عنوان:اےآروائی نیوز کے رپورٹر افضل پرویز کا اسٹرنگ آپریشن

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:اےآروائی نیوز کے رپورٹر افضل پرویز کا اسٹرنگ آپریشن
اےآروائی نیوز کے رپورٹر افضل پرویز کو میں کئی سالوں سے جانتا ھوں کیونکہ ایک وقت جب میں اسائنمنٹ ایڈیٹر تھا تو اسے کئی اشوز پر اسائن کیا اس نے ہمیشہ دیانتداری ایمانداری نیک نیتی اور ادارے کیساتھ پر خلوص ہوکر انتھک محنت کی اور بہت جلد پروفیشنلز رپورٹروں کی صف میں جگہ بنالی۔ میری کئی بار فیلڈ میں بھی ملاقات رہی اور اسکے کام کو جانچا اور پرکھا یہ ہر طرح ادارے کیلئے بہتر ثابت رہا۔ اپنے معزز قارئین کو بتاتا چلوں کی میں ان لوگوں میں سے ہوں جنھوں نے اس ادارے کیساتھ انیس سال گزارے لیکن پھر مالکان نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ بس کالی بھیڑوں کی چال اور سازش میں آکر اپنے بیشمار مخلص لوگوں پر قتلِ معاش کرڈالا اسی لیئے میں مالکان کو یزید فرعون شداد کہتا ھوں مگر ادارے کیلئے ہمیشہ دعائیں اور نیک خواہشات رکھتا ھوں۔مالکان کیلئے یہی کافی ھے کہ روز قیامت انکے گریبان کو پکڑوں گا اور ان کی شمر و یزیدیت پر حساب طلب کرونگا ایک طرف تنخواہ دینے کی سکت نہیں دوسری جانب کھربوں نربوں کے پروجیکٹ کی تیاریاں میں نے قسم کھائی ھے کہ انکی ماتحتی میں مرتے دم تک نوکری نہیں کرونگا انشاءالله۔ ان کو ذہنی اذیت اور گناہوں میں مبتلا کرنے کیلئے وہی پستا قد گنجا کافی ھے جو سازشوں اور گروہ بندی کے انبار پھیلائے بیٹھا ھے جیسے ڈرامہ ارطغفرل میں منافق اعلیٰ امیر سادقین کوپیک ۔ بحرحال میں اپنے کالم کی جانب آتا ھوں۔ معزز قارئین!!
مجھے کئی حلقہ احباب نے واثس اپ اور دیگر شوشل میڈیا کے ذریعے اپنا اپنا موقف دیا ھے خاص طور پر جب میرا اےآروائی نیوز کے رپورٹر افضل پرویز سے رابطہ ھوا تو اس نے بتایا کہ
حکومت سندھ کے اقدامات یہ بتاتے ہیں کہ کراچی اور حیدرآباد کرونا سے شدید متاثر ہیں لہذا دونوں شہروں کو فی الفور ٹیکس فری زون اور آفت زدہ قرار دے کر بجلی پانی گیس کے بل معاف اور ہر قسم کی وصولی بند کی جائے.مہاجر آبادیوں کے بازار بند کرانا اور غیر مہاجر آبادیوں میں آزادانہ کاروبار کی چھوٹ کا مقصد مقامی تاجروں کو کمزور کرنا جبکہ غیر مہاجر آبادیوں کو فائدہ پہنچانا ہے لاک ڈاؤن میں شنواری کی کڑھائی تو مل سکتی ہےلیکن دہلی کی نہاری نہیں یہ کونسا انصاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دنوں میں سندھ حکومت نے احکامات جاری کئے کہ چھ بجے تمام کاروباری زندگی بند کر دیئے جائیں اور ایک ماہ سے شہر بھر کے ہوٙٹلز صرف پارسل کے تحت اپناکاروبار کرسکتے ہیں لیکن حقائق کچھ اور ہی ہیں۔ شہر میں کاروبار بند اور ہوٹلز کےاندر کھانے کی اجازت نہیں لیکن لیاری کے علاقے میں تمام کاروبار زندگی رات نو بجے جاری تھی میں نے لیاری کی تمام فوٹیج اپنے کیمرے مین سے بنوائیں اور پھر مختلف علاقوں کھارادر’ نوالین’ لیاری سے ایز لائف کئے ۔جب میں ماری پور روڈ سے گزار رہا تھا میں نے دیکھا کہ اس مقام پر دو شنوائی ہوٹل کی ہہلی منزل اور گروانڈ فلور لوگوں سے بھرے ہوئے تھے میں نے فوری اپنی ڈی ایس این جی وہاں پر رکوالی۔پہلے میں نے گرین شنوائی ہوٹل کی سکون سے فوٹیج کیمرے مین سے بنوائی اور وہاں کسی نے روکا نہیں جسے ہی ہم سپر شنواِئی جو برابر میں ہی ہے اند ر داخل ہوئے تو وہاں کے منیجر نے ہم کو روکنے کی کوشش کی جب اس کو پیار سے بول کہ بھائی پارسل کی اجازت ہے تو اس نے بدمعاشی شروع کر دی۔ میں نے ہوٹل کے باہر سے اپنا از لائف بنایا اور جیسے ہی جانا لگا تو ہوٹل انتظامیہ کے کچھ لوگوں نے اوپر آوازیں دے کر بلوا لیا جس میں کچھ لوگ نشے میں دھت تھے میں نے ہوٹل کے مین گیٹ سے باہر جانے لگا تو دو سے تین لڑکے جو موجود تھے پکڑنے کیلئے آگے بڑھے گرے۔ گئے۔ جس وہاں لوگ نے بول کے یہ نشے میں ہے اس طرح جب ان کا بس نہیں چلا تو انھوں نے تشدد شروع کردیا اور میں نے موقع پاکر بھاگنے کی بہتر سمجھا۔۔۔معزز قارئین!! بحیثیت صحافی کالمکار میرے سامنے میرا جانی خونی دشمن بھی آجائے تو میں اگر وہ سچا برحق ھے تو اسے سچا اور برحق ہی لکھوں گا ذاتی اختلافات یا ناراضگی کو اپنے پروفیشنل سے کوسوں دور رکھتا ھوں یہ اےآروائی نیوز کے رپورٹر افضل پرویز کی بہادری اور ہمت ھے کہ اس نے ایک مافیا کے سامنے ڈٹ کر اپنی پروفیشنلانہ فرائض انجام دیئے۔ اس واقعہ کے بعد اپنے دوست ذرائع سے معلوم ھوا تھا کہ ہوٹل میں کھانے کے علاوہ خواہشمند گاہکوں کو منشیات بھی بآسانی میسر ھوجاتی ھے۔ ناظم آباد میں بھی ایک فرنٹ پر ھوٹل ھے اور بیک پر منشیات کا اڈہ یوں کراچی بھر میں پھیلے ھوئے منشیات کے مافیا پولیس اور دیگر سہولتکاروں سے خوب دھندا جمائے بیٹھے ہیں ان سب کیلئے کرونا وائرس اور حالات کچھ اثر نہیں رکھتے۔ لکھنے کو بہت کچھ ھے بس چند لفظ میں سمندر سمیٹ کر اپنا کالم مکمل کررہا ھوں کرونا کی آڑ میں دھندا پر گندا ھے دولت سے بھرا ڈنڈا ھے ھر چند کوئی افسر اس میں گندا ھے سایہ بھی سندھ حکومت کا فرش پے پولیس کا ڈنڈا ھے یہاں قانون بھی گندا ھے خرید و فروخت کا ڈنڈا ھے۔۔۔۔ سمجھ گئے میرے قارئین۔ آخر میں اےآروائی کے رپورٹر افضل پرویز کو سلام پیش کرتا ھوں اور سراہتا ھوں کہ اس نے اپنے ادارے کا نام بلند کرنے میں مافیا کے آگے نہ ڈرا اور نہ خوف کھایا۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں سے گزارش کرتا ھوں کہ صحافیوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ پاکستان زندہ باد۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی



