پنجاب

طبقاتی نظام تعلیم شرح خواندگی میں کمی کا باعث بن رہا ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی اعلی تعلیمی

طبقاتی نظام تعلیم شرح خواندگی میں کمی کا باعث بن رہا ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی
اعلی تعلیمی اداروں کو سیاست اور ذاتی مفادات سے پاک کرتے ہوئے ریسرچ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے:گفتگو

پاکستان کی کوئی یونیورسٹی ان چار سو اولین اداروں میں شامل نہیں ہے جن کی رینکنگ عالمی سطح پر ہے:چیئرمین

ایچی سن کالج کے ایشو سے واضع ہوگیا ہے کہ کس طرح گورنر پنجاب نے منظور نظر بیوروکریٹ اور موجودہ سینیٹر کو نوازانے کی کوشش کی

چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے طبقاتی نظام تعلیم شرح خواندگی میں کمی کا باعث بن رہا ہے،اعلی تعلیمی اداروں کو سیاست اور ذاتی مفادات سے پاک کرتے ہوئے ریسرچ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کوئی بھی یونیورسٹی ان چار سو اولین اداروں میں شامل نہیں ہے جن کی رینکنگ عالمی سطح پر ہے بلکہ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ پہلے سو ایشیائی اداروں میں بھی شامل نہیں ہیں،ایچی سن کالج لاہور کے ایشو سے واضع ہوگیا ہے کہ کس طرح گورنر پنجاب نے منظور نظر بیوروکریٹ اور موجودہ سینیٹر کو نوازانے کی کوشش کی اور یہی حال پاکستان کے دیگر تعلیمی اداروں کا بھی ہے جہاں میرٹ کی بجائے سفارشی کلچر کو پروان چڑھایا جارہا ہے جس کی وجہ سے طالبات کے ساتھ جنسی ہراسانی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں تاہم ضرورت اس امر کی ہے امتحانی اور پیپر چیکنگ کے نظام کو بھی بدلا جائے تاکہ فی میل سٹوڈنٹس بلیک میل نہ ہوں۔ان خیالات کا اظہار پاکستان کے نظام تعلیم کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے لوگوں کو تعلیمی پالیسیوں کا حصہ ہونا چاہیے مگر افسوس یہاں ایسے لوگوں کو حصہ بنایا جاتا ہے جو نظام تعلیم کی بہتری کی الف، ب بھی نہیں جانتے۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ ملک میں رائج عام اور خواص کیلئے رائج نظام تعلیم کو بدلنے کے ساتھ تعلیمی بجٹ کو بھی بڑھانے کی ضرورت ہے۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
28.03.2024

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You