کالم/مضامین

*عنوان : سرکاری تقرر کا عجیب و غریب اور انوکھا ترین طریقہ*

*ٹائٹل : بیدار ھونے تک*

*عنوان : سرکاری تقرر کا عجیب و غریب اور انوکھا ترین طریقہ*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

سندھ صوبہ یقیناً پاکستان بھر میں سرکاری تقرر میں سب سے جداگانہ حیثیت رکھتا ھے اس کی سب سے بڑی وجہ غیر اخلاقی غیر قانونی اور غیر انسانی روایات کو اپناتے ہوئے کیا جاتا ھے یہاں صرف سندھ اسمبلی پر محققانہ نظر ڈالتے ہیں۔ معزز قارئین سندھ اسمبلی میں ملازمین کی تعداد اراکین سندھ اسمبلی سے ساٹھ فیصد سے زائد ہونے کا انکشاف ہوا ہے، گزشتہ ادوار میں بے دریغ بھرتیوں سے تنخواہوں اور مراعات کا بوجھ بڑھ گیا ہے، سندھ اسمبلی میں اراکین کی تعداد تو محض ایک سو اڑسٹھ ہے لیکن ملازمین کی تعداد پانچ سو سے تجاوز کرگئی ہے جو کہ ابھی بھی رُکنے کا نام نہیں لے رہی، ہر اسپیکر نے میرٹ کے برخلاف بھرتیاں کیں، سندھ اسمبلی میں کام کرنے والے پانچ سو میں سے دو سو ملازمین بھی روزانہ دفتر نہیں آتے، گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کررہے ہیں، کیونکہ نہ تو اتنے لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور نہ ہی کوئی کام، گریڈ اکیس کے تین اور گریڈ بیس کے آٹھ افسران، گریڈ انیس کے گیارہ اور گریڈ اٹھارہ کے بارہ افسران اور گریڈ سترہ کے بائیس افسران تعینات ہیں، جبکہ گریڈ سولہ کے انیس افسران سندھ اسمبلی میں مختلف عہدوں پر تعینات، اکیس گریڈ کے ایک سیکریٹری اور دو سینیئر اسپیشل سیکریٹری کو تنخواہوں کے علاوہ دیگر مراعات بھی حاصل ہیں، بیس گریڈ کے ڈی جی پروٹوکول کی معاونت کے لئے چھبیس اسسٹنٹ پروٹوکول آفیسر۔ انیس گریڈ کے سات ڈپٹی سیکریٹری، اٹھارہ گریڈ کے تین ڈیوٹی سیکریٹری اور اٹھارہ گریڈ کے دس اسسٹنٹ سیکریٹری۔ سولہ گریڈ کے دس اسسٹنٹ، سپرنٹنڈنٹ اور چھ سینئیر اسکیل اسٹینوگرافر اٹھارہ سینئیر کلرک تینتالیس جونئر کلرک اور آٹھ کئیر ٹیکر بھی سندھ اسمبلی کے ملازم ہیں۔ سندھ اسمبلی کی سیکورٹی پر تین سیکیورٹی آفیسر اور تیس سیکورٹی اسسٹنٹ تعینات ہیں۔ معزز قارئین ان تمام تقرریوں میں جہاں غلاف قانون کا ہوشربا عمل نظر آتا ھے وہیں دلچسپ بات یہ بھی ھے کہ تمام کے تمام سیاسی بنیاد اور دیہی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والوں کی ھے گویا سندھ کے بڑے شہر بے وقعت بے توقیر اور بے مقصد ہوگئے ہیں تمام تر خوبیاں صلاحتیں قابلیت ذہانت صرف اور صرف سندھ کے دیہی علاقوں تک محدود ہیں۔ شائد یہ دنیا کی پہلی اور آخری ریاست ملک اور صوبہ ھے جہاں سرکاری تقرر کا معاملہ عجیب و غریب اور انوکھا ترین پایا جاتا ھے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You