*عنوان: جہاد بناء مسلمان ہی نہیں۔۔۔ !!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: جہاد بناء مسلمان ہی نہیں۔۔۔ !!*
*کالمکار : جاوید صدیقی*
اس صدی میں ہونے والی جنگوں میں بدترین جنگ اسرائیل کی جارحانہ جنگ ھے جو فلسطین کے علاقے عزوہ پر جاری ھے۔ اسرائیلی و امریکی زائینسٹوں نے اسلام نفرت میں تمام انسانی حدودیں پار کرلی، جس میں اسکول، اسپتال، مساجد اور رہائشیوں پر خطرناک ترین بموں کی بارش برسانے کا سلسلہ گزشتہ ایک سال سے زائد جاری کیا ھوا ھے، اسرائیل کی دہشتگردی کی امریکہ نہ صرف کھلے عام مالی و عسکری سپورٹ کرتا رھا ھے بلکہ اسلحہ کی مد میں ابتک اربوں نہیں بلکہ کھربوں ڈالرز خرچ کرچکا ھے۔ دکھ کی بات تو یہ ھے کہ دنیا بھر میں ستاون اسلامی ممالک ہیں اور چند ایک کے علاوہ دنیا کے امیرترین بھی ہیں، لیکن چند ایک ممالک کے علاوہ دیگر سب ان بزدل، جھوٹے اسلام دشمنوں سے دوستیاں اور وفاداریاں نبھاتے تھکتے نہیں۔ ان دشمنانان اسلام اور امریکی سپورٹ و وفاداری میں پاکستان بھی پیچھے نہیں۔ ہمارے حکمرانوں کا رویہ اور کمزور خارجہ پالیسی ہماری عزت و آبرو اور وقار کو زمین بوس کرتی جارہی ھے۔ ابتک تقریباً لگ بھگ چالیس ہزار سے زائد نہتے بچے بچیاں، لڑکے لڑکیاں، مرد و خواتین، اور بوڑھے بوڑھیاں شہادت نصیب کرچکے ہیں۔ غزہ سمیت فلسطین کے دیگر علاقوں بلخصوص باڈرز اور پناہ گزیر کیمپس پر بھی بمباری کرکے کئی سو نہتے فلسطینیوں کو شہید کیا۔ اسرائیلی و امریکی زائیسنٹ دنیا کیلئے خطرہ بن چکے ہیں جبکہ بت پرست زائینسٹ بھارت اور برما بھی اسلام دشمنی میں نہتے اقلیتی مسلموں پر خون کی ہولی کھیلتے تھکتے نہیں۔ دین اسلام کا سب سے اہم، سب سے مقدم فریضہ اور رکن "جہاد” ھے جسے آج کا مسلمان اس فریضہ کی ادائیگی سے گھبراتا نظر آتا ھے۔ آپ ﷺ نے آخیر زمانے کے مسلمانوں کی ناکامی اور بربادی کیلئے جو پیشگوئیاں کی تھیں ان کا مقہوم کچھ یوں تھا کہ ایک زمانہ ایسا بھی آئیگا جس میں مسلمان مادیت پرستی اور دنیا پرستی میں مست ہوجائے گا۔ موت سے خوف بڑھ جائیگا اور زندگی سے بہت زیادہ پیار بڑھ جائیگا، شراب، شباب، زنا، سود اور حرام کاریاں زندگی کی معمول کا حصہ بن جائیں گی اور گناہ معیوبی سے نکل کر اعزاز کی صف میں کھڑا نظر آئیگا یعنی ہر بڑی محفل میں شراب نوشی فیشن بن چکی ھوگی، زنا کاری دوستی اور پیار کا حصہ بن جائیگی ۔ کمزور، مسکین غلام سے بھی بدتر مقام پر رکھے جائیں گے۔ معزز قارئین اگر مطالعہ اور غور کیا جائے تو ھم من حیث الامت ایک بدترین امت بن چکے ہیں یوں لگتا ھے کہ دن بدن ھم امت مسلمہ مزید پستی کا شکار ھوتے چلے جائیں گے کیونکہ ھم نے نماز، روزہ، زکواة، حج اور صدقہ کو ہی نجات تصور کرلیا ھے۔ یہی سبق روز ہر وقت تبلیغ اور دعوت دین پھیلانے والے درس دیتے تھکتے نہیں جبکہ ریاست کو دجالی شیطانی اور ابلیسی لباس پہنے ہدایت نصیحت اور روک ٹوک نہیں کرتے کیونکہ کہیں ریاست ان سے چندوں فطروں زکواة خیرات عطیات کا حساب کتاب نہ پوچھ لے گویا تم ادھر خوش ہم ادھر خوش گویا آخیر زمانے میں دین درہم و دینار میں تولا جائیگا یہی صورتحال نظر آرہی ھے۔ معزز قارئین آج کے مسلمان نے حقوق العباد اور فریضہ جہاد کو مکمل رد کردیا ھے جبکہ امت کی بقاء و سلامتی، عزت و آبرو، وقار و رعب اور عدل و انصاف اسی میں پہناں ہیں۔ اللہ سبحان تعالیٰ اور اسکے حبیب ﷺ کے فرمان کا مفہوم ھے کہ تمہاری نمازیں اور عبادات تمہارے منہ پر دے ماری جائیں گی تاوقتکہ تمہارا حقوق العباد متوازن ہو۔ رب کے فرمان کے مطابق میں اپنے حقوق معاف کردونگا لیکن حقوق العباد نہیں جبتکہ عباد خود معاف نہ کرے۔ معزز قارئین آج امت مسلمہ قوی ارادہ اور ایمان سے طے کرلے کہ وہ دین محمدی ﷺ کے اصولوں کے تحت جہاد کو اپنائیں گے اور غیر مسلموں کو بناء کسی خوف و خطر واضع کردیں گے کہ ہمارے دین محمدی ﷺ میں جہاد ایک مقدس و معتبر اہم ترین فریضہ اور رکن ھے اور ھم جہاد سے جدا ہرگز ہرگز نہیں ہوسکتے تو پھر امت مسلمہ دیکھے گی کہ اسلام اور مسلمان کس طرح دنیا پر حکمرانی کرتا ھے لیکن اس عمل کیلئے ایمان کا شرط ہونا لازمی ھے۔۔۔۔۔!!



