عنوان:جمہوری علمدار کے معصوم خاندان

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:جمہوری علمدار کے معصوم خاندان
السلامی جمہوریہ پاکستان کے دو لخت ھونے کے بعد مغربی پاکستان یعنی موجودہ پاکستان کے جمہوری علمداروں میں کئی سیاسی شخصیات نے سر زمین پاکستان کو باپ کی جاگیر اور عوام کو اپنا غلام بنائے رکھا ستر سالہ دورانیئے میں ایک بار مارشلاء دوسرا ایمرجنسی دور آئے جنمیں ایک جنرل ضیاء الحق کا مارشلا دوسرا جنرل پرویز مشرف کا ایمرجنسی دور تھا اس میں کوئی دوراہے نہیں کہ ان جنرلز کے زمانے میں سیاسی تربیت نظام ریاست اور قانونی اصلاحات پر قطعی کام نہیں ھوا اس بات تذکرہ اس لیئے کیا جاتا ھے کہ ضیاء کے ادوار میں سیاسی جماعتوں کو پیدا کیا۔ پی ایم ایل نون دوسرا ایم کیو ایم ان دونوں جماعتوں نے نہ صرف مایوس کیا بلکہ ملکی سالمیت کیلئے تکلیف دہ رھے یہاں میں نواز شریف کیلئے انکی ملکی و قومی سطح پر کارفرمائیوں پر ایک ہلکی سی نظر ڈالونگا یاد رھے پی پی پی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے کسی طور جمہوریت کو تار تار کرنے میں کوئی کمی نہ چھوڑی ۔۔۔۔ معزز قارئین!! سنہ انیس سو نوے میں جب نواز شریف جنرل حمید گل اور جنرل مرزا اسلم بیگ کی مدد سے وزیراعظم بنا تو اسٹیبلیشمنٹ کا یہ بغل بچہ اپنے رنگ دکھانے لگا اور اس نے اپنی کرپشن کی اننگز کا آغاز شروع کیا- مثلاچوہدری شوگر ملز کی مثال آپ کے سامنے رکھتا ہوں- سنہ انیس سو نوے میں چوہدری شوگر ملز کا آغاز کیا گیا-اس شوگر مل کے تین پارٹنر تھے-میاں نواز شریف، شہباز شریف اور عباس شریف- عباس شریف کا انتقال ہوگیا باقی اس وقت شہباز شریف اور نواز شریف موجود ہیں- ان تینوں نے اس شوگر مل میں پچاس، پچاس ملین روپے انویسٹمنٹ کی- یوں اس شوگر مل کی ٹوٹل ورتھ ایک سو پچاس ملین روپے تھی جس میں پچاس ملین روپے کا حصہ نواز شریف کا تھا- پچاس ملین روپے کا حصہ شہباز شریف کا اور پچاس ہی ملین روپے کا حصہ عباس شریف کا- شہباز شریف پر یہ کیس علیٰحدہ سے چل رہا- نواز شریف نے جس وقت اس شوگر مل میں پچاس ملین کی انویسٹمنٹ کی اس وقت نواز شریف کے ٹوٹل ڈکلیئرڈ اثاثے صرف دو ملین روپے تھے- یہ میں نے بلکہ شریف خاندان کا ٹیکس ریکارڈ کہہ رہا جو انہوں اپنے وکیلوں کی مدد سے جمع کروایا- پہلا ریفرینس یہ ہے کہ آپ کی ڈکلیئرڈ اثاثے دو ملین روپے کے جبکہ انویسٹمنٹ پچاس ملین روپے کی؟؟ اڑتالیس ملین روپے کہاں سے آئے اسکا جواب دیں- دوسرا کیس اس میں یہ بنا کہ انیس سو ننانوے میں شریف خاندان کے الفلاح بینک کے اکاؤنٹ میں سعودی عرب سے فارن انویسٹمنٹس کی مد میں چھ ملین ڈالر ٹرانسفر ہوتا ہے اور یہ ٹرانسفر کرنے والے بندے کا نام "سعید السعودی” تھا- "سعید السعودی” نے چھ ملین ڈالر ٹرانسفر کیئے اور بدلے میں چوہدری شوگر مل کے دس ملین شیئرز خریدے- یہاں تک یہ ایک معمولی بات تھی پھر سنہ دو ہزار آٹھ میں اسی "سعید السعودی” نے وہ دس ملین شیئرز جو سنہ انیس سو ننانوے میں خریدے تھے وہ دس ملین شیئرز مریم صفدر کے نام پر ٹرانسفر کردیئے- اور بدلے میں چھ ملین ڈالر جس کے عوض اس نے دس ملین شیئر سنہ انیس سو ننانوے میں خریدا واپس نہیں لیئے- یہاں سے گڑ بڑ شروع ہوئی۔ یہ سیدھا سیدھا منی لانڈرنگ کا کیس ہے کہ انویسٹمنٹس کی مد میں پیسہ دکھایا گیا اور بعد میں یہاں کسی لوکل بندے کے نام پر ٹرانسفر کردیئے گئے- دوسری چیز یو اے ای کے ایک بندے جس کا نام نصر عبداللہ تھا نے سنہ دو ہزار دس میں یو اے ای سے پانچ ملین ڈالر ٹی ٹی کی صورت میں شریف خاندان کے بینک الفلاح اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کئے اور اس نے بھی چوہدری شوگر ملز کے شیئرز خریدے- اور سنہ دو ہزار پندرہ میں نصر عبداللہ نے سنہ دو ہزار دس میں چوہدری شوگر مل کے خریدے ہوئے شیئرز نواز شریف اور حسین نواز کے نام کردیئے اور ان دونوں نے کوئی پیمینٹ نصر عبداللہ کو نہیں کی- "سعید السعودی” کو انویسٹی گیشن کیلئے بلایا گیا تو اس نے کہا حسین نواز نے میرے بزنس میں انویسٹ کیا اور بعد میں مجھ سے رقم کا مطالبہ کیا تو میں نے چھ ملین ڈالر کی رقم پاکستان میں ان کے بینک الفلاح کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردی اور میں کسی چوہدری شوگر مل کو نہیں جانتا اور نہ ہی میں نے چوہدری شوگر مل کا کوئی شیئر خریدا۔اسی طرح یو اے ای کے نصر عبداللہ نے بھی یہی بیان ریکارڈ کروایا مریم صفدر سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ آپ چوہدری شوگر ملز کے دس ملین شیئرز کی مالک ہیں اسکی سورس آف انکم کیا ہے تو مریم نے جواب دیا کہ یہ شیئرز اسکے دادا نے اسکے نام کئے جبکہ اسکا دادا سنہ دو ہزارچارمیں انتقال کرچکا تھا اور یہ شیئرز سنہ دو ہزار آٹھ میں اسکے نام ٹرانسفر ہوئے-اب پتہ نہیں ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کرلی کہ قبروں سے شیئر بینکوں میں بھی ٹرانسفر ہونے لگےیہ وہ کیس کی تفصیل جس پر نیب آج مریم صفدر کیخلاف حرکت میں آئی ہے۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے خاندان بھی نیب کی کاروائی پر چلاتے ہوئے کہتے ھیں کہ جمہوریت کو ھم خطرے میں دیکھتے ہیں حقیقت تو یہ ھے کہ یہ سب کے سب بڑی بڑی سیاسی جماعت کے خاندان جمہوریت کے قاتل ڈاکو لٹیرے ہیں آئین و قانون کے مطابق یہ غدار وطن ھیں، اور جنہیں موقع نہیں ملا وہ ابتک شفاف معصوم ہیں۔ اکیس ویں صدی میں بھی عوام شعور کی منزل تک نہیں پہنچے یاد رھے ان کرپٹ سیاسی خاندانوں کی سپورٹ ھمارا میڈیا کرتا ھے جبتک میڈیا کا سخت ترین احتساب اور آڈٹ نہ ھوگا اس وقت تک میڈیا ریاست کو بلیک میل اور عوام کو بے وقوف بناتا رہیگا یاد رہے میڈیا کا احتساب کا صحافتی قدغن سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی


