کالم/مضامین

عنوان:طلبِ نور ۔۔۔ انسانی ضرورت

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:طلبِ نور ۔۔۔ انسانی ضرورت!!

آج ایک بار پھر میں اپنے قارئین کیلئے سیاست سے ہٹ کر دین اور روحانیت پر مبنی تحریر کرنے کی ہمت و جسارت کررہا ہوں۔ میرا عنوان اور موضوع انتہائی حساس اور نازک ہےجب بھی میں دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر قلم اٹھاتا ہوں تو خوف و ادب سے میرا جسم و روح کانپ جاتا ہے کہ کہیں غلطی کا نادانستہ طور پر مرتکب نہ ہوجاؤں ثواب کی جگہ عذاب میں مبتلا نہ ہوجاؤں کیونکہ میں کوئی عالم و فاضل، مفتی و علما و مشائخ، پیر و فقیر، استاد و رہبر نہیں ہوں۔ میں ایک انتہائی ادنیٰ معمولی بے وقعت گناھگار انسان ہوں ان سب کے باوجود مجھے فخر ہے کہ میرے رب العزت الله واحد لاشریک نے مجھے اپنے پیارے محبوب آخری الزماں محمد مصطفیٰ نورِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا کیا جو مجھ پر الله تبارک تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان ہے جس کا عمر بھر جتنا شکر ادا کروں کم ہے، آپ علیہ الصلواۃ و السلام پر کروڑوں درود و سلام جو مجھ جیسے بدکردار جھوٹے گناہگاروں کو معاف کرتے ہوئے اپنے رحمت کے سائے میں پناہ دیتے ہیں میں اور میرے ماں باپ آپ پر قربان الله مجھے حق سچ عدل و انصاف کیساتھ لکھنے اور بولنے کی طاقت پر قائم اور مستحکم رکھے چاہے میں شہید ہی کیوں نہ ہوجاؤں آمین ثما آمین۔ معزز قارئین!! مسجد جاتے ہوئے یہ دعا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پڑھتے تھے ۔۔ بحوالہ صحیح البخاری، الدعوات، باب الدعاء إذاانتبہ من اللیل، حدیث:6316، و صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و دعائہ باللیل، حدیث:1788، و سنن أبی داود، التطوع،باب فی صلاۃ اللیل، حدیث 1353، والمعجم الکبیر للطبرانی: 344/10، ومسند أحمد:343/1، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نےفتح الباری میں اسے ابن ابی عاصم کی طرف منسوب کیا ہے جنہوں نے اسے کتاب الدعاء میں ذکر فرمایا ہے، مزید فرماتے ہیں کہ مختلف روایات سے پچیس (25) چیزیں جمع ہوگئی ہیں۔ دیکھیے فتح الباری: 14/11۔۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَّفِیْ لِسَانِیْ نُوْرًا وَّفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا وَّفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا وَّمِنْ فَوْقِیْ نُوْرًا وَّمِنْ تَحْتِیْ نُوْرًا وَّعَنْ یَّمِیْنِیْ نُوْرًا وَّعَنْ شِمَالِیْ نُوْرًا وَّمِنْ اَمَامِیْ نُوْرًا وَّمِنْ خَلْفِیْ نُوْرًا وَّ اجْعَلْ فِیْ نَفْسِیْ نُوْرًا وَّ اَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا وَّ عَظِّمْ لِیْ نُوْرًا وَّ اجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا وَّ اجْعَلْنِیْ نُوْرًا، اَللّٰھُمَّ اَعْطِنِیْ نُوْرًا وَّ اجْعَلْ فِیْ عَصَبِیْ نُوْرًا وَّ فِیْ لَحْمِیْ نُوْرًا وَّ فِیْ دَمِیْ نُوْرًا وَّ فِیْ شَعْرِیْ نُوْرًا وَّ فِیْ بَشَرِیْ نُوْرًا، اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا فِیْ قَبْرِیْ وَنُوْرًا فِیْ عِظَامِیْ،وَزِدْنِیْ نُوْرًا وَّ زِدْنِیْ نُوْرًا وَّ زِدْنِیْ نُوْرًا وَّھَبْ لِیْ نُوْرًا عَلٰی نُوْرٍ۔۔۔۔۔۔ترجمہ: ’’اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرمادے اور میری زبان میں بھی، میرے کانوں میں بھی اور میری نگاہ میں بھی۔ میرے اوپر بھی نور ہو اور میرے نیچے بھی، میرے دائیں بھی نور اور میرے بائیں بھی، میرے سامنے بھی نور اور میرے پیچھے بھی اور میرے نفس میں بھی نور پیدا فرما دے اور خوب زیادہ کر میرے نور کو، مجھے بہت زیادہ نور عطا کر اور میرے لیئے (ہر طرف) نور کردے اور مجھے نور (مجسم) بنادے، اے اللہ!! مجھے نور عطا کر اور میرے پٹھے میں نور کردے اور میرے گوشت میں بھی اور میرے خون میں بھی اور میرے بالوں میں بھی اور میری جلد میں بھی نور کردے۔ اے اللہ!! میرے لیئے میری قبر میں نور کردے اور میری ہڈیوں میں بھی اور میرا نور زیادہ کر اور میرا نور زیادہ کر اور میرا نور زیادہ فرما اور مجھے نور پر نور عطا فرما۔‘‘ آمین ثما آمین ۔۔۔۔ معزز قارئین!! نبی آخر الزماں کی اس دعا سے کئی روشنیاں راہیں اور منازل عیاں ہورہی ہیں یہ سب کچھ اپنی امت کیلئے راہ ہدایت کے طور پر پیش کیں ہیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت تمام امت میں امتیازی حیثیت اور بلند و بالا مقام پر رہے۔ میں اپنے قارئین کو یاد دلاتا چلوں کہ جب رب نے اپنے خلیفہ کا ارادہ کیا تو ابلیس کو حکم دیا کہ آدم کا پتلا تیار کرو ابلیس نے فرشتوں کو الله کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے فرشتوں کو حکم دیا کہ ارض سے مٹی سمیٹتے ہوئے گارا تیار کرکے انسانی پتلا تیار کرو جب انسانی پتلا تیار ہوگیا تو الله نے اس انسانی پتلے میں سور پھونکی جسے روح کہتے ہیں داخل کی۔ یاد رہے رب سے بڑھ کر حسین و جمیل اور اعلیٰ نور کوئی نہیں رب کی جانب سے ہر عمل نور اعلیٰ ہوتا ہے تو جان لینا چاہئے کہ روح عکس ہے نور کا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم اور غیر مسلم یعنی مشرکین کی روح بھی کیا نور سے مزین ہوتی ہے تو اس خیال کی وضاحت اس طرح ہے کہ ایک روشنی شفاف ہوتی ہے اور ایک غیر شفاف روشنی دونوں ہی ہیں شفاف روشنی سے ہر شئے واضع نظر آتی ہے جبکہ غیر شفاف روشنی سے دیکھنے میں نہ صرف دقعت پیش آتی ہے بلکہ دیکھنے سے قاصر بھی ہوتے ہیں۔ الله کی بنائی ہوئی ازل سے ابد تک یعنی روز اول دنیا سے قیات تک کی ارواحیں بنادی گئیں تھیں جو اپنے اپنے مقررہ وقت کے مطابق دنیا میں سفر کرکے واپس عالم برزخ روانہ ہوجاتی ہے ان ارواحوں کا اصل ٹھکانہ یعنی مقام رب العزت نے پسندیدہ نیک فرمانبردار ارواحوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نہایت پرسکون پرتعائش جنت بنادی ہے جس میں یہ ہمیشہ رہیں گی اور ناپسندیدہ سرکش ارواحوں کیلئے اذیت ترین مقام دوزخ بنائی ہے جس میں یہ سرکش ناشکری ارواحیں ہمیشہ کیلئے واصل کردیی جائیں گی ۔۔۔۔ معزز قارئین!! نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعا سے اپنی امت کو بہترین پیغام اور ہدایت سے نوازتے ہوئے شعور حیات کی اصل رموز و افادیت ہیئت و کیفیت کی کھل کر بیان کردیا ہے۔۔۔ معزز قارئین!! قرب الہٰی اور عشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حصول کیلئے فنا فی الرسول اور فنا فی الله تب ہی ممکن ہوسکتا جب انسان اپنے جسم میں موجود روح کو مضبوط کرتے ہوئے دل کو الله اور اسکے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے منور کرے تاکہ اعلیٰ نور کے سائے میں سنبھلنے کی طاقت مل سکے یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب نفس امارہ کو بھی مسلمان بناتے ہوئے اپنے تابع کرلیا جائے تاکہ وہ شیاطین کے ہر جانب سے حملوں کا بھرپور مقابلہ کرسکے۔ شیاطین آگ سے جبکہ روح نور سے ہیں اور نور سب سے زیادہ طاقتور اور حاوی ہے۔ بیشک الله ہی قادر مطلق اور ہر شئے پر غالب ہے۔ انسان اسی وقت مضبوط ترین ہوتا ہے جب اسکے اندر کا شریر یعنی جسم نور سے منور ہوجائے اور انسانی نور کا مرکز انسانی دل ہے۔ نرم دل ہی نور کو سمیٹ سکتے ہیں۔ سخت دل بےجان اور مردہ ہوجاتے ہیں۔ نرم دل بنانے کیلئے تین شرط لازمی ہیں (اول) ۔۔۔ خوف خدا (دوئم)۔۔۔ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم (سوئم)۔۔۔ نیک اعمال ۔۔ ان تین شرطوں کے بعد ہی جسم خاکی سے جسم نوری بنایا جاسکتاہے۔ دین اسلام واحد دین و مذہب ہے جو انتہائی پاکی اور طہارت کا عمل اپنانے کی ترغیب دیتا ہے کیونکہ نور انتہائی پاک شفاف اور معطر ہے اس کی طاقت سب پر حاوی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے الله سے دعا کرتے ہوئے جسم کے ہر ہر حصے ہر ہر انگ کو اپنے نور سے منور کرنے کی دعا کی ہے اس دعا کو اپنانے سے امتی قبل از موت اور بعد از موت روحانی و جسمانی راحت سکون امن سلامتی اور مضبوطی کے حامل ہوجاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت گزار صحابہ اجمعین تابعین اور تبع تابعین اولیاءاسلافین بزرگان دین نے اپنے اجسام کو کمزور رکھتے ہوئے اپنے اجسامی نور کو طاقت کیساتھ غالب رکھا جسمانی خواہشات کا قتل کرکے صبر قناعت شکر اور ذکر و افکار کے عمل کو مستحکم رکھتے ہوئے تساسل کیساتھ جاری رکھا اپنے وجود کو بنی نوع انسان کیلئے نافع بنادیا۔ہزاروں ہستیاں بظاہر تو نہیں مگر انکے فیوض و برکات اور شمع نور کی روشیاں چمک دمک رہی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں اصحابعین سے لیکر ابتک ڈوبے ہوئے عاشقین سے نور کی شعاعیں پھوٹ رہی ہیں جو تاقیامت جاری رہیں گی۔ کچھ منتخب کیئے جاتے رہیں گے اور کچھ سے محنت کراکے منور کیا جاتا رہے گا بحرکیف یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان بناء نور کے جانور ہے انسان کو انسان بننے کیلئے نور کی شعاعیں لازم و ملزوم ہوتی ہیں اور انسانیت رب العزت کے قوانین کی تعمیل میں ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ الله مجھے اپنے اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کا سایہ عطا کردے آمین ثما آمین

کالمکار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You