عنوان: جمعداروں کا حمام ۔۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: جمعداروں کا حمام ۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
پاکستان میں برسوں سے گندگی و غلاظت کی صفائی کیلئے ایک طبقہ مخصوص ھے جسے ھم جمعدار اور عام فہم میں بھنگی بھی کہتے ھیں۔ جمعداروں کا نام بھنگی اس لئے پڑگیا تھا کہ سالوں پہلے سے یہ گندگی کی بدبو کو ذہنی طور پر تبدیل کرنے کیلئے نشہ خاص طور پر بھنگ اور چرس کا استعمال کیا کرتے رہے ھیں لیکن زمانے کی تبدیلی کیساتھ ساتھ یہ اعمال ھمارے سیاستدانوں، حکمرانوں، اشرفیہ اور نوکر شاہی طبقہ میں کئی سالوں سے سرائیت کرتا چلا آرھا ھے اب یہ نسل در نسل میں منتقل ھونے کے سبب بہت زیادہ اور طاقتور ھوگیا جس سے ایک جانب شراب و شباب بدکاریاں تو دوسری جانب قومی خذانے کی لوٹ کھسوٹ، چوری اور ڈاکہ زنی گویا رواج بن گئی اور بیوقوف عوام کو گدھا بناکر مہنگائی اور ٹیکس کی گاڑی میں جوت دیا، اب عوام جائیں تو کہاں جائیں چاروں اطراف بدلتے چہرے ظالموں کی ہی ہیں ہر ایک کے گھاس پھوس میں کانٹے اور زہریلے کڑوے اثرات بھرے پڑے جو جبراً ان گدھی عوام کے منہ میں ٹھونستے ہیں اور پیچھے سے ڈالڈا مارتے ھیں۔ ایک مخلص وطن کے بیٹے نے مجھے بتاتے ھوئے کہا کہ عمران خان آپ اپنی تقریر میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف پر طنز کررہے تھے. آپ اقتدارِ کی ہوس اور تکبر کے خول سے باہر نہیں نکل پارہے ہیں، آپ کو علم ہونا چاہئے جب آپ غیروں کی گود میں بیٹھ کر فخر محسوس کرتے تھے، جب آپ کے والد سرکاری ملازم تھے اور ان پر کرپشن کے الزام تھا، انہیں گرفتار کیا گیا تھا، اس زمانے میں میجر جنرل احمد شریف چودھری کے والد محترم معروف سائنٹسٹ اسلامک اسکالر سلطان بشیر الدین محمود پاکستان کے مایہ ناز ایٹمی پروگرام میں ملک کیلئے خدمات سر انجام دے رہے تھے، جس وقت عمران خان کی زندگی صرف لندن کے گراؤنڈ اور نائٹ کلب میں ھوا کرتی تھی، اس وقت ڈی جی آئی ایس پی آر کے والد پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لئے بیس بیس گھنٹے کام کیا کرتے تھے، وہیں دفتر / ریسرچ سینٹر یا لیبارٹری میں وہ سلیپنگ بیگ بچھا کر سوجاتے تھے، ڈاکٹر قدیر خان کو ہالینڈ سے پاکستان لارہے تھے. آج آپ ایٹمی طاقت کا نعرہ مارتے ہیں ان میں میجر جنرل احمد شریف کے والد محترم کا کچھ نا کچھ حصہ ضرور ہے. میجر جنرل احمد شریف کے والد نے اسلام اور سائنس پر بیس سے زائد کتابیں تصنیف کی ہیں، ایک بھائی عاصم محمود ڈاکٹر ہیں، خود احمد شریف عظیم فوج کا حصہ ہیں ٹو اسٹار جنرل کے رینک پر ملک کیلئے خدمات سر انجام دے رہےہیں. جناب عمران خان صاحب آپ کی کیا خدمات ہیں، آپ سائنٹسٹ ہیں، آپ کی علمی خدمات ہیں، آپ کو تو تاریخ کا بھی علم نہیں ہے سائنس تو دور کی بات ہے۔ آپ حادثاتی کرکٹر تھے، آپ کی کارکردگی سے دنیا واقف ہے، ورلڈ کپ میں آپ کے علاوہ ہر کھلاڑی نے پرفارم کیا لیکن بدقسمتی سے کریڈٹ آپ نے لیا۔ خان صاحب! کسی پر طنز کرکے اپنی خاندان ننگا نہیں کریں، آپ کی زندگی کا ہر پہلو ناقابل بیان ہے، دنیا آپ کے اسکینڈلز سے واقف ہے، بقول آپ کے ستر برس کی عمر میں آپ نے اسلام سیکھا اور وہ بھی جادو گرنی سے جو عدت میں نکاح کو روحانیت سمجھتی ہے؟ مزید منہ نہ کھلوائیئں۔ کرکٹ کا کپ ملک و قوم کے گھٹنوں میں بیٹھ گیا ہے اور قوم کی خیرات سے تعمیر شدہ کینسر اسپتال اپنی ماں کے نام بنوا کر جو احسان کیا ہے اسکا سود قوم سے دہشتگردی کی صورت واپس لینا چاہتے ہیں؟ فوج نے آپ کو وزیر آعظم بناکر جو جرم عظیم کیا ہے اس کا بدلہ دشمنان پاکستان کا ٹائوٹ بن کر اتار رہے ہیں؟ 9 مئی کی دہشتگردی کو مورخ سیاہ باب لکھ چکا ھے یہ قوم آپ کو کبھی بھی معاف نہیں کریگی۔۔۔۔۔معزز قارئین!! اس مخلص وطن کی بات سنکر میں گہری سوچ میں پڑگیا کہ پاکستانی قوم نے آخری روشنی سمجھتے ھوئے اسے کس قدر عزت و مقام بخشا اور چار سال وزیراعظم اور تقریباً دس سال کے پی کے میں حکومت کیلئے منتخب کیا کرنے والے تبدیلی کیلئے تو تین ماہ بہت ھوتے ھیں مگر اس نے اوروں کی طرح منافقت جھوٹ اور بھرپور دھوکہ سے کام لیا گویا جن پی تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے۔ اب یہ حقیقت عیاں ھوگئی کہ ھے کہ پاکستان اور پاکستانی عوام کیلئے جمہوریت ایک مکمل دھوکہ فراڈ اور فریب ھے صدراتی نظام ناگزیر ھے لیکن صدارتی نظام قرآن و سنت کے اصولوں اور مکمل شرعی قوانین کے مطابق ھو کیونکہ نظام مصطفٰی تھا تو دنیا پے حکومت تھی اور جب نظام مصطفٰی چھوڑا تو دنیا کی غلامی کی۔ نظام مصطفٰی 1400 سال قبل آچکا ھے بس ریاست پاکستان میں لاگو کرنے کی دیر ھے تب ہی ھم خوشحال اور ترقی یافتہ ھوسکیں گے ورنہ ذلت و رسوائی ھمارا مقدر ٹھرے گی۔۔۔۔!!



