وغیرہ کتب کے حوالے سے ان چار بڑے سلاسل کا تعارف بڑے خوبصورت پیرائے میں بیان فرمایا ہے. انہی کے الفاظ میں پیش کرنے کی بابرکت سعادت حاضر پیش ھے.. الف: سلسلہ قادریہ.۔ اس خاندان طریقت کے بانی محبوب سبحانی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ رحمت الرحمان کثیرا ابدا ہیں. سلسلہ عالیہ قادریہ کا تعلق شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانیؒ سے ہے. آپ کی شان میں عاشق رسول ﷺ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانؒ ایک قصیدہ میں فرماتے ہیں. "واہ کیا مرتبہ ہے اے غوث ہے بالا تیرا، اونچے اونچے کے سروں سے قدم بالا تیرا
سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا، اولیاء ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا،
تیری سرکار میں لاتا ہے رضا اسکو شفیع، جو مرا غوث ہے اور لاڈلا بیٹا تیرا”
سلسلہ قادریہ کو اُم السلاسل بھی کہا جاتا ہے. اس خانوادہ میں تقوی’ و طہارت کے علاوہ شریعت کی سختی سے پابندی ہے اور باطن کی آراستگی کیلئے ظاہر پہ بھی گہری نظر ہے. خود سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے نہ صرف اسکی تعلیم دی بلکہ عملی طور پہ اس روش پر سختی سے کاربند رہے کہ شریعت کے عمل سے ایک شمہ برابر کوئی تضاد ہوا تو طریقت سے اس عمل کو دور رکھا یہی وجہ ہے کہ سلسلہ قادریہ کی روش بہت زیادہ محتاط ہے. اس سلسلہ میں شریعت کی پابندی پہ بطور خاص توجہ دی گئی ہے مگر دنیا سے کنارہ کشی، ریاضت و مجاہدہ اور تسلیم و رضا کی منزلوں سے گزرنا پڑتا ہے. واضع رہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ امام احمد بن حنبلؒ کے مسلک کے پیروکار تھے۔ موجودہ دور میں سلسلہ قادریہ سے منسلک اکثریت امام ابو حنیفہؒ کے مسلک کے پیروکاروں کی ہے۔ حضرت سیدنا غوث پاکؒ نے اپنی کتاب "فتوح الغیب” میں اس سلسلہ کی تعلیم دی ہے. اسی کتاب کے باب نمبر پچھہتر میں اپنے فرزند حضرت سید سیف الدین عبدالوہاب کو وصیت فرمائی اور عارف کامل کا دستورالعمل بیان فرمایا. فرماتے ہیں۔ "میں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کا تقوی’ اور اطاعت اختیار کرو، احکام شرع کی پابندی لازم رکھو، سینہ کو خیانت، نفس سے پاک رکھو، نفس میں جواں مردی رکھو, کشادہ رو رہو، جو چیز عطا کرنے کے قابل ہو اسے عطا کرتے رہو، آداب، دوستی نگاہ میں رکھو، بزرگوں کی بزرگی کی نگہداشت کرتے رہو، برابر والوں سے حسن_ معاشرت رکھو، چھوٹوں کو نصیحت کرتے رہو، اپنے رفیقوں سے جنگ نہ کرو، وفا کو اپنے اوپر لازم کر لو. ذخیرہ مال فراہم کرنے سے بچو” عام مسلمانوں کیلئے ہدایت فرمائی مومن کیلئے ہر حال میں یہ تین چیزیں لازمی ہیں: "ایک یہ کہ حکمِ الہٰی پر راضی رہے، دوسرے یہ کہ ممنوعات سے بچتا رہے، تیسرے یہ کہ قضائے الہٰی پر راضی رہے، پس مومن کیلئے کم سے کم مرتبہ یہ ہے کہ ان تینوں چیزوں سے خالی نہ ہو” بحوالہ: فتوح الغیب.. از عبدالقادر جیلانیؒ۔۔ دوئم : سلسلہ نقشبندیہ۔۔۔۔ اس سلسلہ کے بانی حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی نقشبندؒ ہیں. اس سلسلہ کی نسبت حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے ہے. یہ سلسلہ طریقت مختلف ناموں سے موسوم رہا. حضرت ابوبکر صدیقؓ سے حضرت شیخ بایزید بسطامیؒ تک یہ سلسلہ "صدیقیہ” کہلایا. حضرت بایزید بسطامیؒ سے حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانیؒ تک "طیفوریہ” کہلایا، خواجہ عبدالخالق غجدوانی سے خواجہ بہاؤالدین زکریا ملتانی نقشبندؒ تک "خواجگانیہ” کہلایا اور حضرت خواجہ نقشبند سے شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانیؒ تک "نقشبندیہ” کے نام سے موسوم رہا اور ہندوستاں میں حضرت مجدد الف ثانیؒ سے منسوب ہوکر "مجددیہ” کہلایا. اس سلسلہ میں شریعت کی پابندی اور اتباع سنت پر کافی زور دیا گیا ہے. ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے شریعت کی پابندی ناگزیر ہے. تقوی’ کیساتھ احتیاط کا زیادہ خیال رکھا گیا ہے. حضرات نقشبندیہ عزیمت پر عمل کو حتی المقدور ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور رخصت پر عمل تجویز نہیں کرتے.احوال و مواجید کو احکام شریعیہ کے تابع رکھتے ہیں. اوذاق و معارف کو علوم دینیہ کے خادم سمجھتے ہیں. حضرت خواجہ بہاؤالدینؒ کو سلوک پر جذبہ کی تقدیم کا الہام ہوا تھا. مشائخ نقشبندیہ اسی پر عامل ہیں جب کہ دوسرے بعض صوفیاء سلوک کو جذبہ پر مقدم کرتے ہیں۔ اس راہ کا پہلا قدم جذبہ ہے جو وصول کی دہلیز ہے۔ داخل سلسلہ ہونے سے پہلے طالب کو ریاضت و مجاہدہ کی منزلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ منزل اذکار و اشغال کے ذریعہ طے کروائی جاتی ہے. پھر طالب راہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ حلقہ ارادت میں داخل ہوکر سلوک و معرفت کے مدارج طے کرنے لگے. اسی لئے ان کی تعلیم کا مسلک "نظر بر قدم” "خلوت در انجمن” "سفر در وطن” ہے. وصول الی اللہ کیلئے ذکر و مراقبہ اور عظمت شیخ ضروری ہے. "ذکر” نفی اور اثبات یعنی لا الہ نفی الا اللہ اثبات کا ذکر ہے. یہ ذکر اس سلسلہ کے متقدمین سے مروی ہے. اس ذکر کیلئے طالب ایسے وقت کا انتخاب کرے کہ خارجی مشاغل اور پریشانیوں سے خالی ہو اور داخلی تشویش یعنی حد سے زیادہ اذیت اور غصہ سے پاک ہو.مجلس ذکر میں طالب موت کو یاد کرے اور ایسے تصور کرے کہ موت اس کے سرہانے موجود ہے پھر اپنے گناہوں سے مغفرت چاہے. ہونٹ اور آنکھیں بند کرے سانس اپنے پیٹ میں روکے، دل میں ” لا” کہے اور اسے اپنی ناف سےدائیں کو کھینچے پھر وہ اپنے شانوں کو ہلائے اور انہیں اپنے سر کی طرف جھکا دے اور کہے "الہ” پھر اپنے دل میں "الا اللہ” کی پختہ ضرب لگائے۔۔۔۔ مشائخ نقشبندیہ کا کہنا ہے کہ حبس دم میں بڑی عجیب خاصیت ہے، اس سے باطن میں گرمی، عزم میں یکسوئی اور عشق و محبت میں برانگیختگی پیدا ہوتی ہے اور طالب وسوسوں پراگندہ خیالات سے نجات پا جاتا ہے. اس ذکر کی سب سے بڑی شرط یہ ہیکہ جب طالب "لا الہ” کہے تو اللہ کے سوا ہر معبود، ہر مقصود، ہر وجود کی نفی کرے اور جب "الا اللہ” کہے تو پورے کامل اور رسوخ اطمینان قلب سے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات میں معبودیت، مقصودیت اور وجودیت کا اثبات اقرار، طلب کرے۔سلسلہ نقشبندیہ میں تذکیہ قلب و تصفیہ باطن کے گیارہ اصول مقرر کیۓ گئے ہیں جن پر چل کر سالک قرب الہٰی کی نعمت سے شرفیاب ہوتا ہے. یہ اصول دراصل حضرت خواجہ نقشبندؒ کے کلمات ہیں. ان میں سے آٹھ کلمات قدسیہ اور تین کلمات مصلحات نقشبندیہ میں سے ہیں. انہی گیارہ کلمات پہ طریقہ نقشبندیہ کی بنیاد ہے. 1. وقوف عددی مراد ذکر میں سانس کو طاق عدد پہ چھوڑنا۔2. وقوف زمانی سالک واقف نفس رہے/پاس انفاس کو ملحوظ رکھے، ہر وقت اپنے حال سے واقف رہے۔ 3. وقوف قلبی ذکر کے وقت دل حق تعالیٰ سے واقف و اگاہ رہے، ذکر کے معنی و مفہوم سے غافل نہ ہو۔ 4. ہوش دردم سالک کا ہر سانس حضور و آگاہی سے ہو نہ کہ غفلت سے۔ 5. نظر بر قدم چلتے وقت سالک کی نظر اپنے پاؤں کی پشت پر رکھے تا کہ راہ چلتے ادھر ادھر نہ دیکھے۔ 6. سفر دروطن سیر درانفس۔ مراد صفات ذمیہ سےصفات حمیدہ کیطرف انتقال کرنا ہے۔ دوسرے سلاسل میں سلوک کو سیر آفاقی سے شروع کرتے ہیں اور سیر انفسی پہ ختم کرتے ہیں۔ 7.خلوت درانجمن. ظاہر میں خلائق کیساتھ, باطن میں حق کیساتھ۔ 8. یاد کرد. ہر وقت ذکر میں مشغول رہے خواہ قلبی ہو زبانی۔ 9. بازگشت. ذاکر جب کلمہ توحید کا ذکر کرے تو دل سے کرے، زبان دل سے کہے :خدایا مقصود، میرا تو ہے اور تیری رضا۔ 10. نگاہ داشت. قلب کو خطرات و حدیث نفس سے نگاہ رکھا جائے۔ 11. یاد داشت. دوام آگاہی بحق سبحانہ اپنے وجود کا ہوش نہ رہے۔ ان میں سے ہر ایک کلمہ کی تشریح کیلئے ایک دفتر درکار ہے، مگر اختصار سے کام لیا ہے۔سوئم: سلسلہ چشتیہ۔ اس خاندان تصوف کے بانی حضرت شیخ ابو اسحاق چشتیؒ ہیں۔ اس سلسہ کی اشاعت شہر چشت سے ہوئی پھر سنجان، دمشق، سجستان، خراسان اور نیشاپور سے ہوتا ہوا یہ سلسلۃ طریقت سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتیؒ کے ذریعے ہندوستان آیا۔ اس سلسلہ میں ظاہر سے زیادہ باطن پہ زور دیا گیا ہے اور پابندیِ شریعت قدم قدم پر لازم رکھی گئی ہے، سلسلہ چشتیہ کی چند اہم خصوصیات: الف۔ سلسلہ چشتیہ کی اساس عشقِ الٰہی پر ہے۔ طاعت، عبادت، ریاضت اور مجاہدہ کا اصل مقصود سوزِعشق کا فروغ ہے۔ ب۔ نفس کی مخالفت اس سلسلے میں کلیدی حثیت رکھتی ہے۔ چشتی مشائخ کے نزدیک النفس الصنم الاکبر نفس سب سے بڑا بت ہے جس کی شکست و ریخت راہِ سلوک کی پہلی منزل ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ لکھتے ہیں کہ "چشتی صوفیاء کے نزدیک نفس کی مخالفت عبادت کی اصل ہے اور اس کی موافقت کفر ہے”۔ نفس کو زیر کرنے اور اس کی تادیب کیلئے مجاہدات پہ زور دیا جاتا ہے۔ ریاضت و مجاہدہ کا مقصود تصفیہ باطن اور تذکیہ اخلاق ہے۔ حضرت نظام الدین اولیاءؒ فرماتے ہیں کہ "ہمارے خاندان چشت میں دو باتیں ہیں ایک تو مخالفتِ ہوا و نفس اور دوسرے ایصالِ منفعت للغیر”۔ ج۔ اخلاقی اقدار اور صفاتِ محمودہ کے فروغ پر خاص زور دیا جاتا ہے۔ اخلاقی تادیب و تربیت کے دو پہلو ہیں جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، ایک تخلیہ ہے اور دوسرا تحلیہ۔ تخلیہ یہ ہے کہ طبعی اور رذیل اخلاق جیسے کینہ، تکبر، غصہ، غیبت اور بدگوئی وغیرہ سے نفس کو پاک کیا جائے۔ اخلاق محمودہ جیسے سخاوت، عفو درگزر، صبر وتحمل، ایثار، توکل و قناعت کی آبیاری کا نام تحلیہ ہے۔ چشتی مشائخ نہ کسی کو حقیر سمجھتے ہیں نہ کسی کو ضرر پہنچانے ہیں، وہ جاہ و ترفع پر تواضع و انکساری کو ترجیح دیتے ہیں۔ خلقِ خدا کے ساتھ ان کا سلوک حد درجہ محبت، شفقت اور درگزر کا ہوتا ہے۔مخلوقِ خدا کی اذیتوں اور سختیوں پر ضبط و تحمل سے کام لیتے ہیں اور اسے روحانی ترقی کا ذریعہ گرادانتے ہیں، فقر کو غناء پر ترجیح دیتے ہیں۔ د۔ اس سلسلہ میں علومِ ظاہری، باطنی کی بڑی جامعیت اور شریعت میں توازن و تلاوم پایا جاتا ہے،وہ علومِ ظاہری کی تکمیل کو ضروری سمجھتے ہیں۔ قرآن کریم کا حفظ اور اس سے حد درجہ شغف چشتی صوفیاء کا امتیازی نشان ہے۔ چشتی صوفیاء افراط و تفریظ کے مغالطوں میں پڑنے سے بچتے ہیں اور زہد و ترکِ دنیا کے باب میں غلو نہیں کرتے، شریعت کی پاسداری کا پورا پورا لحاظ کرتے ہیں۔ ص۔ چشتی صوفیاء سماع کا خاص ذوق رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک سماع سوزِ عشق کو بھڑکانے کا ایک موثر ذریعہ ہے لیکن سماع مزامیر سے پاک اور دوسرا شرائط اور قیود کے ساتھ ہونا چاہئے۔ ط۔ اس سلسلے میں ایک شب و روز کا مجاہدہ ہے حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ فرماتے ہیں "ہمارے سلسلہ میں ایک شب و روز کا مجاہدہ ہے اور زیادہ ذوقِ مشاہدہ ہے”۔۔چہارم: سلسلہ سہروردیہ ۔۔ اس خانوادہِ طریقت کے بانی حضرت شیخ ضیاءالدین ابو نجیب سہروردیؒ ہیں جو شیخ وجیہ الدین ابو حفصؒ کے مرید و خلیفہ تھے۔ اس سلسلہ کی اشاعت آپ کے مرید و خلیفہ شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین سہروردیؒ سے ہوئی۔ آپ کی مشہورِ زمانہ کتاب” عوارف المعارف ” تصوف کی گراں قدر کتاب اور صوفیاءکیلئے مشعلِ ہدایت ہے۔اس سلسلہ طریقت میں اتباعِ اور محبت الہٰی کی تعلیم دی گئی ہے بلکہ پیرویِ رسول اللہ ﷺ عین محبتِ الہٰی ہے۔ شیخ شہاب الدین سہروردیؒ لکھتے ہیں؛ "پس جو جتنا متبعِ رسولﷺ ہے، اسی قدر محبتِ الہٰی کا حصہ دار ہے اور صوفیاء نے اسلامی گروہ میں سب سے بڑھ کر اتباعِ رسولﷺ کی ہے”۔اس سلسلہ تصوف میں علم و عمل دونوں پر توجہ دی جاتی ہے لیکن پیرویِ رسول ﷺ و محبتِ رسول ﷺ پر زیادہ زور ہے۔ پیروی راہِ حق اور اتباعِ مسلک خاص اصول ہیں۔ حضرت شیخ الشیوخ شہاب الدینؒ اکثر فرماتے تھے کہ ” میرا فرزند وہی ہے جو میرے طریقے پر چلے اور میری راہِ ہدایت اختیار کرے۔” اس سلسلہ کی اشاعت کا مرکز بغداد تھا۔ وہاں سے یہ سلسلہ حضرت خواجہ بہاءالدین زکریا ملتانیؒ کے ذریعے ہندوستان آیا اور پنجاب، یوپی، بہار اور بنگال میں خوب پھیلا۔ ایک کامل شیخ، کامل ولی اللہ، کامل مرشد سالک کو کسی سلسلہ میں بھی مرید کرسکتا ہے. بحوالہ جات مآخذ کتب۔ مرآۃ الاسرار۔ عوارف المعارف۔ فتوح الغیب۔ مقدمہ تاریخ مشائخ نفشبندیہ۔ اللہ تبارک تعالیٰ قرآن میں سورة یونس آیت دس میں فرماتا ھے ترجمہ: خبردار! بے شک اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ و غمگین ہونگے ۔۔۔۔ معزز قارئین!! قرآن پاک میں کئی بار بتایا کہ بیشمار انبیاء کرام کے ساتھ اولیاء اللہ ہمیشہ ساتھ رھے ھیں جنمیں حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکار موجود ھیں لیکن آپ ﷺ کے غلاموں کو سب سے زیادہ شرف و مقام بخشا یہی وجہ تھی کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے بڑی گریۂ زاری کے بعد حضور پر نور ﷺ کا امتی ھونے کا شرف حاصل کریں گے اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کی امامت میں دین محمدی ﷺ کو پھیلائیں گے، یہودیوں مشرکوں اور دجال کو واصل جہنم بنائیں گے اور عیسائیوں کو مسلمان ۔۔۔معزز قارئین!! آج کا یہ مسلمان یہ سلاسل کا پیروکار یہ مرشد دنیا پرستی میں ڈوب گیا اور اپنے اعزاز مقام و درجات کو بھول گیا ایسے گدی نشینوں خلفاؤں اور مرشدوں کو اللہ ضرور پکڑے گا کیونکہ یہ وقت ھے جہاد کا بیان سے خطاب سے قلم سے اور سلطنت میں بیٹھ کر قانون بنانے سے تو یہ اس وقت دنیا کا مال و متاع سمیٹنے میں لگے ھوئے ھیں۔ یاد رکھیں ایسے سلاسل کے پیر و مرشد گدی نشین قابل رحم نہیں جو سلاسل کی بدنامی کا باعث بن رھے ھیں اور ساک کو نقصان پہنچا رھے ھیں یہ سلاسل رسول خدا ﷺ اور شیر خداد کی عنایتوں برکتوں محبتوں کا ثمر ھیں جو تاقیامت جاری رہیں گے البتہ اس کا حق ادا نہ کرنے والوں سے سخت حساب روز محشر لیا جائیگا انشاء اللہ



