عنوان: الله کے غضب کو دعوت دینا

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: الله کے غضب کو دعوت دینا۔۔۔۔!!
کیا آپ جانتے ہیں کہ کائنات بشمول ساتوں آسمان میں سب سے پہلا نافرمان حق تلف خودسر متکبر جابر و ظالم کون تھا۔ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والا حتیٰ کہ لادین بھی جانتا ہیکہ وہ شیطان ابلیس ھے جس سے تا قیامت مہلت اور لعنت بھیج دی گئی ھے۔ حضرتِ انسان کا سب سے بڑا کھلا دشمن یہی شیطان مردود ھے۔ یاد رہے جس انسان نے اس کی اطاعت کی وہ بھی مردود و ذلیل رسوا برباد ھوا اور جس نے الله واحد لا شریک کی بندگی اور رسولِ خدا آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں زندگی بسر کی وہ دونوں جہاں میں کامیاب و کامران ھوا۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں سب سے بڑا اہم ترین حکم حقوق العباد رکھا گیا ھے اور حقوق العباد میں سب سے بڑا پہلو اور عنصر کسی کی حق تلفی قرار دی گئی ھے اور حق تلفی کرنے والوں کو ظالمین کے سب سے نچلے درجے اور گھٹیا ترین گروہ میں ظاہر کیا گیا ھے گویا دینِ اسلام کی روح ہی حقوق کی پاسداری اور عدل و انصاف میں پہناں ہیں ۔۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں، انہوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے۔) (الاحزاب، ۵۸)۔۔ اسلامی ریاست میں جھوٹا الزام لگانا بھی ظلم کا ارتکاب شمارہوگا اور ریاست اسکے مرتکب کو سزا دیکر مظلوم کی داد رسی کریگی۔ (جو شخص ظلم اور زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا، اس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے، اور یہ اللہ کیلئےکوئی مشکل کام نہیں ہے۔) (النساء، ۳۰)۔۔۔۔اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے مال یا زمین پر ناجائز قبضہ کرلے تو وہ ظلم ہے کیونکہ اس میں مال یا زمین پر اصل مالک کا حق چھین لیا جاتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نے نہ صرف ظلم کی حرمت ونحوست کا بار بار ذکر کیا ہے اور اسکے برے انجام سے متنبہ کیا ہے بلکہ مظلوم کی مدد کرنے کی تعلیم و ترغیب بھی دی ہے اور مظلوم کی بد دعا سے بھی سختی کے ساتھ بچنے کو کہا گیا ہے کیونکہ مظلوم کی بد دعا اللہ کے دربار میں رد نہیں کی جاتی۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ اللہ ذرّہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ (النساء40)۔۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیثِ قدسی میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’ اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر بھی حرام کیا ہے اور تم پر بھی حرام کیا ہے لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ ‘‘(صحیح مسلم۔ باب تحریم الظلم)۔۔۔۔۔۔۔معزز قارئین!! آپکے سامنے مختصر قرآنی آیات و احادیثِ مبارکہ سے بتادیا کہ ایک انسان کا دوسرے انسان کے حقوق سلب کرنے پر الله تبارک تعالیٰ کس قدر غیظ و غضب میں ھوتا ھے مگر مملکتِ پاکستان میں لوگ تو لوگ قوموں میں بھی حق تلفیاں اپنی انتہا کو پہنچی ھوئی ھیں۔ ھم عوام کے غاضبین یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کہیں اقتدار کی طاقت سے کہیں اسلحہ اور غنڈہ گردی کی بدولت تو کہیں سیاسی بنیاد پر جسکی چاہیں جب چاہیں جدھر چاہیں حق تلفیاں اور ظلم و بربریت کا بازار گرم کرلیں اور کمزور اداروں کے سبب من پسند فیصلے کروالیں تو یاد رکھ لیں کہ الله کے ہاں دیر ھے پر اندھیر نہیں اور الله خوب ڈھیل دیتا ھے جب کھنچتا ھے تو چھوڑتا نہیں۔ یاد رکھیں کہ جن حکمرانوں نے قوم کیساتھ دھوکہ دیا اور اقربہ پروری کیساتھ حق تلفیاں کیں آج انکی نسلیں تک نہیں لاکھ کسی کا نام جوڑ لیں مگر دنیا حقیقت کا انکار نہیں کرتی۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! جب الله فیصلے آسمانوں میں طے کردیتا ھے تو زمین کے ابلیس شیطانی سازش کرنے والے انسان بری طرح ناکام و نامراد لوٹتے ہیں کیونکہ الله سے جنگ قوموں کو ہستی سے مٹادیتی ھے ۔۔۔ معزز قارئین!! پاکستان کے صوبہ سندھ میں انڈیا سے ہجرت کرنے والے مہاجرین کیساتھ دو نسلوں تک حق تلفیاں جاری رکھی گئی ہیں جو تاحال جاری ہیں۔ اب محسوس ھوتا ھے کہ رب رسی کھینچنے والا ھے یقیناً رب کے فیصلے کے آگے مٹانے والے خود مٹ جائیں گے کیونکہ مظلوم سچے اور حق داروں کیساتھ غیبی مدد شامل ھوجاتی ھے۔ اب لگتا ھے کہ رب تیسری نسل سے قبل ہی فیصلہ کرنے والا ھے۔ سندھ میں اردو بولنے والے مہاجرین کی حق تلفیوں کا اعتراف جی ایم سید, پیر پگاڑا سمیت کئی سیاسی و روحانی مقامی شخصیات نے پیش گوئیاں کرکے دارِ فانی سے کوچ کرچکے ہیں ان کے مطابق ظلم و بربریت حق تلفیوں کا سلسلہ مزید نہیں بڑھ سکتا ھے۔ ھر وہ مسلمان جو کسی بھی قوم زبان اور قبیلہ سے تعلق رکھتا ھو اور عقل و شعور بھی ھو تو وہ کبھی بھی کسی کیساتھ حق تلفیوں کو پسند نہیں کریگا اور اس عمل کو گناہِ عظیم سمجھے گا کیونکہ یہ عمل الله کے غضب کو دعوت دیتا ھے, رہی بات ایک طرف تم الله کی نافرمانی کرتے ھو دوسری جانب دھمکی دیتے ھو کہ خون کی ندیاں بہیں گی تو یقیناً ایسا ہی ھوگا سرکش خودسر نافرمان غاضبین الله کے غضب سے ہرگز ہرگز بچ نہیں سکیں گے۔ الله ہمیں بحیثیت مسلمان ایک دوسرے کے حقوق کا لحاظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثما آمین ۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی



