کالم/مضامین

عنوان:پاکستانی تجارت میں بدنما داغ

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:پاکستانی تجارت میں بدنما داغ ۔۔۔۔!!

تحریک انصاف کو پاکستانی عوام نے آج سے آٹھ سال قبل کے پی کے میں بھرپور انداز میں ووٹ دیکر بھاری اکثریت سے دو مرتبہ کامیاب کیا پھر تین سال قبل وفاق میں بھی بھرپور سپورٹ کرکے حکومت سازی اور نظام کی بہتری کا موقع فراہم کیا۔ ان تین سالوں میں تحریک انصاف کہاں کھڑی ھے یہ عوام ہی بہتر طور پر بتاسکتے ہیں لیکن میں یہاں اپنے کالم کے عنوان کے دائرہ میں رہتے ھوئے اپنے ناظرین کو یہ بتانا چاہتا ھوں کہ وزیراعظم عمران خان صاحب بہت اچھی تقریر کرلیتے ہیں اور اپنی تقریر میں سورۃ فاتحہ کی آخری آیتوں کی تلاوت ضرور فرماتے ہیں کیا کبھی انھوں نے ان آیاتوں پر غور کیا اور کیا کبھی ان آیتوں پر خود کو اور عوام کو ڈھالا یہ احساس اور تبدیلی آپ بہتر سمجھ سکتے ہیں میں تو وہ بات کرونگا کہ عمران خان کا وژن ھے کہ کنسٹرکشن انڈسٹری کو پروان چڑھایا جائے اس سے ملک ترقی کریگا۔ عمران خان صاحب یا تو بہت بھولے انسان ہیں یا پھر بہت مکار دھوکے باز کیونکہ ان کے ان تین سالہ دور میں ریتی بجری روڑی کا کاروبار ناجائز اور غیر قانونی طور پر آزادانہ متحرک ھوچکا ھے اس بابت سماء چینل سمیت کئی چینلز بآور کراچکے ہیں مگر وفاق اور تحریک انصاف کے گویا کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی بات صرف بجری روڑی تک محدود نہیں کنسٹرکشن میں لوہے میں جو کچھ کھیل کھیلا جارہا ھے وہ بھی کرپشن اور لوٹ مار کی مہارت سامنے دیکھنے میں آرہی ھے بس کیا کریں بہتی گنگا میں سب ہی ہاتھ دھو رھے ہیں۔۔۔معزز قارئین!! سریا خریدتے وقت فراڈ سے کیسے بچیں گے آپ ۔۔۔؟ سریے کی مِقدار چیک کرنے کا ایک آسان سا کُلیہ جو کہ تجربہ کار لوگوں کا بنا ہُوا ہے، شاید نئے گھر بنانے والوں کو میری تحریر سے فائدہ ہوسکے، سب سے پہلے تو یاد رکھیئے کہ جِس سریے پر چھوٹی چھوٹی شاخیں سی نِکلی ہوں گی، جان لیجیے کہ وہ سریا کچرے سے بنا ہُوا ہے وہ ہرگِز مت خریدیں، اِس کے علاوہ سریے کی ہر لینتھ کے اوپر ایک کونے پر اس کی تفصیل لکھی ہوتی ہے اسے غور سے پڑھیں کیونکہ ساٹھ گریڈ کا سریا چالیس گریڈ کے سرہے سے مہنگا ہوتا ہے تو کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کو ساٹھ کا بتا کر چالیس پکڑایا جارہا ہے، اب آتے ہیں سریے کے وزن کو جاننے کے کُلیے کی طرف۔۔! پاکِستان میں تین سُوتر سے آٹھ سُوتر تک کا سریا استعمال ہوتا ہے، ان میں سے بھی عام گھروں میں تین اور چار ہی زیادہ استعمال ہوتا ہے، تین اور چار سُوترکا سریا چھت، سیڑھی، چھوٹے کالمز، چھوٹے بیمز وغیرہ میں جبکہ بڑے بیم یا بڑے کالمز میں چھ سُوتر کا سریا اِستعمال ہوتا ہے، تین سُوتر کی ایک چالیس فُٹ لینتھ کا کُل وزن چھ اعشاریہ آٹھ کلو ہوتا ہے یعنی چھ کلو اور آٹھ سو گرام، جبکہ تین سُوتر کے سریے کے ایک فُٹ ٹُکڑے کا وزن ایک سو ستر گرام ہوتا ہے، چار سُوتر کی چالیس فُٹ لینتھ کا وزن بارہ اعشاریہ دس کلو یعنی بارہ کلو اور سو گرام جبکہ ایک فٹ کے پیس کا وزن تین سو دو گرام ہوتا ہے، پانچ سُوتر کی ایک چالیس فٹ لینتھ کا وزن اٹھارہ اعشاریہ نوے یعنی اٹھارہ کلو اور نو سو گرام جبکہ ایک فُٹ کے پیس کا وزن چار سو چھہتر گرام ہوتا ہے، چھے سُوتر کی چالیس فٹ لینتھ کا کُل وزن ستائیس اعشاریہ بائیس یعنی ستائیس کلو اور دو سو بیس گرام جبکہ ایک فٹ پیس کا وزن چھ سو اسی گرام ہوتا ہے، سات سُوتر کی چالیس فٹ لینتھ کا کُل وزن سینتیس اعشاریہ پانچ یعنی سینتیس کلو اور پانچ گرام جبکہ ایک فٹ کے پیس کا وزن نو سو تیس گرام ہوتا ہے، آٹھ سُوتر کی چالیس فٹ لینتھ کا کُل وزن اڑتالیس اعشاریہ انتالیس یعنی اڑتالیس کلو تین سو نوے گرام اور ایک فُٹ کے پیس کا وزن ایک اعشاریہ اکیس یعنی ایک کلو دو سو دس گرام ہوتا ہے، اب آپ جب بھی سریہ خریدیں تو وزن کرا لینے کے بعد اس کے لینتھ گِنیں مثال کے طور پر آپ چار سُوتر کی دس لینتھ لیں ہیں جن میں سے ہر ایک کی لمبائی چالیس فٹ ہے، ان کے وزن کا کلیہ/فارمولا آپ کے پاس موجود ہے بارہ اعشاریہ دس ضرب دس برابر ایک سو اکیس کلو۔
اب اگر یہ ایک سو اکیس کلو ہے پھر تو ٹھیک یے یا اس میں زیادہ سے زیادہ چار سے پانچ کلو اوپر نیچے ہوجانے کی رعایت موجود ہے ( وجہ سریے کی میکنگ اور پڑے پڑے تھوڑا زنگ لگ جانے کی صُورت میں معمولی وزن کا کم ہونا ھے ) لیکن اگر چار سوتر کی چالیس فُٹ دس لینتھ کا وزن سو کلو بن رہا ہے تو سمجھ جائیں آپ کو چُونا لگایا جارہا ہے، اور یہ سریے کے ٹھیے یا فیکٹری والا رانگ نمبر ہے اُلٹےقدموں واپس بھاگ جائیں. میری یہ تحریر سب کو تو نہیں لیکن چند لوگوں کے بہت کام کی ہے، اس طریقے کو فالو کرکے سریے والوں کے فراڈ سے کافی حد تک بچا جاسکتا ہے، باقی اینٹ، بلاک، بجری والوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے کہ وہ مقدار برابررکھیں۔معزز قارئین!! موجودہ وزیراعظم عمران خان اور اس کے وزراء و مشران سے ابتک صرف نااہلی اور قابلیت کا شدید فقدان ہی سامنے آیا ھے کہ حکومت کے جانے کے دن قریب سے قریب تر ھوتے جارھے ہیں مگر کارکردگی صفر بٹا صفر ھوتی جارہی ھے ملک بھر میں کہیں بھی گورنرز نظر نہیں آرھا مہنگائی ھے کہ ہواؤں میں جھول رہی ھے نہ حکومتی رٹ اور نہ ہی فلاحی ریاست کے عملی اقدامات نظر آتے ہیں بس ایک ہی ضد ایک ہی چکر میں نہیں چھوڑوں گا جبکہ بس کے سب چھوٹے ھوئے ہیں پہلے والے بھی جھوٹے چور تھے یہ بھی کسی سے کم نہیں الله خیر کرے اس ملک پر۔۔۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You