*عنوان: دشمنوں کے مبصرین بھی بول اٹھے*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: دشمنوں کے مبصرین بھی بول اٹھے*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
امریکہ سے مسلسل دنیا بھر میں دہشتگردی غنڈہ گردی اور مسلم ریاستوں پر جنگ مسلط کرنے کا سلسلہ اسرائیل میں منتقل ہوگیا۔ گزشتہ ماہ امریکہ کے اشارے پر بھارت نے پاکستان پر چڑھائی کی تو بری طرح شکست سے دوچار ہوا ابھی پاک بھارت جنگ ہوئے کچھ دن ہی گزرے تھے کہ امریکہ کی ناجائز اولاد اسرائیل نے ایران پر دھاوا بول دیا اس اچانک حملہ سے ایران تیار تو نہ تھا لیکن پھر چند گھنٹوں بعد ایسا سنبھلا کہ اسرائیل کی چاروں چنٹیں کھول کررکھ دی ہیں اور اب اسرائیل سیز فائر کا راستہ دیکھ رھا ھے۔ امریکہ اور اسرائیل کی پچاس سالہ جنگی بدمعاشی پر خود انہیں کے مبصرین تجزیہ کار اور معیشت دان چیخ اٹھے کہ اس نظام اور بدمعاشی سے امریکہ اور اسرائیل معاشی و عسکری طور پر بھی کمزور اور مفلوج ہوکر رہ جائیگا اس سلسلے میں امریکی فوجی اور سابقہ اسلحہ انسپکٹر اسکاٹ ریٹر نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل کو کاری ضربیں لگائی ہیں۔ حیفہ کی بندرگاہ مٹی کا ڈھیر بن چکی ہے۔ بن گوریئن ائیر پورٹ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ گیس کی تنصیبات ختم ہوگئی ہیں۔ اسرائیل کے اندر کئی اہم اہداف کو نشانہ بنایا جاچکا ہے اور یہ صرف وہ کچھ ہے جو ہمیں دکھایا جارہا ہے اور بہت کچھ چھپایا جارہا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ اپنی ائیر بیسز سے محفوظ طریقے سے اُڑان بھی نہیں بھر سکتی۔ اسی لئے وہ برطانیہ کے زیر انتظام قبرص کے فوجی اڈوں کا سہارا لے رہی ہے۔ یہ صورتِ حال آنے والے دنوں میں مزید بگڑنے والی ہے۔ امریکہ نے اربوں ڈالر جھونک کر جو دفاعی نظام تیار کیا، جسے آئرن ڈوم کہتے ہیں، وہ بیکار ہوچکا ہے۔ جو میزائل روکے بھی جارہے ہیں، وہ صرف وہی ہیں جنہیں روکنے کیلئے ہی چھوڑا گیا ہے۔ ایران نے دس بیس سال پرانے میزائلوں کو اس طریقے سے تیار کیا ہے کہ وہ ڈیفنس سسٹم کو الجھا لیتے ہیں، دفاعی نظام انہیں حقیقی سمجھ کر ان پر لپکتا ہے اور اصل میزائل کامیابی سے اپنے ہدف کو اسٹرائیک کر جاتا ہے۔ امریکہ کے پاس اب دینے کو مزید میزائل بھی نہیں بچے۔ ایشیاء پیسیفک کمانڈ کے افسران اب سوال کر رہے ہیں کہ چین کے خلاف اگر کوئی کشیدگی بڑھتی ہے تو ہم دفاع کس سے کریں گے؟ سب کچھ اسرائیل پر قربان ہوچکا ہے۔ نیمتز جیسے بحری بیڑے کو بھی مشرقِ وسطیٰ منتقل کردیا گیا ہے، جس سے پورے جنوبی چین کے سمندر کا دفاع کمزور پڑ گیا ہے۔
اسرائیلی صدر کی "گولڈن ڈوم” جیسی باتیں محض خواب ہیں۔ جس منصوبے پر ایک سو پچھہتر ارب ڈالر خرچ کرنے کی بات ہورہی ہے، وہ ٹیکنالوجی ابھی وجود ہی نہیں رکھتی اور اگر وہ نظام بن بھی گیا تو کئی دہائیاں لگیں گی اور اس کی قیمت کھربوں ڈالر تک جا پہنچے گی۔ مسئلہ صرف نظام کا نہیں، قیادت کا ہے۔ صدر کی ناتجربہ کاری اور جہالت کی قیمت اسرائیلی عوام چکا رہے ہیں اور ان سے کوئی ہمدردی بھی نہیں رکھتا، کیوں کہ انہوں نے غزہ میں گزشتہ ڈیڑھ برس سے کیا کچھ نہیں کیا؟ ہزاروں معصوم فلسطینی، عورتیں، بچے قتل کئے گئے، اور دنیا خاموش رہی۔ اب ایران نے جو جوابی کارروائی کی ہے، اس میں ٹارگٹڈ حملے ہورہے ہیں، لیکن اسرائیل ابھی بھی اندھا دھند بمباری کررہا ہے۔ ایک ہی عمارت میں چھبیس بچوں سمیت ساٹھ افراد شہید کردیئے گئے، مگر دنیا خاموش ہے۔ یہ وہی اسرائیل ہے جو خود کو دنیا کی سب سے "اخلاقی” فوج قرار دیتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ بدترین درندگی کا مظاہرہ کررہا ہے۔ انہوں نے بغیر کسی قانونی جواز کے ایران پر حملہ کیا۔ اقوامِ متحدہ کا قانون، بین الاقوامی ضابطے سب پامال کردیئے گئے۔
