عدالتِ عظمیٰ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 60 ہزار سے زائد،فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی

عدالتِ عظمیٰ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 60 ہزار سے زائد،فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا:انجینئر ندیم ممتاز قریشی
نئے چیف جسٹس جناب یحییٰ آفریدی سے توقع ہے کہ وہ انصاف کی جلد از جلد فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کریں گے:گفتگو
ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کے سالانہ رول آف لاء انڈیکس میں پاکستان 142 ممالک کی فہرست میں 129 ویں نمبر پر ہے:چیئرمین
عدلیہ کے وقت اور توجہ کو عوامی اہمیت کے معاملات کے لئے وقف اور سیاسی مقدمات کا بہاؤ کوکم کرنابہت ضروری ہے:اظہار خیال
چیئر مین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے نئے چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری اور سیریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتِ عظمیٰ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 60 ہزار 508 ہے جن میں 33 ہزار 269 سول اور 10ہزار 335 فوجداری اپیلیں ہیں اور گزشتہ دس برس کے دوران مقدمات میں 3 سو فیصد اضافہ ہوا ہے ایسے میں نئے چیف جسٹس جناب یحییٰ آفریدی سے توقع ہے کہ وہ انصاف کی جلد از جلد فراہمی کے عمل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائیں گے،عدلیہ کے وقت اور توجہ کو عوامی اہمیت کے معاملات کے لئے وقف رکھنے کے لیے سیاسی مقدمات کا بہاؤ کم کرنا ضروری ہے ورنہ زیر التواء مقدمات کی تعداد میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کی صورتحال کی بہتری بہت بڑا چیلنج ہے جس کیلئے جامع اصلاحات کی بھی اشد ضرورت ہے اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو انصاف کی فراہمی میں تاخیر بڑھ جائے گی۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کے سالانہ رول آف لاء انڈیکس میں پاکستان142 ممالک کی فہرست میں 129 ویں نمبر پر ہے جبکہ 6 علاقائی ممالک میں 5واں نمبر ہے، فوری انصاف کی فراہمی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
24-10-2024



