کالم/مضامین

عنوان:کسی کا گناہ ‘ کسی کے سر۔

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:کسی کا گناہ ‘ کسی کے سر۔۔۔۔!!

ھمارے دوست عابد علی امنگ صاحب نے تاریخ کے اوراق سے سابقہ سیاستدانوں’ نوکرشاہی طبقوں’ اشرفیہ اور جرنیلوں کی کارستانیاں بیان کیں۔اس سے قبل میں انکی تحریر آپ کی نظر پیش کروں ایک بات واضع کردینا چاہتا ھوں کہ آپ ہرگز کسی کا گناہ ‘ کسی کے سر مت ڈالیئے گا۔ یہ حقیقت ھے کہ چند ایک کی سرزشت اور بے وقوفیوں کی بناء پر سارے ادارے پر تنقید کرنا قابل جرم قابل شرم بھی ھے جس کا گناہ صرف اسی کے سر ھونا چاہئے جو گناہ میں ملوٹ ھے۔ رہی بات جنرل کی تو ان عہدوں پر ان کی نسلیں برجمان نہیں ھوتیں اور نہ ہی افواج میں مورثی عمل ھوتا ھے البتہ پاکستان وہ بد قسمت ملک ھے جہاں ستر سالوں سے سیاست اور اشرفیہ میں مورثی سیاست یعنی خاندان در خاندان سیاست چلی آرھی ھے۔ ایسے خاندان برسوں سے ریاست کو بلیک میل اور کمزور کرتے چلے آرہے ھیں۔ آپ کچھ بھی کہہ لیجئے آج پاکستان جو مستحکم اور طاقتور ھے یہ سب افواجِ پاکستان کا ہی ثمر ھے وہ چند ایک جنرل گزر گئے جو عیاش اور متعصب تھےلیکن جنرل ضیاء الحق نے نہ صرف فوج کا مورل بلند کیا بلکہ ایک بکھری قوم کو یکجا کرنے کیلئے بین الصوبائی سطح پر حقوق کے تحفظ اور عدل و انصاف کے نظام کو پڑوان چڑھانے کیلئے کوششیں کیں جو آج تک جاری ہیں اور پاکستان بھر کی متروکہ املاک کو حقداروں تک پہنچانے کیلئے سپہ سالارِ وطن اپنا کردار ادا کریں گے موجودہ سپہ سالار قمر جاوید باجوہ کہہ چلے ہیں کہ وہ ریاست آئین اور قائداعظم کے پاکستان کیساتھ کھڑے ہیں وہ بتا چکے ہیں کہ قائداعظم کے وقت جو قومی حقوق پیار محبت اخوت اتحاد تھا دوبارہ بحال کیا جائیگا اس مشن میں مستقبل کے سپہ سالار بھی رہیں گے۔ ہر منفی اور سہولتکاری کو کچلا جائیگا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور سے تا حال افواجِ پاکستان حالتِ جنگ میں ھے۔ ھمارے سپاہی سے لیکر سپہ سالار تک ہر وقت چاق و چوبند رہتے ھیں۔ یہ نہ وہ زمانہ ھے اور نہ ھی وہ دور آج کی نسل بہت تیز اور سمجھدار ھے۔ دجالی میڈیا ھو یا بے ضمیر اینکرز اپنی چکنی چپڑی باتوں سے ہماری نسلوں کو گمراہ نہیں کرسکتے۔ ھمارے دوست عابد علی امنگ صاحب لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔ حامد میر نے جب دو دن قبل اپنی تقریر میں جنرل رانی کا نام لیا تو مجھے یقین ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی اکثریت نے یہ نام پہلی بار سنا ہوگا۔ اس لئے میں نے سوچا کہ جنرل رانی کے بارے میں کچھ لکھوں تاکہ آج کی نئی نسل کو تاریخ کے اس ننگے سچ سے آگاہ کیا جاسکے۔ جنرل رانی کا اصل نام اقلیم اختر تھا اور سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل یحیٰی خان سے قرہبی تعلق اور پاکستان کی حکومت میں اثر و رسوخ رکھنے کی بناء پر ان کو تاریخ میں جنرل رانی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کو یہ خطاب بھٹو صاحب نے دیا تھا جو بعد میں اس قدر مشہور ہوا کہ لوگ جنرل رانی کا اصل نام تک بھول گئے۔ اقلیم اختر عرف جنرل رانی سنہ انیس سو اکتیس عیسوی میں گجرات کے ایک چھوٹے سے زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ روایتی جاگیردار گھرانے میں پیدا ہونے کے باعث جرنل رانی نے صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکیں۔ خاندانی اور علاقائی روایات کے مطابق بہت کم عمری میں ہی ان کی شادی ایک مقامی تھانیدار سے کردی گئی۔ کچھ کتابوں میں اس تھانیدار کا نام انسپکٹر رضا تحریر کیا گیا ہے۔ اس تھانیدار سے بہت کم عمری میں ہی ان کی کثرت سے اولادیں ہوئیں اور وہ بہت جلد چھ بچوں کی ماں بن گئیں۔ اس دوران جرنل رانی کے شوہر کا تبادلہ مری میں ہوگیا اور یوں جرنل رانی بھی بچوں کے ہمراہ مری شفٹ ہو گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دن جرنل رانی برقعہ اوڑھے اپنے شوہر کے ہمراہ مری مال روڈ پر پیدل کہیں جا رہی تھی کہ اچانک تیز ہوا کا ایک جھونکا آیا اور جرنل رانی کے چہرے سے برقعے کا نقاب ہٹ گیا۔ جاگیردارانہ ذہنیت کے مالک شوہر نے یہ سمجھا کہ جرنل رانی نے برقعہ جان بوجھ کر ہٹایا ہے اور اس خیال کے آتے ہی اس نے روایتی غیرت کے مظاہرے کیلئے جنرل رانی کو راہگیروں کے سامنے ذلیل کردیا۔کتابوں میں لکھا ہے کہ جرنل رانی نے اپنا برقعہ وہیں اتار کر سڑک پہ پھینکا، اور پہلی بار چیخ کرتھانیدار شوہر سے کہا: ” تم ہوتے کون ہو میرے چہرے کے بارےمیں غیرت دکھانے والےاور مجھے بیچ بازار میں سب کےسامنے ذلیل کرنے والے”۔ جنرل رانی نے سنہ دو ہزار دو عیسوی میں نیوز لائن کی عائشہ ناصر کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ: "مری مال روڈ پر، اپنے شوہر کا ہتک آمیزسلوک دیکھ کر مجھے اپنے اوپر قابو نہ رہا۔ مجھے لگا کہ بس بہت ہوگئی۔ میں اس وقت اپنے خاوند کے چہرے کونوچ ڈالنا چاہتی تھی،لیکن مجھے صرف ایک بات روک رہی تھی کہ اس وقت مال روڈ پر بہت بھیڑ تھی۔” تاریخ اقلیم اختر کے تھانیدار شوہر سے علیحدگی کی تاریخ کے بارے میں لاعلم ہے لیکن یہ بات طے ہےکہ یہ واقعہ اقلیم اختر کے جنرل رانی بننے کے سفر کا نکتہءِ آغاز ثابت ہوا اور اس نے مردوں کے حوالے سے ایک نئے زاویئے سے سوچنا شروع کردیا پھر تاریخ نے دیکھا کہ اس جرنل رانی نے اسوقت کے حکمران جرنل یحییٰ،حکومتی وزراء، بیورو کریسی، سب کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ جرنل رانی نے نوے کی دہائی میں اخبار کو دیئےگئے اپنے ایک انٹرویو میں کہاتھا کہ:”مرد جسم کا بھوکا ہے،جب تک اسےگوشت دیتے رہو، یہ تمہارے قدم چاٹتا رہتا ہے چاہے وہ حاکم وقت ہی کیوں نہ ہو۔” حکومتی ایوانوں میں شراب،کباب و شباب کی تمام تر محافل کے انعقاد کی ذمہ داریاں جرنل رانی کے سپرد تھیں۔ اپنے وقت کی مشہور اداکارہ ترانہ بیگم اور مشہور گلوکارہ نورجہاں کو جرنل یحییٰ سے ملوانے والی بھی جرنل رانی ہی تھیں۔ جنرل رانی جنرل یحیٰی خان کو پیار سے "آغا جانی” کہہ کر پکارتی تھیں جبکہ جنرل یحیٰی ان کو "رانی” کہہ کر پکارتے تھے۔ جنرل یحییٰ اور اقلیم اختر کی پہلی ملاقات کہاں ہوئی؟ اور کن حالات میں ہوئی؟ اس بارے میں مختلف راوی مختلف کہانیاں بیان کرتے ہیں۔ خود اقلیم اختر کہتی ہیں کہ آغا جانی شراب پینے کے بہت شوقین تھے اور ہماری پہلی ملاقات ناؤ و نوش ہی کی ایک محفل میں ہوئی تھی جبکہ یحییٰ خان نے حمود الرحمان کمیشن کو اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے جنرل رانی سے پہلی ملاقات کے بارے میں بتایا کہ:میں جنرل رانی کو بچپن سےجانتا ہوں، جب میرے والد آغا سعادت علی کو بحیثیت ایس پی گجرات تعینات کیا گیا تھا۔ آئی جی پولیس سردار محمد چوہدری اپنی کتاب "جہاں حیرت” میں ان کی پہلی ملاقات کی بابت لکھتے ہیں کہ: یہ دونوں پہلی بار سیالکوٹ میں ملے، جہاں اقلیم اختر سی ایم ایچ میں زیرِ علاج تھیں۔ملاقات چاہے جہاں ہوئی، اور جن حالات میں ہوئی، لیکن اس کے بعد جنرل یحییٰ اقلیم اختر کے پاس باقاعدگی سے آنے جانے لگے۔انکی ملاقاتوں کی شدت اور انتہا کے متعلق آئی جی پولیس سردار محمدچوہدری اپنی کتاب میں مزید لکھتے ہیں کہ: جنرل یحیٰی سنہ انیس سو پینسٹھ عیسوی کی جنگ میں، چھمب جوڑیاں سیکٹر میں تعینات تھے، اس وقت بھی محاذِ جنگ پر گولوں کی گھن گرج سے اکتا کر، تھوڑا وقت نکال لیتے اور اپنے الجھے ہوئے ذہن کو تازگی بخشنے کیلئے فوجی ہیلی کاپٹر میں جنرل رانی سے ملنے چلے جایا کرتے تھے۔ یہی وہ زمانہ ہے، جب اخباروں میں انکا تذکرہ "جنرل رانی” کے نام سےہونے لگا۔ اس زمانے کے صحافی بتاتے ہیں کہ یہ خطاب انہیں ذوالفقار علی بھٹو نے دیا تھا کہا جاتا ہے کہ اداکارہ ترانہ کو بھی جنرل رانی نے ہی جنرل یحیٰی سے ملوایا تھا لیکن جس بڑی شخصیت کو اقلیم اختر نے جنرل یحییٰ خان سے متعارف کروایا وہ میڈم نورجہاں تھیں۔ جنرل رانی اپنے ایک انٹرویو میں بتاتی ہیں کہ ایک دن آغا جانی نے ٹیپ ریکارڈر پر نورجہاں کا ایک گانا سننے کی فرمائیش کی۔ جس پر میں نے کہا کہ:گانا تو چھوٹی چیز ہے، ہم آپ کو نورجہاں سے ذاتی طور پر ملوا دینگے اور اسکے کچھ دن بعد میں نے جنرل یحیٰی اور نورجہاں کی ملاقات کروائی۔ سابق آئی جی پنجاب پولیس سردار محمد چوہدری اپنی کتاب "جہانِ حیرت” میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ: ” ایک مرتبہ ایران کے شاہ سرکاری دورے پہ پاکستان آئے ہوئے تھے اور جرنل یحییٰ اپنی خواب گاہ سے باہر نہیں نکل رہے تھے۔ اس لئے مجبوراً صدر کے ملٹری سیکریٹری برگیڈیئر اسحاق نے ایوانِ صدر کی گاڑی بھیج کر جرنل رانی کو بلوایا تاکہ وہ صدر پاکستان جرنل یحییٰ کو بیڈ روم سے باہر لے کر آئیں اور بقول جرنل رانی: جب میں بیڈ روم میں پہنچی، تو صدرِ پاکستان جنرل یحیٰی خان، گلوکارہ نورجہاں کیساتھ کمرے میں موجود تھے پھر میں نے اور نورجہاں نے مل کر یحییٰ خان کو بڑی مشکل سےکپڑے پہنائے اور ان کو کمرے سے باہر نکالا۔ آئی جی پولیس سردار محمد چوہدری کی کتاب "جہاں حیرت” اردو ترجمہ ہےجبکہ یہ اصل کتاب انگریزی میں ◇دی الٹکمیٹ کرائم این آئی وٹنیس ٹوپاور گیم◇ کے نام سے شائع ہوئی ھے۔ اس انگریزی اصل مسودے میں سردار محمد چوہدری نے اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کمرے کے اندر کے واقعات پہ بھی گنجائش کیمطابق روشنی ڈالی ہے لیکن اردو ترجمہ میں ان کو بوجوہ حزف کردیا گیا۔ سابق آئی جی پنجاب راؤ رشید نے بھی جنرل رانی اور جنرل یحیٰی کے تعلقات کے حوالے سے اپنی کتاب "جو میں نے دیکھا” میں ہوشرباانکشافات کئے ہیں۔اپنی کتاب "جو میں نے دیکھا” میں ایک جگہ راؤ رشید صاحب فرماتے ہیں کہ: "جب مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی عروج پر تھی، اسی دوران یحییٰ خان پشاور میں سرکاری خرچ پر تیار شدہ اپنے بنگلے کاافتتاح کررہے تھے۔ اس بنگلے کی افتتاحی تقریب میں مختلف امراء اور با رسوخ لوگوں کیساتھ جنرل رانی بھی شریک تھیں اس تقریب کا حال بیان کرتے ہوئے راؤ رشید صاحب فرماتے ہیں کہ: "سرکاری بنگلے میں جہازی سائز کا سوئمنگ پول بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ مرکزی تقریب اسی سوئمنگ پول کے ساتھ رکھی گئی تھی۔ تقریب کے اختتام پر موج مستی کا آغاز ہوا۔ رات کے دو بجے تک شراب کی محفل سجی رہی۔ بڑا ھاؤ ھو، ہوتا رہا۔ رنگ برنگی ہیوی ڈیوٹی سرچ لائٹیں بھی لگائی گئی تھیں۔ جو موسیقی کیساتھ جھلملاتیں اور ان جھلملاتی روشنیوں میں تھرکتے ہوئے جسم بڑا رومانوی منظرپیش کررہے تھے۔اس تقریب میں پشاور کا ایک جرمن جوڑا بھی شریک تھا۔جرمن شہری کی بیوی بڑی خوبصورت تھی اور اس کے متعلق سفارتی حلقوں میں مشہور تھا کہ وہ سی آئی اے کی ایجنٹ ہے۔ اس جرمن عورت کو جنرل رانی کے توسط سے جنرل یحیٰی خان کی خصوصی دعوت پر بلوایا گیا تھا۔ موج میلے کا آغاز ہوتے ہی وہ بکنی پہن کر سوئمنگ پول میں اتر گئی اور پھر جرنیل مل کر اس سے کھیل کود کرنے لگے۔کھیل یہ تھا کہ، ان محترمہ کو مختلف جرنیل گود میں اٹھا اٹھا کر سوئمنگ پول میں پھینکتے تھے، وہ پھر باہر نکلتی تھیں،اور پھر سب مل کر قہقہے لگاتے تھے ۔واضح رہیکہ یہ اس وقت کا حال ہے جب ہمارے بیشمار فوجی مارے جارہے تھے اور وہ مشترکہ پاکستان کے آخری ایام تھے۔ آخر میں، راؤ رشید صاحب لکھتے ہیں کہ: چونکہ یہ قصہ میرے گھرکے سامنے ہورہا تھا، اسلئے میں وہ سب دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ اس حالت میں اس مک کو خدا کے سوا کوئی اور نہیں بچاسکتا اور بعد کی تاریخ میں یہ خدشہ درست ثابت ہوا اور کچھ ہی دن بعد ملک تقسیم ہوگیا۔