حرمین شریفین: ہماری محبت، ہماری عقیدت، ہماری سرخ لکیر

حرمین شریفین: ہماری محبت، ہماری عقیدت، ہماری سرخ لکیر
مکہ و مدینہ کی حرمت پر مسلمان کا دل دھڑکتا ہے
تحریر: سعد محمد مدنی
فاضل مدینہ یونیورسٹی، مدینہ منورہ، سعودی عرب
دنیا میں بہت سے شہر ہیں، بہت سی وادیاں ہیں، بہت سے مقامات ہیں، مگر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی عظمت اپنی نوعیت میں بے مثال ہے۔ یہ وہ مقدس شہر ہیں جن کے ساتھ ایک مسلمان کا تعلق محض جغرافیہ، تاریخ یا تہذیب کا تعلق نہیں؛ یہ تعلق ایمان، محبت، عقیدت، عبادت اور روحانی وابستگی کا تعلق ہے۔
مکہ مکرمہ میں بیت اللہ ہے، وہ گھر جسے اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے ہدایت اور برکت کا مرکز قرار دیا۔ مدینہ منورہ وہ شہر ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کا استقبال کیا، جس کی فضاؤں میں وحی کے آخری دور کی خوشبو بسی، جس کی مسجد میں نبی کریم ﷺ نے نمازیں پڑھائیں، جہاں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے دین کی بنیادیں مضبوط کیں اور جہاں سے اسلام کا نور دنیا کے اطراف میں پھیلا۔
اسی لیے ایک مسلمان کے دل میں مکہ اور مدینہ کے لیے محبت محض جذبات نہیں بلکہ ایمان کی گہری کیفیت ہے۔
مکہ وہ شہر جسے اللہ نے امن عطا فرمایا
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے لوٹ کر آنے کی جگہ اور امن کا مقام بنایا۔”
(سورۃ البقرۃ: 125)
یہ اللہ کا وہ گھر ہے جس کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی:
“اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے۔”
(سورۃ ابراہیم: 35)
اور اللہ تعالیٰ نے مکہ کو امن والے شہر کے نام سے یاد فرمایا:
“اور اس امن والے شہر کی قسم۔”
(سورۃ التین: 3)
یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ مکہ مکرمہ کی شناخت ہی امن، حرمت , عقیدت اور عبادت سے وابستہ ہے۔
قرآن کہتا ہے:
“بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا، وہی ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت ہے اور تمام جہانوں کے لیے ہدایت کا مرکز ہے۔”
(سورۃ آل عمران: 96)
یہ کوئی معمولی مقام نہیں۔ یہ وہ گھر ہے جس کی طرف دنیا بھر کے مسلمان نماز میں رخ کرتے ہیں، جس کے گرد طواف کرتے ہیں، جس کی زیارت کے لیے دور دراز سے سفر کرتے ہیں اور جس کے حج کو اللہ تعالیٰ نے صاحبِ استطاعت مسلمانوں پر فرض قرار دیا۔
رسول اللہ ﷺ کی زبان سے مکہ کی محبت
مکہ مکرمہ سے رسول اللہ ﷺ کی محبت کا اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے مکہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
“اللہ کی قسم! تو اللہ کی بہترین زمین ہے اور اللہ کی زمین میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے، اور اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ جاتا تو میں تجھ سے نہ نکلتا۔”
(جامع الترمذی: 3925، امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا)
جس شہر کو اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ کی بہترین زمین اور اللہ کے نزدیک محبوب ترین زمین قرار دیا ہو، اس شہر سے محبت ایک مسلمان کے دل میں کس قدر گہری ہونی چاہیے، اس کا اندازہ ہر صاحبِ ایمان خود کرسکتا ہے۔
مدینہ وہ شہر جس سے رسول اللہ ﷺ نے محبت مانگی
مدینہ منورہ کی عظمت بھی قرآن و سنت میں روشن ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انصارِ مدینہ کی محبت، ایثار اور قربانی کو قرآن میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا:
“اور جو لوگ ان سے پہلے مدینہ میں گھر بنا چکے اور ایمان لا چکے، وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آئے، اور جو کچھ ان مہاجروں کو دیا گیا اس کے بارے میں اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے، بلکہ خود اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، خواہ خود انہیں سخت ضرورت ہو۔”
