کالم/مضامین

*عنوان: بجٹ: عوام کی آنکھوں میں دھول۔!!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: بجٹ: عوام کی آنکھوں میں دھول۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

ڈاکٹر فرخ سلیم کی ایک خوبصورت حقائق پر مبنی ایک تحریر میری نظر سے گزری اس سے قبل کہ انکی تحریر آپکی خدمت میں پیش کروں، میں موجودہ عوامی مالی حالات اور بجٹ کے متعلق اپنی تحقیق پیش کرنا چاہتا ھوں، چوبیس کڑور سے زائد پاکستانیوں کا اگر خط غربت ، خط بیروزگاری ، خط مہنگائی ، خط حصول تعلیم ، خط حصول صحت ، خط امن و امان ، خط یوٹیلٹی بلز کا ہوشربا اضافہ زندگی نہیں موت کا سبب بنتا ھے جو پاکستانی حکمرانوں نے تیس سالوں سے ہر سال مشکل سے مشکل ترین بنادیا ھے۔ تحقیقی و مشاہداتی اور تجرباتی بنیاد پر ھم اب صاف طور پر کہہ سکتے ہیں کہ ان تیس سالہ دور میں حکومتوں کے وزیراعظم، صدور، وزراء و مشراء اور پارلیمینٹیرین کو لوٹ گھسوٹ کرپشن و بدعنوانی کے کچھ عملی طور پر نہ دیکھا۔ حقائق پر مبنی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ان تیس سالہ ادوار میں بھاری رشوت ، بھاری کمیشن اور ذاتی عیش و تعائش کیلئے پروجیکٹ شروع کئے ، جو کچھ مکمل ہوئے اور کچھ جاری ہیں ، ان سب کی معیار ناقص مواد پر بنی ہیں۔ اٹھارہ ویں ترمیم اسی سبب کی گئی تھی کہ بلیک میلنگ کیساتھ ریاست کو دباؤ میں رکھتے ہوئے قومی خذانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جاسکے، اکاؤنٹینٹ جنرل اسلام آباد پہلے حکومتی سالانہ رپورٹ جاری کرتا تھا جس میں حکومت کی خامیاں بدنیتیاں اور کرپشن عیاں ھوجاتے تھے لیکن اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد ایسی تمام رپورٹ کو جاری کرنے پر سختی سے ممنوع قرار دیدیا گیا ھے۔ یہی نہیں بلکہ حکومتی کرپشن اور بدعنوانیوں پر چیف جسٹس و جسٹس صاحبان کی خوب داد رسی رہی ہیں ، عدل و انصاف کے کچلنے کے سبب ملک کی اشرفیہ ، ایلیٹ جماعتوں نے طے کر لیا کہ عوام غلام اور ھم سب بادشاہ ہیں ، اس عوام کو جتنا نچوڑو کم ھے اس بابت نوکر شاہی کی سپورٹ مکمل حاصل ھے اب گویا اوپر سے نیچے تک اور نیچے سے اوپر تک ریاست پاکستان یعنی حکومتی سول اداروں کو کرپشن و لوٹ مار اور رشوت کے نشے کا عادی بنادیا گیا ھے اور کوئی پوچھنے احتساب کرنے والا نہیں جیسے ننگا نہاؤ، ننگا کھاؤ۔ ان گناہ کبیرہ کے مرتکب ہونے والوں میں سب سے زیادہ اور صف اوّل صوبہ سندھ ، دوئم صوبہ بلوچستان ، سوئم صوبہ پنجاب چہارم صوبہ خیبرپختونخواہ اور پنجم آزاد کشمیر ھے۔ میں ہر سال بار بار ان پینشنرز گریڈ اوّل سے گریڈ سولہ کا ذکر اس لئے کرتا ھوں کہ اس دور مہنگائی میں سب سے زیادہ سفر یہی کر رھے ہوتے ہیں۔ اپنی سفید پوشی عزت نفس اور بوڑھاپے کے سبب خاموش صبر کئے رہتے ہیں کیونکہ پینشنرز کی عمریں ساٹھ سے نوے سال کے درمیان کمزور لاغر بوڑھوں کی ہوتی ھے۔ ریٹائرڈمنٹ پر ملنے والی معمولی خطیر رقم بچوں کی شادی بیاہ اور مکان کی نزر ھوجاتی ھے پھر پوری زندگی اسی پینشن پر محیط رہتی ھے یہ عیاش حکمران و اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران کبھی اس جانب اک نظر ڈال لیں تو شائد انہیں خدا یاد آجائے وگرنہ یہ سب کے سب بااختیار خود کو شداد ، فرعون ، نمرود ، اور یزید سمجھ بیٹھے ہیں۔ ان حکمرانوں کی چالبازیاں مکاریاں اور منافقت کو ڈاکٹر فرخ سلیم نے اپنی تحریر میں بہت سہل انداز میں پیش کیا ھے وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت بجلی خریدنے اور بیچنے کے کاروبار میں مصروف ہے۔ اب تک اس کاروبار میں اسے دو اعشارہ چار کھرب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ پاکستان کی حکومت گندم کے خرید و فروخت کے کاروبار میں بھی شامل ہے۔ پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پیسکو) کو اب تک نو سو ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔ پاکستان کی حکومت ہوائی جہاز کے ٹکٹ بیچنے کے کاروبار میں بھی ہے۔ گزشتہ پچیس سالوں میں پی آئی اے کو آتھ سو تیس ارب روپے کا خسارہ ہوا ہے۔ پاکستان کی حکومت اسٹیل کی پیداوار اور فروخت کے کاروبار میں بھی رہی ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز کو اب تک چھ سو ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے (واضح رہے کہ اسٹیل ملز سنہ دو ہزار پندرہ عیسوی سے بند ہے)۔ حکومت پاکستان قدرتی گیس کی پیداوار اور ترسیل کے کاروبار میں بھی ہے۔ گزشتہ دس سالوں میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کو پانچ سو ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ حکومت پاکستان بندرگاہوں اور شپنگ کے نظام کو بھی سنبھالتی ہے۔ گزشتہ پچیس سالوں میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کو ایک سو پچاس ارب روپے کا خسارہ ہوا ہے۔ پاکستان کی حکومت ڈاک اور لاجسٹکس کی خدمات بھی فراہم کرتی ہے۔ گزشتہ بیس سالوں میں پاکستان پوسٹ کو پچاس ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ پاکستان کی حکومت کپاس کی خرید و فروخت کے کاروبار میں بھی رہی ہے۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کو اندازاً دو سو ارب روپے کا خسارہ ہوچکا ہے۔ حکومت پاکستان کھاد کی تیاری اور فروخت کے کاروبار میں بھی ہے۔ نیشنل فرٹیلائزر کارپوریشن کو ایک سو پچاس ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔ حکومت پاکستان نشریاتی ادارے بھی چلا رہی ہے۔ گزشتہ پچیس سالوں میں پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کو مجموعی طور پر اسی ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ حکومت پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کی خدمات بھی فراہم کرتی ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور ملک بھر میں ایسی ہی دیگر اداروں کو دو سو ارب روپے سے زائد کے نقصانات ہوئے ہیں اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان کی واحد توجہ ٹیکس وصولی پر مرکوز ہے۔ ریکارڈ کے مطابق، سنہ دو ہزار آٹھ عیسوی میں پاکستانی عوام نے ایک ہزار سات سو تیراسی ارب روپے بطور ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرائے تھے۔ اب حیران کن طور پر اس سال پاکستانی عوام سترہ ہزار آٹھ سو پندرہ ارب روپے بطور ٹیکس ادا کریں گے یعنی آٹھ سو ننانوے فیصد اضافہ۔ واہ! تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر حکومت پاکستان اپنے شہریوں کو ٹیکس کے ذریعے نچوڑنے پر اتنی مریضانہ حد تک کیوں تلی ہوئی ہے؟ واضح رہے کہ سنہ دو ہزار آٹھ عیسوی میں حکومت کے اخراجات دو ہزار ارب روپے تھے۔ اب حیران کن طور پر اس سال حکومت پاکستان انیس ہزار ارب روپے خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسی فضول خرچی کی دوڑ ہے جو سوچنے پر مجبور کردیتی ہے کہ آخر یہ رقم جا کہاں رہی ہے؟ پاکستانی عوام نے حکومت کو حکمرانی کیلئے منتخب کیا تھا لیکن حکومت پاکستان ایک خسارے کا دیوہیکل گڑھا بن چکی ہے، جو بجلی سے لے کر ایئرلائنز، اسٹیل سے لے کر کپاس تک، ہر شعبے میں کھربوں کا نقصان کررہی ہے۔ حکومت ان مالیاتی زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے، ٹیکس دہندگان کو مزید نچوڑنے میں لگی ہوئی ہے سنہ دو ہزار آٹھ عیسوی میں ایک ہزار سات سو تیراسی ارب سے بڑھا کر آج سترہ ہزار آٹھ سو پندرہ ارب روپے تک لے آئی ہے۔ جبکہ اخراجات انیس ہزار ارب روپے کی سطح کو چھو رہے ہیں، یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے: یہ حکمرانی نہیں، بلکہ ایک پاگل پن پر مبنی، ٹیکس سے چلنے والا انتشار ہے اور اس کا سارا بوجھ پاکستانی عوام کے کندھوں پر ہے۔۔۔۔ معزز قارئین !! حکومت وقت اگر سمجھتی ھے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے قرض سے فوری نکلنا ھے تو سب سے پہلے تمام پالیمینٹیرین وزیراعظم و صدر اور سینیٹ کے تمام ممبران بشمول عدالت عظمیٰ و عدالت ہائی کے جسٹس صاحبان اور سیکریٹریٹ وفاق و صوبائی گریڈ سترہ سے بائیس کی تنخواہوں و مراعات کو تیس سال قبل لے جائیں تب معلوم ھوگا کہ یہ ملک و قوم سے مخلص ہیں کہ نہیں۔ ایسا یہ سیاستدان و ایلیٹ جماعت و اشرفیہ مرتے دم تک اپنی عیاشیاں کم نہیں کریں گے چاہے عوام مرے یا جیئے۔ یہی انکا مقصد حیات ھے انکی سپورٹ میں میڈیا کھڑا ھے میڈیا کے زرغلام ماجلکان اور اینکرز اس بدترین نظام کی ترویج فروغ اور سپورٹ میں کسی حد تک جاسکتے ہیں جیسے مودی حکومت کو بچانے کیلئے بھارتی میڈیا نے تمام حدیں پار کرلی تھیں۔ وہ بھارت ھے جس کے مذہب اور اخلاق میں کوئی قید نہیں لیکن دین محمدی ﷺ ہر مسلمان کو دینی حدود میں پابند رکھتا ھے جو حدود پار کرتا ھے وہ دین سے نکل جاتا ھے گویا اس کا نہ ایمان رھا اور نہ اسلام۔۔۔۔۔!!ت

{"remix_data”:[],”remix_entry_point”:”challenges”,”source_tags”:["local”],”origin”:”unknown”,”total_draw_time”:0,”total_draw_actions”:0,”layers_used”:0,”brushes_used”:0,”photos_added”:0,”total_editor_actions”:{},”tools_used”:{},”is_sticker”:false,”edited_since_last_sticker_save”:false,”containsFTESticker”:false}

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You