عنوان: بھارت کیخلاف جنگی جرائم کا مقدمہ

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: بھارت کیخلاف جنگی جرائم کا مقدمہ۔۔۔!!
بھارت نے سنہ انیس سو چوراسی میں آپریشن بلیو اسٹار کے ذریعے خالصتان کے نام پر علیٰحدہ وطن کا مطالبہ کرنے والے بھارتی سکھوں کیخلاف ظلم و تشدد کی پالیسی کا آغاز کیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کیطرف سے جاری ایک رپورٹ کیمطابق سکھوں کی بھارت کیخلاف لڑائی دراصل ہندو بالادستی کے نظریہ ہندوتوا کیخلاف جنگ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی فوج کا سنہ انیس سو چوراسی میں گولڈن ٹیمپل پر حملہ سکھوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں کی گئی دہشتگردی تھی۔ بھارتی فوج نے آپریشن کے دوران مذہبی مقامات کی بے حرمتی کے علاوہ سکھوں کی مقدس ترین عبادت گاہ کو ملبے کا ڈھیر بنادیا تھا۔ اس کے علاوہ اکتیس اکتوبر سنہ انیس سو چوراسی کو بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد تیس ہزار سکھوں کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ ہندوتوا انتہا پسندوں نے سکھوں کو انکے گھروں میں زندہ جلا دیا تھا۔ آپریشن بلیو اسٹار کے دوران اور اسکے بعد سکھوں کے قتل عام سے بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔ رپورٹ میں نیو جرسی کے سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کی گئی قرارداد کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں بھارت میں سنہ انیس سو چوراسی میں سکھوں کی نسل کشی کی مذمت کی گئی ہے۔ آپریشن بلیو اسٹار سے اس حقیقت کی وضاحت ہوتی ہیکہ ہندوتوا بریگیڈ بھارت میں سکھوں سمیت تمام اقلیتوں کے خاتمے پر تلی ہوئی ہے۔ نڈر سکھ سنہ انیس سو چوراسی میں بھارتی فوج کیطرف سے اپنے مقدس ترین مذہبی مقام کی بے حرمتی کو کبھی نہیں فراموش کریں گے۔ رپورٹ میں سنہ انیس سو چوراسی میں سکھوں کی نسل کشی پر بھارت کیخلاف جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلانے کی سفارش کی گئی ہے۔۔۔۔معزز قارئین!! بات یہی ختم نہیں ھوتی بھارتی انتہا پسند جماعت آر ایس ایس اور بی جے پی کے غنڈوں سمیت منتخب دہشت گرد نمائندگان اسمبلی نے نریندر مودی کی سربراہی میں غیر ہندوؤں کے خلاف جس میں تمام اقلیتی جماعتیں بلخصوص مسلم کمیونیٹی کا خاتمہ کرنے کیلئے قانون پاس کیئے خاص طور پر مقبوضہ جموں کشمیر میں آزادانہ قتل و غارت گری اور خواتین کی عصمت دری شامل ہیں۔ موجودہ بھارتی حکمراں جماعت انتہا پسند اور شدت پسند ہونے کا سرے عام دعویٰ کرتی تھکتی نہیں اب تو برطانیہ امریکہ اور یورپ بھی بول اٹھا کہ بھارت کو مزید دہشتگردی کرنے سے روکنا ہوگا بصورت پاکستان اور مجاہدین جواب خطرناک حد تک دے سکتے ہیں بھارت کے اس پاگل پن اور دیوانے پن کے سبب جنوبی ایشیاء کسی بڑی کی جانب بڑھ سکتا ھے۔ ذرائع کا کہنا ھے کہ ہندوتوا اپنی غلط فہمی اور جاہلیت کی بناء پر پہلے بھی چین سے بری طرح مار کھا چکا ھے اور پاکستان میں جعلی اسٹرنگ وار کی ناکامی کے باوجود اپنی جگ ہنسائی سے باز نہیں آتا۔ بین الاقوامی میڈیا نے بھارت میں ہندوتوا کی جاہلانہ کاروائیوں پر روک تھام کرنے کیلئے امریکہ پر زور دے رہا ھے کہ وہ بھارت کو ہوش کے ناخن لینے کی تلقین کرے کیونکہ خالصتان کی تحریک پر زور ہوچکی ھے اگر بھارتی حکومت یونہی ہندوتوا کے انتہا پسندوں کے سامنے کمزور پڑی رہی تو بہت ہی بڑے پیمانے پر بھارت خون و قتل کے نہ تھمنے والے جنگ میں مبتلا ھوجائیگا۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی



