عنوان:وہ سائنسدان ولیِ کامل تھا

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:وہ سائنسدان ولیِ کامل تھا۔۔۔!!
وہ دن آج بھی فراموش نہیں کر پایا ھوں اور شائد زندگی بھر بھی کیونکہ اس دن میری زندگی کا بہترین دن تھا اور مسلم سائنسدان وہ بھی ولیِ کامل کا شرفِ ملاقات واقعی میں بھی ان خوش نصیب فہرست میں شامل ہوگیا جس نے ان کی حیات میں ملاقات کا شرف حاصل کیا۔۔۔۔ معزز قارئین!! یہ زمانہ تھا جنرل پرویز مشرف کے ابتدائی اقتدار کا ایک روز میرے پیارے محنتی کیمرہ میں پیپ تنظیم کے رکن سینئر کیمرہ مین عمران شیخ نے مجھے کہا کہ جاوید صدیقی صاحب کل شام پانچ بجے شیئرٹن ہوٹل میں محسنِ پاکستان بین الاقوامی معروف سائنسدان ایک تقریب میں مہمانِ خصوصی مدعو ہیں۔ تقریب کے انٹری پاس آنے ہیں آپ شریک ہونا چاہتے ہیں تو بتادیں تاکہ آپ کا بھی نام صحافی ڈیسک میں شامل کردیا جائے۔محسنِ پاکستان کا میں پہلے ہی سے شدید عقیدت و محبت و پیار میں مبتلا تھا کیونکہ وہ میرے پیارے وطن کے بیٹے اور محسن ہیں۔ وہ شام بھی آگئی ھم دونوں ایک ہی گاڑی میں سوار ہوکر شیئرٹن ہوٹل پہنچے۔ سیکیورٹی سخت تھی۔ چیکنگ کے بعد ہم کانفرنس ہال پہنچے۔ تقریب شروع ہوچکی تھی ہم اپنی نشست پر برجمان ہوگئی تقریب کے آخر میں مہمانِ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے خطاب کیا۔ آپ کا خطاب کیا تھا گویا علم کا سمندر جوش مار رہا ہو۔ آپ نے اپنے خطاب میں تاریخ, مذہب, ثقافت, ادب, تحقیق, سیاست اور عسکری طاقت پر جس طرح سہل و آسان انداز میں بیایا وہ کسی اعلیٰ و ماہر دانشور و مفکر کا خاصہ رہتا ہے جو آپ کے حصے میں بھرپور تھا۔ میں نے آپ میں بے پناہ سادگی عاجزی و انکساری کا عنصر دیکھا۔ تقریب کے اختتام پر موجود کانفرنس روم کے تمام کے تمام شرکاء ایسے عقیدت و محبت میں لوٹ پوٹ ہورہے تھے جیسے کسی چھتے پر شہد کی مکھیاں لپکتی ہیں۔ ان میں میں بھی شامل تھا ہمت کرکے میں بلآخر آپ کے پاس پہنچ ہی گیا اور عقیدت و محبت و مسرت کیساتھ ان سے ہاتھ ملایا اور ایک تصویر بنوائی۔ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے قریبی دوستوں سے پتا چلا تھا کہ آپ نہ صرف شفیق و مہربان شخصیت کے مالک ہیں بلکہ خاموشی کیساتھ دکھی انسانیت کی بے پناہ خدمات مالی و جسمانی بھی ادا کرتے ہیں۔ آپ مذہب سے بے پناہ لگاؤ رکھتے تھے اور الله سے مسلمانوں کی بہتری اور کفار پر ہمیشہ غالب رہنے کی دعا کرتے تھے آپ پاکستان اور پاکستانی اقوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ہمیشہ فکرمند اور دعا گو رہتے تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عظیم انسان قائداعظم محمد علی جناح نے آزاد خود مختار اسلامی ریاست پاکستان دیا اور دوسرا محسن نے پاکستان کی بقاء و سلامتی دی۔ یہ دونوں تا قیامت پاکستان اور پاکستانی قوم کے محسن رہیں گے۔ الله دونوں محسنوں کی قبر کو نور سے بھرا رکھے اور انہیں قیامت کے روز نبی پاک آخرالزمان محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے آمین ثما آمین۔۔۔ محسنِ پاکستان زندہ باد, پاکستان پائندہ باد ۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی



