عنوان:نکاح، معاشرے کا خوبصورت نکھار

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:نکاح، معاشرے کا خوبصورت نکھار۔۔۔!!

اللہ تعالیٰ نےقرآن الحکیم و الفرقان المجید کی سورۃ نساء میں فرمایا *فانكحوا ما طاب لكم من النساء* کہ ”تم کو جو عورتیں پسند آئیں ان سے نکاح کرلو۔“ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا: نکاح میری سنت ہے جو میری سنت پرعمل نہ کرے اسکا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ نکاح کرو اس لئے کہ میں تمہاری کثرت کے سبب دوسری امت پر فخر کرونگا اور جو خوشحال ہو اسے چاہئے کہ نکاح کرے اور جو نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو اسے چاہئے کہ روزہ رکھے اسلئے کہ روزہ اس کیلئے ڈھال ہے اور روزہ شہوت کو ختم کرتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:۱۹۱۹) ، (تحفة الأشراف: ۱۷۵۴۹) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت حمید الطویل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ تین آدمی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے پاس پہنچے تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی عبادت کے بارے میں ان سے دریافت کریں۔ جب انہیں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی عبادت کے بارے میں بتایا گیا تو گویا انہوں نے اسے بہت ہی کم سمجھا اور کہا کہاں ہم اور کہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اللہ۔ عزّ و جل نے تو انکے سبب امتیوں کے اگلے پچھلے گناہوں کو معاف فرما دیا ہے پھر ان میں سے ایک نے کہا میں ہمیشہ شبِ بیدار رہ کر عبادت کرونگا، دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھونگا، تیسرے نے کہا میں عورتوں سے کنارہ کش رہونگا اور کبھی نکاح نہیں کرونگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم تشریف لائے اور آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں نے ایسا ایسا کہا ہے۔ قسم خدا کی ! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور کبھی ترک بھی کرتا ہوں میں رات کو نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں تو جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں۔ (صحیح بخاری:۵۰۶۳، شعب الایمان :۵۲۳۹، چشتی)۔۔۔۔۔۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا: دو شخص کے درمیان محبت کیلئے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی۔ (سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: 1847) ، (تحفة الأشراف: ۵۶۹۵) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی شادی کے بغیر زندگی گزارنے کی درخواست رد کردی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے انہیں اجازت دی ہوتی تو ہم خصی ہوجاتے۔ (سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: 1848) ، (صحیح البخاری/النکاح ۸ (۵۰۷۳، ۵۰۷۴) ، (صحیح مسلم/النکاح ۱ (۱۴۰۲) ، (سنن الترمذی/النکاح ۲ (۱۰۸۳) ، چشتی) (سنن النسائی/النکاح ۴ (۳۲۱۴) ، (تحفة الأشراف: ۳۸۵۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۷۵، ۱۷۶، ۱۸۳) ، سنن الدارمی/ النکاح ۳ (۲۲۱۳) ۔۔۔۔۔۔۔۔ سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے تجرد والی زندگی یعنی بے شادی شدہ رہنے سے منع فرمایا۔ زید بن اخزم نے یہ اضافہ کیا ہے: اور قتادہ نے یہ آیت پڑھی، (سورة الرعد: 38) ” ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ان کیلئے بیویاں اور اولاد بنائیں“۔ (سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: 1849) ، (سنن الترمذی/النکاح ۲ (۱۰۸۲) ، (سنن النسائی/النکاح ۴ (۳۲۱۶) ، (تحفة الأشراف: ۴۵۹۰) ، مسند احمد (۵/۱۷،چشتی) ۔۔۔۔۔۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو تسلی دیتا ہے یا کافروں کے اعتراض رد فرماتا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے کئی شادیاں کیں تو اولاً یہ نبوت کے منافی نہیں ہے، اگلے بہت سے انبیاء علیہم السّلام ایسے گزرے ہیں جنہوں نے کئی کئی شادیاں کیں، انکی اولاد بھی بہت تھی، بلکہ بنی اسرائیل تو سب یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہیں جنکے بارہ بیٹے تھے اور کئی بیویاں تھیں، اور ابراہیم علیہ السلام کی دو بیویاں تھیں، ایک سارہ، دوسری ہاجرہ، اور سلیمان علیہ السلام کی ننانوے بیویاں تھیں، الروضہ الندیہ میں ہے کہ مانویہ اور نصاریٰ نکاح نہ کرنے کو عبادت سمجھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہمارے دین میں اس کو باطل کیا، فطرت اور عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان نکاح کرے اور اپنے بنی نوع کی نسل کو قائم رکھے اوربڑھائے البتہ جس شخص کو بیوی رکھنے کی قدرت نہ ہو اس کو اکیلے رہنا درست ہے۔فقہاء کرام علیہم الرّحمہ نے حالات کے اعتبار سے نکاح کرنے اور نہ کرنے کے احکام بیان کئے ہیں، جو درج ذیل ہیں : فرض : اگر شہوت بہت زیادہ ہو حتیٰ کہ نکاح نہ کرنے کی صورت میں گناہ کر لینے کا یقین ہو، مہر اور نان و نفقہ ادا کرسکتا ہو نیز بیوی پر ظلم و ستم کرنے کا خوف نہ ہو، توایسی صورت میں نکاح کرلینا فرض ہے۔واجب : نکاح کرنے کا تقاضہ ہو، نکاح نہ کرنے کی صورت میں گناہ میں پڑنے کااندیشہ ہو، مہر اور نان و نفقہ ادا کرسکتا ہو نیز بیوی پر ظلم و ستم کرنے کا خوف نہ ہو، تو ایسی صورت میں نکاح کرلینا واجب ہے۔ سنت مؤکدہ : عام حالات میں یعنی مالی اور جسمانی حالت اچھی ہو، بیوی کے حقوق کو ادا کرسکتا ہو، بیوی پر ظلم و ستم کرنے کا خوف نہ ہو تو نکاح کرنا سنت مؤکدہ ہے۔ مکروہ تحریمی : اگر نکاح کرنے کے بعد بیوی کے مالی یا صنفی حقوق ادانہ کرنے کا اندیشہ ہو تو نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ حرام : اگر نکاح کرنے کے بعد بیوی کےمالی یا صنفی حقوق ادا نہ کرنے کا اسی طرح عورت پر ظلم کرنے کا یقین ہو یا نکاح کرنے کا مقصد بیوی پر ظلم کرنا ہو تو پھر نکاح کرنا حرام ہے۔ (البحرالرائق ٣/۸٤، درمختار علی ردالمحتار:٣/۶، فتاویٰ رضویہ، بہارِ شریعت) نکاح کرنے کے یہ درجات جس طرح مردوں کیلئے ہیں اسی طرح عورتوں کیلئے بھی ہیں۔ نکاح میں لڑکے کے اوپر مہر، ولیمہ مسنونہ اور مستقل طو پر بیوی کے نان و نفقہ کے اخراجات کے علاوہ کوئی مالی ذمہ داری نہیں ہے، اس لئے صرف اس وجہ سے کہ ابھی زیادہ روپیہ پیسہ نہیں ہے یا ولیمہ میں بھاری بھر کم خرچہ کرنے کی استطاعت نہیں ہے، نکاح نہ کرنا یا نکاح کومؤخر کرنا درست نہیں ہے، بلکہ اگر نکاح کرنے کی ضرورت ہو تو ایسی صورت میں سخت گناہ ہوگا اور اپنے ذہن اور جسم و روح کیساتھ ناانصافی بھی ہوگی اللہ تعالیٰ ہمیں احکامِ اسلام پر عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین۔۔۔ معزز قارئین!! اگر بارہ تیرہ سال میں بچے بچیاں بالغ ہورہے ہیں اور پچیس، تیس سال تک نکاح نہیں ہورہا تو یہ جنسی مریض بھی بنیں گے اور گناہِ کبیرہ بھی کریں گے۔ وقت پہ نکاح اولاد کا حق ہے۔ اس میں تاخیر والدین کو گناہ گار کرتی ہے۔ ہر غیر شادی شدہ جوان لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کی طلب رکھتے ہیں اور یہ ایک فطری ضرورت ہے لہذا اپنے بالغ بچے بچیوں کے نکاح کا بندوبست کریں۔ بھوک پیاس کے بعد بالغ انسان کی تیسری اہم ضرورت جنسی تسکین ہے اور جب جائز ذریعہ نہ ہو تو بچہ یا بچی گناہ اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہوجاتےہیں
بدقسمتی کی انتہا، مدارس، یونیورسٹیز میں بڑی بڑی لڑکیاں لڑکے بغیر نکاح علم حاصل کررہے ہیں اور والدین کو نکاح کی پرواہ ہی نہیں۔انسان کی جنسی ضرورت کا واحد باعزت حل نکاح ہے اور اگر نکاح نہیں تو زنا عام ہوگا یہ عام فہم نتیجہ ہے۔ اپنی بچیوں کے سروں پہ دوپٹہ ڈالنے کا مقصد تب پورا ہوگا جب انکا نکاح وقت پہ ہوگا۔اللہ تعالی نے معاشرتی اعمال میں سے نکاح کو سب سے آسان رکھا ہے۔ نکاح انسانوں کا طریقہ ہے، جانور بغیرنکاح کے رہتے ہیں اور رہ سکتے ہیں۔ والدین اپنی اولاد پہ رحم کریں اور وقت پہ نکاح کا بندوبست کریں۔ یہ ایک درس ہے جو ہر والدین کی ضرورت ہے، بےحیائی کو روکنے کا گناہوں سے اپنے بچوں کی حفاظت کرنے کا ذریعہ ہے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! مسلم ریاستوں میں اس بابت بہت زیادہ سہولیات بہم کی جاتی ہیں جن میں بلوغت میں نکاح کرنا لازماً قرار دیا جاتا ھے دوسرا یہ کہ نکاح کی تقریب کو سادہ آسان اور مناسب رکھا جاتا ہے تاکہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریب پائے تکمیل کو پہنچے لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں نکاح کو مشکل ترین جبکہ زنا کو آسان ترین بنادیا گیا ہے لازماً ہے کہ حکومتِ پاکستان اس بابت سنجیدگی کا مظاہرہ پیش کرتے ہوئے شادی ہال کے نرخ بیس سے تیس ہزار تک محدود کرائے۔ نکاح کے کھانے کو صرف دو ڈش پر محیط کرے ایک میٹھا ایک نمکین۔ جہیز کو محدود کرتے ہوئے سونے پر پابندی عائد کردی جائے جس قدر ممکن ہو نکاح کی رغبت کیلئے سخت ترین قانون سازی کی جائے جس کا رخ اور مقصد قرآن و سنت کی بالا دستی اور نکاح کی اہمیت کی جانب ہے بنا نکاح کیئے ملازمت پر تقرر نہ کیا جائے نہ ہی بالغ لڑکے لڑکیوں کو جاب و کاروبار کی اجازت دی جائے تو ایک جانب بڑھتی ہوئی بے راہ روی ختم ہوجائیگی تو دوسری جانب زنا کا عمل بھی تھم جائیگا اس احسن عمل سے جہاں پاکستانی معاشرہ اجلا صاف و شفاف ہوگا وہیں الله کی رحمتیں و برکتوں کا نزول بڑھ جائیگا اور ریاستِ پاکستان معاشی و معاشرتی خوشحالی کی جانب رواں دواں ہوجائیگا انشاء الله۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی




