عنوان:ھمارا تعلمی نظام میں اصلاحات ناگزیر

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:ھمارا تعلمی نظام میں اصلاحات ناگزیر۔۔۔!!
ھمارا تعلمی نظام میں اصلاحات ناگزیر بن چکا ھے جبکہ ہرسال حکومت بجٹ میں اربوں رقم مختص کرتی ہیں لیکن تعلیمی نظام کی تباہی سے عوام سے لیئے گئےگئے ٹیکس بھی ضائع ھوجاتے ہیں اور ھم اپنی نسل کو سرکاری مدارس میں اچھی تعلیم دینے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ ابھی زمانہ دور نہیں گیا ھے جب انہیں سرکاری مدارس سے فارغ التحصیل طلباء و طالبات دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرتے تھے لیکن بعد کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ آج دنیا کہاں سے کہاں تک چلی گئی لیکن ھمارے حکمران اور سیاستدان خوابِ خرگوش میں ہیں یا یوں سمجھ لیجئے کہ ان میں ہی قابلیت اور اہلیت کا فقدان ھے اور بیشتر تو ناخواندہ ہیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! دنیا بھر میں بچوں کی تعلیمی صلاحیت کو جانچنے اور قابل طلباء و طالبات کی حوصلہ افزائی عدل و انصاف کے تقاضے کو برقرار رکھنے کیلئے ایک ہی نظام مروج ھے جو پوائنٹ پر مبنی ھے اور وہاں صرف پاس اور فیل کا تصور رکھا گیا ھے۔ امتحانات سے لیکر ہر شعبہ جات میں داخلے اور روزگار کے موقع پر بھی قابلیت و اہلیت کو پوائنٹ سے مشروط کیا جاتا ھے جس میں نہ گریڈ دیکھا جاتا ھے اور نہ ہی ڈویژن۔۔ اپنے معزز اساتذہ کرام اور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹروں سے اس بابت گفتگو کی تو انھوں نے بتایا کہ ستر کے بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کوٹہ سسٹم کو رائج کرکے تعلیمی نظام کو تباہ کردیا اور قابلیت و اہلیت کا جنازہ نکال دیا انھوں نے بتایا کہ مشرقی پاکستان بننے سے پہلے سندھ کی تعلیم پورے پاکستان سے امتیازی اور اعلیٰ ترین تھی پاکستان بھر سے طلباء سندھ میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے اعزاز سمجھتے تھے اس کی ایک وجہ وہ اساتذہ کرام بھی تھے جو انڈیا سے ہجرت کرکے اس خطے میں بسے تھے وہ اساتذہ کرام خاندانی تعلیم یافتہ ھونے کے سبب اپنے شعبے کے بہترین ماہرین میں شمار کیئے جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بھی وقت نہیں گزرا اگر حکوت وقت اور تمام سیاستدان پاکستان کی تقدیر بدلنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے گریڈ ڈویژن اور کوٹہ سسٹم کا فی الفور خاتمہ کردیں اور اہلیت و قابلیت کے فروغ کیلئے پوائنٹ اور ایمسیکیوٹ کے طریقہ کار کو لازم و ملزوم قرار دیا جائے۔ انھوں نے مجھ سےمخاطب ھوکر کہا کہ جناب جاوید صدیقی صاحب آپ کو یاد ھوگا کہ آپ نے فورسس یعنی ہماری افواج میں جب اپلائی کیا تھا تو ان کے سلیکشن کا طریقہ کار کیا تھا میں نے جواب میں کہا کہ پوائنٹ اور ایمسیکیوٹ پر مبنی تھا انھوں نے مجھ سے کہا آخر ایسا کیوں’ تو بات میری سمجھ میں آگئی کہ ھماری فورسس پروفیشنل ازم کے ساتھ اگے بڑھتی ھے اور بڑھنا چاہتی ھے جس میں نہ شفارش’ کسی بھی قسم کا دباؤ اور نہ ہی دوسرے ذرائع برداشت کیئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ھے کہ کم وسائل کے باوجود دنیا کی بہترین افواج میں شمار کیا جاتا ھے۔۔۔ معزز قارئین!! پاکستان تحریک انصاف تین صوبوں میں اپنی حکومت رکھتی ھے جبکہ سندھ کے علاوہ کولیکشن کیساتھ حکومت بنائی ھوئی ھے اور قومی اسمبلی کے اسپیکر اور سینیٹ کے چیئرمین بھی پی ٹی آئی کے ہیں سندھ اسمبلی میں کراچی سے تئیس ممبر صوبائی اسمبلی اور تیرہ قومی اسمبلی کے ممبر ہیں لیکن کیا یہ وفاق اور اپنے صوبوں میں تعلیمی اصلاحات فی الفور کریں گے یا بے توجہگی اور بے حسی کا مظاہرہ جاری رہیگا۔دوسری جانب سندھ جو معروض پاکستان کے بعد علم و تربیت کا گہوارہ تھا اور قابلیت و اہلیت کا نظام رائج تھا۔ موجودہ حالات میں کیا آصف علی زرداری اور بلاول زرداری سندھ میں قابلیت و اہلیت کے نظام کو قائم کرنے کیلئے تعلیمی اصلاحات کو یقینی بناتے ھوئے ایک ترقی یافتہ باشعور مہذب پر امن سندھ قائم کرکے اپنی صلاحیت کو ثابت کریں گے کیونکہ وہی لیڈر و رہبر عظیم ھوتا جو اپنے ملک و قوم کیلئے عادلانہ منصفانہ فیصلے کریں پاکستان اور پاکستانی صوبوں کی ترقی و کامرانی ہی اسی شرط پر ھے کہ فی الفور ہنگامی بنیادوں پر تعلیمی اصلاحات کی جائیں اور اساتذہ کرام کی تقرریوں کو خالصتاً اہلیت پر مروج کرنا ھوگا جو غلط طریقہ کار سے یا نااہل اساتذہ کرام کی تقرری والے اساتذہ کرام کا قابلیتی ٹیسٹ کراچی یونیورسٹی میں رینجرز کی نگرانی لیا جائے تاکہ دھوکہ اور فریب کا عمل پیدا نہ ھوسکے, سندھ کی بقاء و سلامتی کیلئے تعلیمی اصلاحات ناگزیر ھوچکی ھے۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی



