کالم/مضامین

عنوان: دو ارب مسلمان اور حرمتِ رسول ﷺ

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: دو ارب مسلمان اور حرمتِ رسول ﷺ ۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

کہاں ہیں دو ارب مسلمان نبی آخر الزماں حضرت محمّد مصطفیٰ ﷺ کی حرمت کی خاطر احتجاج کرنے والے أج پورے انڈیا میں غلیظ و پلید ہندو مسلمانوں کو شہید کررہے ہیں۔ اب تو مسلمان سازو سامان سے بھی آراستہ ہیں، اب تو دنیا بھر کے مسلمانوں کے پاس دولت سمیت ہر قسم کے جنگی ہتھیار موجود ہیں۔ اب کس چیز کی کمی ہے ہاں اب غیرت کی کمی ہے۔ ہم کو نبی آخر الزماں حضرت محمّد مصطفیٰ ﷺ کی حرمت سے زیادہ ضروری اب یوکرائن کے کافر ہوگئے ہیں اب ہم کو روس و یوکرین کے آپس میں لڑتے کافروں کی زیادہ فکر ہے اگر اپنا کوئی غیرت مند ہے تو اس کو مسند اقتدار تک ہم نہیں پہنچنے دیں گے اپنے غیرت مندوں کو ہم جیلوں میں ڈالیں گے تو پھر ان پلید کافروں کی زبان آزاد تو ہوگی کہ یہ ہمارے محسن اور انسانیت کے محسن نبی آخر الزماں حضرت محمّد مصطفیٰ ﷺ پر زبان درازی کریں گے اگر ہم میں غیرت ہو تو ان کی کیا جرات ہے۔ افسوس کے اسی انڈیا کے ساتھ ہماری موجودہ حکومت تجارت شروع کررہی ہے۔ افسوس کہ ہمارے پیارے نبی آخر الزماں حضرت محمّد مصطفیٰ ﷺ کی گستاخی کی جارہی ہے اور ہمارے حکمران نیشنل فلم انسٹیٹیوٹ بنانے میں مشغول ہیں۔ افسوس نبی آخر الزماں حضرت محمّد مصطفیٰ ﷺ پر کافر تبراء کررہے ہیں اور ہمارے حکمران اسکولوں میں میوزک کے استاد بھرتی کرنے میں مشغول ہیں۔ ایٹمی ملک پاکستان کی تمام مذہبی جماعتیں مشترکہ اعلامیہ جاری کریں اور اس حوالے سے مؤثر کردار ادا کریں تاکہ حکومتِ پاکستان عالمی سطح پر مسلم ممالک سے مل کر پوری مسلم دنیا اور مسلم امہ میں انڈین پروڈکٹس کا بائیکاٹ کرے اور مسلم ممالک سے انڈین ہندؤں کو ہنگامی بنیادوں پر فی الفور نکال باہر کریں اور تمام مسلم ممالک انڈین ہندؤں کا داخلہ ممنوع قرار دے اس حوالے سے تمام مذہبی جماعتوں پر بہت اہم ذمہ داری عائد ھوتی ہے۔۔۔۔ معزز قارئین!! انڈیا کے مختلف شہروں میں یہ مسلمان کوئی اپنے حقوق کیلئے نہیں نکلے یہ نبی آخر الزماں حضرت محمّد مصطفیٰ ﷺ کی حرمت پر ہوئے حملے کے خلاف احتجاج کرنے نکلے تھے یہ سب مسلمان انڈین میں ہندو بلوائی پولیس اور آر ایس ایس کے غنڈوں کا تشدد برداشت کررہے ہیں لیکن آزادی حاصل کرنے طاقتور ہوکر اسلام کا دفاع کرنے اور اسلام کا پرچم بلند کرنے کیلئے جن کا ملک معروضِ وجود میں آیا تھا وہ خاموش ہے۔ وہ خود کو مولانا کہلانے والا فضلو لسی پی کر حکومتی پینچوں پر سو رہا ہے۔ اب کہاں گئی مولانا کی دینی فورس کہاں گئے مسلماں جہادی قوم دیکھ لے اور سمجھ لے جو دین کیلئے ایک اینٹ بھی رکھے یہ فضل الرحمن اس پر یہودی کے فتوے داغتا ہے اور عوام کو دین کے نام پر گمراہ کر کے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرتا ہے جیسے ہی کرسی مل جاۓ اس کے ایمان کی حرارت لسی پی کر سو جاتی ہے یہ ہر کرپٹ حکومت میں ہر قسم کے فیصلوں میں حکومت کے فیصلوں کا حصہ دار بن جاتا ہے چاہے وہ ختم نبوت ﷺ میں ترمیم ہو یا ڈرون حملے ہوں دین پر کہیں بھی کوئی بھی حملہ ہو یہ بندہ کرسی پر لسی پی کر سو جاتا ہے اور بس خراٹے مارتا ہے اور جب اس کی کرسی چھن جاۓ اس کے ایماں کی حرارت بھی جاگ جاتی ہے مخالفوں پر فتویٰ براۓ فروخت دن رات فتویٰ بازی کرتا ہے ان جیسے مولوی ملاؤں نے دین کا نہ صرف بیڑا غرق کیا بلکہ کمیونسٹ ذہن رکھنے والے کثیر تعداد میں سیاستدانوں کو ان کے کمیونسٹ ازم ذہن کی فضولیات اور گمراہ کن نظریات کو فروغ دینے میں مدد کی یہی وجہ ھے کہ ہمارے ایوان میں مسلمانیت ایمانیت دیانیت کہیں نظر نہیں آتی اگر آتی ھے تو کافروں کی غلامی اور دین سے دوری۔۔۔۔ معزز قارئین!! ایران نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے پر انڈیا کو دھمکی دی ہے کہ ہم انڈیا کا وہ حال کریں گے کہ پوری دنیا دیکھے گی اور افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستانی حکومت نے ابھی تک کوئی مؤقف پیش نہیں کیا۔ لعنت ایسی حکومت پر بھی اور حکمرانوں پر بھی بیشک وہ کوئی بھی ہو لہٰذا میں بطور مسلمان ہونے کے ناطے اپنا واضح موقف پیش کر رہا ہوں کہ خدا ایسے ملک میں ہمیں زندہ ہی نہ رکھے جس ملک میں ہمارے دلوں کے شہنشاہِ ارض و سماں مالکِ دوزخ و جنت کی توہین کا جواب ہی نہ دیا جا سکے۔ ھمارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بیشمار اسلامی چینلز اسلامی دارلعلوم اسلامی مرکز مذہبی سیاسی و غیر سیاسی جماعتوں کی جانب سے انڈیا کے بیہمانہ ظالمانہ رویئے پر کمزور رد عمل سے انڈیا کی حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑیگا بھارت وہ بزدل چوہا ھے جسے ایک لاٹھی مارنا لازمی ہوتی ھے کہاں ہیں ھماری غیور قوم کہاں ہیں ھماری ایمانی فورس کہاں ہیں ہمارے مفتیان علماءکرام پیر عظام مفکر دانشور ادیب اینکرز کالمکار اور رپورٹرز کہ وہ دنیائے عالم کو اپنا بھرپور ردعمل دکھا سکیں تاکہ انڈیا سمیت دنیا کی کوئی بھی غیر مسلم ملک نبی آخر الزماں حضرت محمّد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کی ہمت نہ کرسکے آج دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد دو ارب ہے جو سب سے زیادہ تصور کی جاتی ھے ھم اتفاق و اتحاد میں نہ ھونے کے سبب یہ کافر مشرکین لادین ھم اکثریت رکھنے والی قوم مسلمان پر حاوی ہیں ہمیں اپنے اندر ایک جانب بحیثیت مسلمان متحد ہونا چاہئے تو دوسری جانب ایمانی طاقت اور عشقِ رسول ﷺ کو بڑھانا چاہئے جب تک عشق و ایمان سے بیدار نہیں ھونگے یہ کافر و مشرکین اسی طرح اپنی غلیظ و خبیث حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے یہاں یہ ہر گز فراموش نیں کرسکتے کہ ان تمام غلاظت و خباثت میں ملحد زندیق کافر قادیانیوں کا بھی بڑا ہاتھ ھوتا ھے اور یہ قادیانی اس منحوس سازش کا بڑا حصہ دار رہتے ہیں۔ ان قادیانیوں کی خباثت گزشتہ دو حکومتوں سے پاکستان کے اندر بڑی تیزی سے پڑوان چڑ رہی ہیں آئین و قانون کی شکنی کے باوجود ہماری حکومتیں کیوں خاموش رہیں اور خاموش ہیں ان کی تمام حرکات و سکنات پر سخت نظر رکھتے ھوئے انہیں آئین کی خلاف ورزی پر فی الفور ملک بدر کردینا چاہئے یہی غیرتِ ایمان کا تقاضہ ھے۔ شاعر الطاف حسین حالی لکھتے ہیں
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا ۔۔۔۔۔۔

اسلام زندہ باد پاکستان پائندہ باد ۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You