*عنوان: اعجازِ قرآن اور اللہ کا احسان*
*ٹائٹل : بیدار ھونے تک*
*عنوان: اعجازِ قرآن اور اللہ کا احسان*
*کالمکار : جاوید صدیقی*
مسلمان تو مسلمان غیر مسلم کافر و مشرک بھی قرآن کی تعظیم و ادب کے بدل میں رحمت دوجہاں پروردگار عالم کی خاص عنایتوں و انعامات سے سرفراز ہوتے ہوئے دیکھا ہے یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہے بت پرست ہندو ہوں یا عیسائی رسول اللہ ﷺ کے دین کی سچائی میں آواز بلند کرتے دیکھے گئے ہیں نجانے کیا مجبوریاں رہی ہیں کہ اعلان مسلمانیت کرنے سے رکے رہے۔ ہندوستان کی اگر بات کی جائے تو زمانہ حال ہو یا زمانہ ماضی ہر دور میں برہمن پنڈتوں نے اسلام کی نہ صرف تعریف میں قصیدے پڑھے بلکہ حمد و نعت گوئی میں کسی سے کم دکھائی نہ دیئے۔ جب قرآن کی تعظیم اور ادب کا معاملہ آجاتا ھے تو خود اللہ واحد لاشریک جزا و سزا کا انتخاب کرتا ھے کتنے ایسے ملعون مردود کافر مرد و عورت گزری ہیں جنھوں نے قرآن کی توہین کی اور اپنے انجام کو پہنچی اور پہنچے لیکن جن کافروں نے قرآن کی تعظیم اور ادب و احترام کو ملحوظ خاطر رکھا اللہ نے انہیں دنیا میں سرخرو باعزت رکھا ایسا ہی ایک سچا واقعہ گزرا تھا جسے روزنامہ اوصاف نے انتیس اکتوبر سنہ دو ہزار انیس عیسوی کو اپنی اشاعت میں شامل کیا۔ "تاریخ عالم کا وہ ہندو جس کی چتا پر کئی من گھی ڈالا گیا مگر اُس کے جسم کو آگ نہ لگی، اُس کا قرآن سے کیا تعلق تھا ذرا ملاحظہ فرمائے، تقسیم ہند کے زمانے میں لاہور کے دو اشاعتی ادارے بڑے مشہور تھے، پہلا درسی کتب کا کام کرتا تھا اسکے مالک میسرز عطر چند اینڈ کپور تھے۔ دوسرا ادارہ اگرچہ غیر مسلموں کا تھا لیکن اسکے مالک پنڈت نول کشور قران پاک کی طباعت و اشاعت کیا کرتے تھے نول کشور نے احترام قرآن کا جو معیار مقرر کیا تھا وہ کسی اور ادارے کو نصیب نہ ہوسکا۔ نول کشور جی نے پہلے تو پنجاب بھر سے اعلیٰ ساکھ والے حفاظ اکٹھے کئے اور انکو زیادہ تنخواہوں پر ملازم رکھا احترام قرآن کا یہ عالم تھا کہ جہاں قرآن پاک کی جلد بندی ہوتی تھی وہاں کسی شخص کو خود نول کشور جی سمیت جوتوں کیساتھ داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ دو ایسے ملازم رکھے گئے تھے جنکا صرف اور صرف ایک ہی کام تھا کہ تمام دن ادارے کے مختلف کمروں کا چکر لگاتے رہتے تھے کہیں کوئی کاغذ کا ایسا ٹکڑا جس پر قرآنی آیت لکھی ہوتی اسکو انتہائی عزت و احترام سے اٹھا کر بوریوں میں جمع کرتے رہتے پھر ان بوریوں کو احترام کیساتھ زمین میں دفن کردیا جاتا۔وقت گزرتا رہا اورطباعت و اشاعت کا کام جاری رہا پھر برصغیر کی تقسیم ہوئی۔ مسلمان، ہندو اور سکھ نقل مکانی کرنے لگے۔ نول کشور جی بھی لاہور سے ترک سکونت کرکے نئی دلی انڈیا چلے گئے۔ انکے ادارے نے دلی میں بھی حسب سابق قرآن پاک کی طباعت و اشاعت کا کام شروع کردیا۔ یہاں بھی قرآن پاک کے احترام کا وہی عالم تھا۔ ادارہ ترقی کا سفر طے کرنے لگا اور کامیابی کی بلندی پر پہنچ گیا۔ نول کشور جی بوڑھے ہوگئے اور اب گھر پر آرام کرنے لگے جبکہ انکے بچوں نے ادارے کا انتظام سنبھال لیا. اور ادارے کی روایت کے مطابق قران حکیم کے ادب و احترام کا سلسلہ اسی طرح قائم رکھا۔ آخرکار نول کشور جی کا وقت آخیر آ گیا اور وہ انتقال کرکے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انکی وفات پر ملک کے طول و عرض سے انکے احباب انکے ہاں پہنچے۔ ایک بہت بڑی تعداد میں لوگ انکے کریا کرم میں شریک ہونے کیلئے شمشان گھاٹ پہنچے۔ انکی ارتھی کو چتا پر رکھا گیا۔ چتا پر گھی ڈال کر آگ لگائی جانے لگی تو ایک انتہائی حیرت انگیز واقعہ ہوا نول کشور جی کی چتا آگ نہیں پکڑ رہی تھی۔ چتا پر اور گھی ڈالا گیا پھر آگ لگانے کی کوشش کی گئی لیکن بسیار کوشش کے باوجود بے سود۔ یہ ایک ناممکن اور ناقابل یقین واقعہ تھا۔ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ لمحوں میں خبر پورے شہر میں پھیل گئی کہ نول کشور جی کی ارتھی کو آگ نہیں لگ رہی۔ مخلوق خدا یہ سن کر شمشان گھاٹ کی طرف امڈ پڑی۔ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور حیران و پریشان تھے۔ یہ خبر جب *جامع مسجد دلی کے امام بخاری تک پہنچی تو وہ بھی شمشان گھاٹ پہنچے نول کشور جی انکے بہت قریبی دوست تھے اور وہ انکے احترام قران کی عادت سے اچھی طرح واقف تھے۔ امام صاحب نے پنڈت جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کی چتا جلانے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو پائے گی۔ اس شخص نے اللہ کی سچی کتاب کی عمر بھر جس طرح خدمت کی ہے اور جیسے احترام کیا ہے اسکی وجہ سے اسکی چتا کو آگ لگ ہی نہیں سکے گی چاہے آپ پورے ہندوستان کا تیل اور گھی چتا پر ڈال دیں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ انکو عزت و احترام کیساتھ دفنا دیجئے چنانچہ امام صاحب کی بات پر عمل کرتےہوئے نول کشور جی کو شمشان گھاٹ میں ہی دفنا دیا گیا۔ یہ تاریخ کا پہلا واقعہ تھا کہ کسی ہندو کی چتا کو آگ نہ لگنے کی وجہ سے شمشان گھاٹ میں ہی دفنا دیا گیا ہو۔ اس واقعہ کو دھرانے کا مقصد یہ ھے کہ ہم مسلمانوں نے قرآن بھلا دیا ھے آج ہمارے گھر پڑوس محلہ علاقہ دفاتر گو کہ ہر جگہ قرآن پاک کے بجائے اسمارٹ فون ہوتا ہے اور ہر وقت شیطانی و دجالی چکروں میں وقت کو زائل کرکے خود اپنے اوپر ظلم کررہے ہیں کچھ پتا نہیں کس وقت کس لمحہ نزاع آجائے اور زبان قرآن کی تلاوت سے محروم نہ رہ جائے۔ استغفراللہ۔