ایران نے جو جوہری معاہدہ کرنے کی تیاری کی تھی، اس پر بھی پانی پھیر دیا گیا۔ ایران نے آئی اے ای اے کے ساتھ مکمل تعاون کی پیشکش کی تھی۔ یہاں تک کہ وہ امریکی معائنہ کاروں کو بھی آنے دینے پر آمادہ تھا۔ لیکن امریکی صدر نے انکے اعتماد کو دھوکہ دیا۔ ایران کو لگا کہ معاملات بہتری کی طرف جارہے ہیں، لیکن پسِ پردہ انکی مذاکراتی ٹیم ہی مار دی گئی۔ شمع خانی سمیت وہ سب لوگ جنہوں نے ایران کو امن کی راہ پر لانے کی کوشش کی، شہید کردیئے گئے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوا تاکہ ایران کو بے خبری میں دبوچا جاسکے۔ یہ حملہ "پرل ہاربر” جیسا خفیہ اور بے بنیاد تھا اور ہم امریکی اس جرم کے مرتکب تھے۔ بدترین بات یہ ہے کہ جو لوگ یہ سب کروا رہے ہیں، وہ ناسمجھ، احمق اور لاپرواہ لوگ ہیں۔ صدر کے اردگرد کوئی سنجیدہ، باشعور مشیر موجود نہیں۔ وہ ایسے لوگوں سے مشورے لے رہا ہے جو جنگ کو کھیل سمجھتے ہیں اور اس جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کررہی ہے۔ اسکاٹ ریٹر کہتا ہے کہ روس واضح کرچکا ہے کہ وہ پہل نہیں کریگا، لیکن اگر امریکہ نے ایران پر ایٹمی حملہ کیا تو روس یورپ کو نشانہ بنائیگا۔ یہ خطرہ حقیقی ہے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ امریکہ کی قیادت اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ یہ سب کچھ صدر کی کمزوری، خودغرضی اور ناقابلِ اعتبار شخصیت کی وجہ سے ہوا۔ جو شخص بار بار امن کی بات کرتا ہے، لیکن کسی کے دباؤ میں آکر جنگ چھیڑ دیتا ہے، وہ نہ لیڈر ہے، نہ مرد، بلکہ ایک کمزور، جذباتی اور خود فریبی میں مبتلا انسان ہے۔ دنیا میں جو تھوڑی بہت امید باقی تھی، وہ ان رہنماؤں کے ذریعے زندہ تھی جو مشرقِ وسطیٰ میں تجارت اور ترقی کی بنیاد پر نیا مستقبل چاہتے تھے لیکن امریکی صدر نے ان کوششوں پر بھی پانی پھیر دیا۔ اسکاٹ ریٹر آخر میں سوال پوچھتا ہے کہ ہم، یعنی عام لوگ، کہاں کھڑے ہیں؟ کوئی احتجاج نہیں، کوئی تحریک نہیں۔ گویا سب نے ظلم کو قبول کرلیا ہے ہم اجتماعی طور پر ناکام ہوچکے ہیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! اسرائیل ھو یا امریکہ یا پھر برطانیہ و بھارت ان چاروں کے وزیراعظم و صدور انتہائی جھوٹے مکار دوغلے منافق اور عیار ہیں یہ دنیا کو بیوقوف سمجھتے ہیں اور بنانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ مورخین کے مطابق ان چاروں نے برسوں سے ناکامی شکست اور بےعزتی کے سوا کچھ حاصل نہ کیا یہ بھول جاتے ہیں کہ مسلم دنیا کے درمیانہ درجے کے ممالک میں ایمان جذبہ جھاد اور شہادت کے جذبے کوٹ کوٹ کر بھرے ہوتے ہیں۔ ان ایمان یافتہ مسلمانوں کا مقابلہ دنیا بھر کی طاقت بھی نہیں کرسکی ھے اور نہ ہی کرسکتی ھے۔ امن کے خواں ان کافروں مشرکوں اور صیہونیوں کو اپنا عمل درست کرنے کی اشد ضرورت ھے وگرنہ اس بار مسلم دنیا کے چند ممالک سے انہیں اچھی خاصی مار کھانی پڑیگی۔۔۔ !!