شاید اسی لئے آغا شورش کاشمیری نے پاکستان ٹوٹنے کے حوالے سے ایک تقریرکرتے ہوئے کہا تھا کہ: پاکستان توڑنے والے تو ان گنت ہیں، لیکن ان میں انگور کا پانی اورجرنل رانی نمایاں حیثیت رکھتے ہیں”۔ جرنل رانی حکومتی نمائندگان اور فوجی افسران کے کرتوتوں سے کسقدر واقف تھیں، اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ سقوطِ ڈھاکہ کے چند دن بعد ہی جرنل رانی کو حکومتی احکامات پر نظر بند کردیاگیا تھا۔ نظر بندی کے دوران، انکا ٹیلی فون کنکشن کاٹ دیا گیا، اخبارات بند کردیئے گئے اور ان کو سرکاری طور پر سختی سے منع کردیا گیا کہ آج کے بعد آپ نے کبھی منہ نہیں کھولنا اور کوئی ایسی بات نہیں کرنی کہ جس سے حکمرانوں اور افسران کو کوئی مزید نقصان پہنچے جنرل رانی کی نظربندی کے موقع پر اخبارات میں جو سرخیاں لگیں وہ بھی پاکستان کی سیاست میں جرنل رانی کے اثر و رسوخ کو بیان کرتی ہیں۔ رانی جو کبھی پاکستان کی ملکہ تھی، اپنے گھر میں نظر بند کردی گئی "نوائے وقت” رانی، جس نے مجرموں کو معافی دلوائی اور تاجروں کو لائسنس دلائے، وہ جنرل رانی آج نظر بند کردی گئی "مساوات” دوسری جانب، جنرل رانی نے اپنی نظربندی کو عدالت میں چیلنج کردیا اور پھر مشہور زمانہ وکیل ایس ایم ظفر نے انکا مقدمہ لڑا عدالت سے یہ مقدمہ جنرل رانی جیت گئیں اور حکومت کو انہیں رہا کرنا پڑا اس مقدمے کا ذکر ایس ایم ظفر صاحب نے اپنی کتاب "میرے مشہور مقدمات” میں بھی کیا۔ جنرل رانی کی نظربندی ختم ہوئی تو انہوں نے ایس ایم ظفر سے ملاقات کرکے انکا شکریہ ادا کرنےکی خواہش کا اظہار کیا۔ اس حوالے سے ایس ایم ظفر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ: جب رانی صاحبہ نے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تو اتفاق سے ان دنوں میری گاڑی چوری ہوگئی تھی۔ اس لئے جب جنرل رانی کیطرف سے کال آئی تو میں نے معذرت کر لی کہ میں نہیں آسکوں گا، کیونکہ میرے پاس گاڑی نہیں ہے۔اس پر انہوں نےاپنے بیٹے محسن رضا کو گاڑی دیکر بھیج دیا کہ وہ مجھے انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل لے آئے، جہاں وہ ٹھہری ہوئی تھیں۔ خیر، ملاقات ہوئی اور جنرل رانی نے میرا یعنی اپنےوکیل کا شکریہ ادا کیا، جس کی وجہ سے ان کی جلد رہائی ممکن ہوسکی۔ اس کے بعد کا واقعہ بےحد دلچسپ ہے۔ایس ایم ظفر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ: ایک ماہ بعد سول لائز پولیس اسٹیشن لاہور سے اطلاع ملی کہ میری کار برآمد ہوگئی ہے۔جب ہم گاڑی لینے گئے، تو ہم نے ڈی ایس پی سے پوچھا کہ ہماری کارکہاں سے ملی؟ ڈی ایس پی نے جواب دیا کہ: آخری بار یہ کار جنرل رانی کے بیٹے محسن رضا کے پاس دیکھی گئی تھی۔ گویا ہم اپنی ہی کار میں بیٹھ کر انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل گئے تھے اور پھر اپنی اسی چوری شدہ کار میں واپس اپنے گھر پہنچے تھے۔ ایس ایم ظفر صاحب لکھتے ہیں کہ مجھے آج تک سجھ نہیں آیا کہ میری کار، جنرل رانی کے بیٹے کے پاس کیسے پہنچی۔ جنرل رانی کا تزکرہ جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ نے اپنی کتاب "عمرِ رواں” میں بھی کیا ہے پراچہ صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ حکومت کی مخالفت کی بناء پر بھٹو صاحب کے حکم پر مجھے الخدمت فاؤنڈیشن کے عبدالشکور اور مسعود کھوکھر کے ہمراہ کوٹ لکھپت جیل میں قید کردیا گیا۔ اس وقت جنرل رانی بھی کوٹ لکھپت جیل میں قید تھیں۔ جیل کے انچارج حمید اصغر اکثر انہیں اپنے دفتر میں گپ شپ کیلئے بلا لیتے اور زنانہ جیل سے اقلیم اختر رانی المعروف جنرل رانی کو بھی بلا لیتے اور دیر تک ہماری گپ شپ چلتی رہتی۔ پراچہ صاحب لکھتے ہیں کہ شائد سرکاری اہلکار ان کی اور جنرل رانی کی گفتگو کی خفیہ ریکارڈنگ بھی کرتے ہوں۔ مجھے ریکارڈنگ کی زیادہ فکر نہیں تھی کیونکہ گفتگو کے دوران میری زیادہ دلچسپی سانحہ مشرقی پاکستان میں یحییٰ خان کے کردار پر ہوتی تھی۔ پراچہ صاحب لکھتے ہیں کہ یحییٰ خان سے جنرل رانی کی جان پہچان، اس وقت سے تھی جب وہ صرف میجر تھے۔ ایک دن جنرل رانی نے مجھ کو بتایا کہ بھٹو نے مجھے اس لئے قید کیا ہے، کیونکہ میرے پاس ایک ایسی کیسٹ ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہیکہ سقوطِ مشرقی پاکستان کا ذمہ دار نہ تو جنرل یحییٰ ہے اور نہ ہی مجیب ہے، بلکہ اس سانحہ کا اصل زمہدار صرف بھٹو ہے۔ بھٹو کو خطرہ ہے کہ اگر اس نے مجھے آزاد کر دیا، تو میں اسکی ریکارڈنگ پوری دنیا تک پہنچا دونگی، اسلئے وہ مجھ کو قید میں رکھنا چاہتا ہے۔پراچہ صاحب مزید لکھتے ہیں کہ: جنرل رانی کی بات سن کر میں نے ان کو تجویز دی کہ ہم رہائی کے بعد آپ کو پنجاب یونیورسٹی میں بلائیں گے۔
وہاں ایک بڑی کانفرنس کا اہتمام کریں گے اور آپ وہاں وہ کیسٹ چلا دیجئے گا۔ سب معاملات طے ہوگئے، جنرل رانی نے ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کو اپنی بیٹی کا نمبر بھی دیدیا کہ اگر مجھ سے پہلے آپ رہا ہوجائیں تو میری بیٹی سے رابطے میں رہیئے گا اور کانفرنس کے معاملات طے کر لیجئے گا لیکن رہائی کے بعد مصطفیٰ کھر نے جنرل رانی اور بھٹو حکومت کے درمیان معاملات طے کروا دیئے اور موصوفہ نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ پراچہ صاحب لکھتے ہیں کہ یہ بات کبھی واضح نہ ہو سکی کہ جنرل رانی کے پاس کوئی کیسٹ تھی بھی یا انہوں نے سراسر غلط بیانی سے کام لیا تھا۔ جنرل رانی نے اپنی جس بیٹی کا نمبر پراچہ صاحب کو دیا تھا، اس بیٹی کا تذکرہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے اپنی سوانح حیات ’’دی پیپلز مہاراجہ‘‘ میں بھی کیا ہے۔ کیپٹن امریندر سنگھ کی سوانح حیات شائع ہونے بعد کافی دن تک بھارتی میڈیا میں بڑی شدت سے یہ سوالات اٹھائے جاتے رہے کہ: کیا جنرل رانی کی بیٹی بھارتی پنجاب کی فرسٹ لیڈی ہے؟ اور اگر ہے تو، جنرل رانی کی بیٹی کیپٹن امریندر سنگھ تک کیسے پہنچی؟ لیکن ان سوالات کا کوئی واضح جواب کبھی نہیں دیا جاسکا۔ اخبارات میں اس قسم کے سوالات اٹھنے کے بعد ارمیندر سنگھ کی بیوی مہارانی پرنیت کور کا کہنا تھا کہ: سکھ مذہب کے مطابق ارمیندر سنگھ کی واحد قانونی بیوی انکے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ اس لئے ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ بھارتی اخبارات نے لکھا کہ غالب امکان یہ ہے کہ، امریندر سنگھ نے جرنل رانی کی بیٹی سے باقاعدہ شادی کرلی تھی جبکہ بیشتر بھارتی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ چونکہ بھارت میں غیر مسلموں کی ایک سے زائد شادیوں پر پابندی ہے، شاید اسی لئے امریندر سنگھ نے ہمیشہ ہی اس شادی کو خفیہ رکھا اور اگر کیپٹن امریندر سنگھ اپنی کتاب میں خود جنرل رانی کی بیٹی کا تزکرہ نہ کرتے، تو شائد ان کے تعلقات کا کبھی کسی کو علم نہ ہوتا۔ یہ بتانا ضروری تو نہیں،لیکن اطلاعاََ عرض ہے کہ جنرل رانی عدنان سمیع خان کی رشتے کی نانی اور فخرِ عالم کی سگی نانی بھی ہیں۔اقلیم اختر کی بہن کی بیٹی، نورین کی شادی عدنان سمیع کے والد ارشد سمیع خان سے سنہ انیس سو سرسٹھ عیسوی میں ہوئی۔ اس وقت ارشد سمیع خان، جنرل ایوب خان کے اے ڈی سی کے طور پر ذمہ داریاں سر انجام دے رہے تھے- اس شادی میں بیگم ایوب خان نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔ ارشد سمیع خان سے، نورین کے دو بیٹے عدنان سمیع خان اور جنید سمیع خان پیدا ہوئے واضح رہے کہ جنرل رانی کی بھانجی، نورین برٹش پاسپورٹ ہولڈر اور انڈین نیشنلٹی تھی۔دوسری جانب، پاکستان کے مشہور گلوکار فخر عالم کی والدہ کا نام عروسہ عالم ہے، جو پیشہ کے اعتبار سے صحافی ہیں وہ کئی برس تک پاکستان کے ناموراخبارات میں دفاعی تجزیہ نگار کے طور پر بھی کام کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے بھی شادی کے کچھ سال بعد اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرلی تھی، اور وہ گزشتہ پندرہ سال سے ہندوستان میں مقیم ہیں۔ہندوستان میں رہائش کی وجہ سے ہی کچھ حلقے، عروسہ بیگم کو ہی مہاراجہ پٹیالہ کے فرزند کیپٹن امریندر سنگھ کی خفیہ بیوی قراردیتے ہیں لیکن آزاد ذرائع اس بیان کی تصدیق نہیں کرتے۔ خیر، پاکستانی سیاست کی چلتی پھرتی دھماکہ خیز سیاسی تاریخ اقلیم اختر عرف جنرل رانی اپنے آخری دنوں میں کینسر سے نبرد آزما رہیں۔ اسی مہلک بیماری سے لڑتے لڑتے وہ یکم جولائی سنہ دو ہزار دو عیسوی کو لاہور میں وفات پاگئیں۔۔۔معزز قارئین!!
ہمارے دوست نے ہمیں بتایا کہ جاوید صدیقی صاحب تاریخی اوراق کے حوالہ جات بھی پیش کررہا ھوں تاکہ واضع رہے یہ بدنما تاریخ ہے جس میں جہاں جنرل یحیٰی کا کردار سیاہ ھے وہیں بھٹو غداری کے جرم میں شک کے دائرے میں آتا ھے: ○ بحوالہ جات یہ ھیں۔۔۔ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ سنہ انیس سو چوہتر ماہنامہ نیوز لائن، شمارہ مئی، سنہ دو ہزار دو، کتاب "جہاں حیرت” از سردار ایم چوہدری، کتاب "جو میں نے دیکھا” از راؤ رشید کتاب "عمرِ رواں” از فرید احمد پراچہ کتاب "میرے مشہور مقدمے” از ایس ایم ظفر
کتاب "پارلیمنٹ سے بازارِ حسن” از منیر حسین ۔۔۔۔۔۔○
علاوہ ازیں اس طویل مضمون کی تیاری میں وکی پیڈیا سمیت مختلف ویب سائیٹس اور مختلف ادوار میں لکھے گئے مضامین کے علاوہ اپنی یاد داشت سے بھی مدد لی گئی ہیں تاکہ تاریخی دستاویزات کے حوالہ جات میں کمی نہ رہ سکے اور حقائق کے ثبوت ساتھ رہیں ۔۔۔۔معزز قارئین!! اب بات کی جائے حامد میر یا ان جیسے مفادپرست خودغرض موقع پرست اینکروں کی جو صحافی بننے کی ناکام کوشش کرتے ہیں بیشمار اینکرز صحافی کے سائے میں چھپنے کی کوشش کرتے ہیں اگر انکے کردار پر بات کی جائے تو شرم کے مارے چلو بھر پانی میں ڈوبنے کو دل کریگا۔ایسے بیشمار اینکرز ہیں جو میڈیا مالکان کی تلوؤں کو چاٹتے ہیں اور اداروں ریاست اور وطن عزیز کی نفرت میں تمام حدیں پار کرلیتے ہیں۔ اچھے برے سب جگہ ھوتے ہیں اگر چاول میں ایک آدھ دانا سیاہ آجائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام چاول سیاہ ہیں یہ تناسب بھی اصلیت ظاہر کردیتا ھے میں نے افواجِ پاکستان کے کئی آپریشن کو بغور مطالعہ کیا انکی بہترین اور کامیاب کوششوں کو سراہا انکی شفافیت ایمانداری نیک نیتی بہادری قابلیت ہی تو ھے جو کم وسائل کے باوجود دنیا کی بہترین افواج اور خفیہ ایجنسیوں میں ممتاز مقائم بنایا ھوا ھے۔ میں کئی بار لکھ چکا ھوں کہ بڑے بڑے اینکرز صحافی اور میڈیا مالکان کی املاک و دولت کا آڈٹ کرایا جائے تاکہ پاکستان بھر کے بیروزگار متاثرین صحافی اور میڈیا پرسن کا حقیقی و عملی طور پر الزالہ کیا جائے اور فی الفور میڈیا میں بے دخل افراد کو جاب دی جائیں۔۔۔

!! پاک آرمی زندہ بار, آئی ایس آئی زندہ بار, مارخور زندہ بار, گمنام سپاہی زندہ بار, پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔۔۔○○○●

کالمکار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You