کالم/مضامین

عنوان: افسوس یہ ھے ھمارا سندھ ۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: افسوس یہ ھے ھمارا سندھ ۔۔!!

کالمکار : جاوید صدیقی

اس میں کوئی شک نہیں کہ سندھ علم و فنون سے مالا مال رھا ھے یہاں کی تاریخ بتاتی ھے کہ سندھ ہی بابل اسلام رھا ھے جہاں اسلام کی کرنیں ابھرتی ھوں وہاں کا زرہ زرہ علوم سے چمک دمک جاتا ھے یہی نہیں بلکہ بڑے بڑے اولیاء و صوفیاء و اسلافین نے اس خطے پر انسان کو انسانیت کا شعور دیا۔ بڑے بڑے شاعر، ادیب، لکھاری، معلم، سیاستدان، مفکر اور دانشور پیدا کیئے جنھوں نے اپنے علوم سے سندھ کو اجالا کیا، انہیں میں ایک ایسی ہستی ھے جسکا ذکر ہی میرا آج کے کالم کا بنیاد ھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی جو برسوں سے سندھ میں برسرِ اقتدار ھے وہ انتہائی پڑھے لکھے، مہذب اور ایلیٹ طبقہ کہلاتے ھیں۔ ان خاص معتبر لوگوں کی سلطنت میں ایک علم کا سمندر ماہر تعلیم و شاعر و ادیب کس طرح بیاباں بکھرا کسما پرسی کی حالت سے دوچار ھے ملاحظہ فرمائیں۔۔۔ معزز قارئین!! سجاول تحصیل ٹھٹہ سندھ سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف کہانی نویس اور ناول نگار مشتاق کاملانی ہیں۔ کاملانی سندھ یونیورسٹی جامشورو کے ذہین ترین طالبعلموں میں سے ایک تھے۔ مشتاق احمد کاملانی فر فر انگریزی بولتے ہیں، فارسی، پنجابی اور اردو تو جیسے آپ کی مادری زبانیں ہوں انکی لکھی کہانیاں آل انڈیا ریڈیو اور آکاشوانی پر بھی چلتی رہیں ہیں، مشتاق احمد کاملانی نے اپنے افسانے گونگی بارش اورچپٹا لہو لکھ کر سندھی افسانہ نگاری میں وہ نام پیدا کیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے انکا نام کہانی اور افسانہ نگاروں کی صفحہ اول میں شمار ہونے لگا۔ کاملانی نے اپنا ناول رولو عین گریجویشن کے امتحاں کے دوران ہی لکھا تھا۔جنرل ضیاء الحق مرحوم کے مارشل لاء کے زمانے میں ایک کہانی گھٹی ہوئی فضا کے نام سے بھی لکھی ہے۔ اس نامور ادیب کے چھوٹے سے گھر پر قبضہ کیا گیا ہے اوراب یہ سالوں سے دن کے وقت ٹھٹہ کی گلیوں میں اور رات کو سجاول کے بس اسٹاپ پر بھیک مانگتےہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کاملانی کے چہرے پرآپ کو بیک وقت دو مخالف کیفیتیں دیکھنے کو ملیں گے یعنی آنکھوں میں آنسو، اور ہونٹوں پر تمام انسانیت پر طنزیہ مسکراہٹ۔خدارا !! مشتاق کاملانی کیساتھ ہو رہے ظلم کے خلاف آواز اٹھایئے ورنہ مشتاق کاملانی کے ذیل کے اس جملے پر ہی عمل کر لیجئے جو انھوں نے ایک کہانی میں لکھا ہے۔۔۔ اگر خدا نے تمہارے منہ میں زبان رکھی ہے اور اسے سچ کہنے کیلئے اس کا استعمال نہیں کرتے، تو ایک احسان کرو، اسے کٹوالو اور ہاں! جہاں اتنی محنت ہوگی، وہاں ایک کام اور بھی کروا لینا، اپنی یہ ناک بھی کٹوا دینا تاکہ انسانیت کو تم پر کم از کم شرم تو نہ آسکے۔۔۔۔ معزز قارئین!! پاکستان پیپلز پارٹی پچپن واں یوم تاسیس مناسکتی ھے، خوب اصراف کرسکتی ھے مگر ایک عظیم انسان کی قدر نہیں کرسکتی، ھم سندھ کے باسیوں کیلئے قابل شرم، قابل افسوس، قابل فکر اور قابل غور کا موقع ھے کہ اگر سندھ حکومت یعنی پاکستان پیپلز پارٹی بے توجہگی بے حسی اور بے شرمی کا مظاہرہ کرتی ھے تو کرے کم از کم سندھ کے صاحب دولت اور صاحب استطاعت والے لوگ آگے بڑھ کر انہیں ایک بہتر چھت اور وظیفہ مقرر کرکے سندھ دھرتی کا قرض ادا کرسکتا ھے۔۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You