(سورۃ الحشر: 9)
یہ مدینہ تھا جس نے مہاجرین کو اپنے سینے سے لگایا۔ یہ مدینہ تھا جس نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے اپنے دروازے کھول دیے۔ یہ مدینہ تھا جہاں اسلامی معاشرے کی تشکیل ہوئی اور جہاں اسلام کی دعوت ایک مضبوط اجتماعی قوت بن کر دنیا کے سامنے آئی۔
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے لیے دعا فرمائی:
“اے اللہ! ہمارے لیے مدینہ کو اسی طرح محبوب بنا دے جیسے تو نے مکہ کو ہمارے لیے محبوب بنایا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ؛ اور اسے ہمارے لیے صحت والا بنا دے۔”
(صحیح بخاری: 3926، صحیح مسلم: 1376)
ذرا غور کیجیے! رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے دلوں میں مدینہ کی محبت پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرما رہے ہیں۔
یہ محبت معمولی محبت نہیں؛ یہ رسول اللہ ﷺ کی نسبت سے پیدا ہونے والی وہ محبت ہے جو صدیوں سے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
مکہ اور مدینہ دونوں حرم ہیں
رسول اللہ ﷺ نے مکہ کی حرمت کو قیامت تک کے لیے بیان فرمایا۔
(صحیح مسلم: 1353)
اور مدینہ کے بارے میں فرمایا:
“میں مدینہ کو اس کے دونوں حَرّوں کے درمیان حرم قرار دیتا ہوں۔”
(صحیح مسلم: 1374)
پس مکہ اور مدینہ دونوں وہ مقدس شہر ہیں جن کی حرمت شریعت نے متعین فرمائی ہے۔
ان شہروں کا امن، ان کی پاکیزگی، ان کی حرمت اور ان کے تقدس کی حفاظت محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مسلمان کے دینی شعور کا حصہ ہے۔
حرمین شریفین: مسلمان کی محبت کی سرحد
ایک مسلمان کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی محبت کسی نقشے پر کھینچی ہوئی سرحد نہیں بلکہ دل میں قائم ایک مقدس سرحد ہے۔
یہ وہ سرحد ہے جس کے اندر بیت اللہ کی حرمت ہے۔
یہ وہ سرحد ہے جس کے اندر مسجد نبوی ﷺ کی عظمت ہے۔
یہ وہ سرحد ہے جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی یادیں وابستہ ہیں۔
یہ وہ سرحد ہے جس کے ساتھ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی قربانیاں وابستہ ہیں۔
اسی لیے دنیا بھر کے مسلمان ان مقدس شہروں کے امن و امان کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھتے ہیں۔
حرمین شریفین کے بارے میں مسلمان کا جذبہ یہ ہے کہ:
ان کی حرمت سلامت رہے۔
ان کا امن ہمیشہ قائم رہے۔
ان کے تقدس پر کوئی آنچ نہ آئے۔
زائرین اطمینان کے ساتھ طواف کریں۔
مسجد نبوی میں آنے والا ہر مسلمان امن و سکون کے ساتھ درود و سلام پیش کرے۔
اور ان مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے جو لوگ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں ثابت قدم رکھے۔
جان و مال سے بڑھ کر عزیز
ایک سچے مسلمان کے لیے مکہ اور مدینہ کی محبت ایسی محبت ہے جس کے سامنے دنیا کی بہت سی محبتیں ماند پڑ جاتی ہیں۔
وہ مسلمان جس کا دل بیت اللہ کی طرف کھنچتا ہے، وہ جانتا ہے کہ اس گھر کی طرف رخ کرکے اس نے اپنی زندگی کی بے شمار نمازیں ادا کی ہیں۔
وہ مسلمان جس کی آنکھ مدینہ منورہ کا تصور کرتے ہی نم ہوجاتی ہے، وہ جانتا ہے کہ یہی وہ شہر ہے جہاں اس کے محبوب رسول اللہ ﷺ تشریف فرما رہے، جہاں صحابہ نے دین کے لیے اپنی جانیں، مال اور گھر پیش کیے۔
اسی لیے حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے جان و مال قربان کرنے کا جذبہ مسلمان کے ایمانی جذبات کا ایک مظہر ہے۔ انسان جس چیز کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتا ہے، اس کے لیے قربانی دینے کو سعادت سمجھتا ہے۔
لیکن اسلام کا یہ جذبہ نظم، شریعت، حکمت اور جائز ذمہ داری کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ کسی فرد کو قانون ہاتھ میں لینے، بے گناہوں کو نقصان پہنچانے یا اپنی طرف سے کوئی اقدام کرنے کی اجازت نہیں۔ حرمین کی حفاظت کا حقیقی جذبہ وہ ہے جو امن قائم کرے، حرمت کی پاسداری کرے اور اہلِ حرم و زائرین کی جان و مال کی حفاظت کرے۔
اللہ نے حرمین کی خصوصی حفاظت کا ذکر فرمایا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“کوئی شہر ایسا نہیں جسے دجال پامال نہ کرے، سوائے مکہ اور مدینہ کے۔ ان دونوں کے ہر راستے پر فرشتے صفیں باندھے ان کی حفاظت کر رہے ہوں گے۔”
(صحیح بخاری: 1881)
یہ حدیث مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی عظمت کا ایک غیر معمولی پہلو سامنے لاتی ہے۔
یہ دونوں شہر ایسے مقدس مقامات ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ دجال بھی ان میں داخل نہیں ہوسکے گا اور ان کے راستوں پر فرشتے حفاظت کے لیے مقرر ہوں گے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بھی ہے اور حرمین شریفین کی خصوصی عظمت بھی۔
حفاظت صرف دیواروں کی نہیں، حرمت کی بھی ہے
حرمین شریفین کی حفاظت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ان کی عمارتیں محفوظ رہیں۔ اصل حفاظت ان کی حرمت، امن، تقدس اور روحانی شناخت کی حفاظت ہے۔
مکہ کی حرمت یہ ہے کہ وہاں اللہ کا گھر ہے۔
مدینہ کی حرمت یہ ہے کہ وہاں مسجد نبوی ﷺ ہے۔
مکہ کی عظمت یہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان اس کی طرف رخ کرتے ہیں۔
مدینہ کی عظمت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنا شہر بنایا، اس کے لیے دعائیں فرمائیں اور اس سے محبت فرمائی۔
لہٰذا جو مسلمان حرمین کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے، اسے اپنی زندگی میں بھی ان کی حرمت کا پاسبان بننا چاہیے: اپنی زبان سے، اپنے کردار سے، اپنی دعاؤں سے، اپنے ادب سے اور اپنے عمل سے۔
حرمین کے محافظوں کے لیے خیرخواہی
جو لوگ حرمین شریفین کے امن، زائرین کی سلامتی اور مقدس مقامات کی حفاظت کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، ان کے لیے خیرخواہی اور دعا ایک مسلمان کے فطری جذبات کا حصہ ہے۔
اے اللہ! جو لوگ بیت اللہ کی حفاظت، مسجد نبوی کی حفاظت، حرمین کے امن اور زائرین کی سلامتی کے لیے ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، انہیں اپنی حفاظت میں رکھ۔
اے اللہ! انہیں امانت، عدل، حکمت اور ثابت قدمی عطا فرما۔
اے اللہ! حرمین شریفین کے دروازے قیامت تک امن و عافیت کے ساتھ کھلے رکھ۔
اے اللہ! ہر مسلمان کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی سچی محبت عطا فرما۔
ہماری سرخ لکیر: حرمتِ حرمین
مسلمانوں کے دلوں میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت ایسی مقدس حقیقت ہے جس پر کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔
بیت اللہ کی طرف دیکھنے والے کروڑوں دل ایک ہی مرکز سے جڑے ہوئے ہیں۔
مسجد نبوی ﷺ کی طرف محبت سے دیکھنے والے کروڑوں آنکھوں میں ایک ہی عقیدت ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک، مختلف زبانیں اور مختلف ثقافتیں رکھنے والے مسلمان جب حرمین کے نام پر جمع ہوتے ہیں تو ان سب کے دلوں کی کیفیت ایک ہوجاتی ہے۔
یہ مکہ ہے!
یہ مدینہ ہے!
یہ حرمین شریفین ہیں!
ان کی حرمت ہماری محبت ہے، ان کا امن ہماری دعا ہے، ان کا تقدس ہماری عقیدت ہے اور ان کی حفاظت ہماری اجتماعی خیرخواہی کا عظیم باب ہے۔
اللہ تعالیٰ مکہ مکرمہ کو ہمیشہ امن عطا فرمائے۔
مدینہ منورہ کو ہمیشہ سکون، برکت اور عافیت عطا فرمائے۔
حرمین شریفین کو ہر شر، فتنہ اور فساد سے محفوظ فرمائے۔
ان کے خادمین، محافظین اور تمام ذمہ داران کو اپنی خصوصی نصرت و حفاظت عطا فرمائے۔
اور امتِ مسلمہ کے دلوں میں حرمین شریفین کی ایسی سچی محبت پیدا فرمائے کہ ان کی حرمت، امن اور تقدس کی حفاظت کو ہر مسلمان اپنے ایمان کی ایک عظیم ذمہ داری سمجھے۔
اے اللہ! حرمین شریفین کو ہمیشہ آباد، محفوظ، پُرامن اور سربلند رکھ۔
آمین یا رب العالمین۔



