اہم خبریںپاکستان

صوابی میں جاری آبپاشی کے منصوبوں کو متعلقہ حکام اپنی کوششیں تیز کرے۔عبدالکریم

صوابی میں جاری آبپاشی کے منصوبوں کو متعلقہ حکام اپنی کوششیں تیز کرے۔عبدالکریم

صوابی میں ہر سال ممکنہ سیلابوں کے خطرات سے نمٹنے کیلئے مناسب منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ معاون خصوصی برائے صنعت

پشاور(نمائندہ خصوصی) گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر نے ہدایت کی ہے کہ صوابی میں جاری آبپاشی کے منصوبوں کو مقررہ وقت میں تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ حکام اپنی کوششیں تیز کرے۔انھوں نے کہا کہ پیہور ہائی لیول کینال اور اس سے ملحقہ دیگر آبپاشی منصوبوں سے ضلع میں تقریبا 2 لاکھ اور 50 ہزار کنال رقبہ سیراب ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے پشاور میں ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے تعاون سے صوابی میں آبپاشی کے بڑے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں مرکزی رہنما پاکستان تحریک انصاف، رکن قومی اسمبلی اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ رنگیز خان کے علاؤہ محکمہ ایریگیشن کے اعلی حکام،پراجیکٹ ڈائریکٹر پیہور ہائی لیول کنال توسیعی منصوبہ و دیگر متعلقہ افسران شریک تھے۔اجلاس میں پیہور ہائی لیول کنال توسیعی منصوبے،لاٹ 4،پیہور مین کنال ودیگر جاری منصوبوں کے بارے میں تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور ان پر جاری کام کی رفتار اور تکمیل کے ٹائم لائنز کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر اجلاس میں شریک حکومتی نمائندوں اور رکن قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنی آراء و تجاویز بھی پیش کیئے۔واضح رہے کہ ان ترقیاتی منصوبوں میں پیہور مین کنال کی اپگریڈیشن شامل ہے جن میں کینال کے سرے سے آخری سرے تک مزید کام کرنا،منسلک چھوٹی نالیاں اور سیلابی پانی سے بچاؤ و چھوٹی شاخوں کی پکائی شامل ہیں۔اس طرح اس نہر سے جن جن علاقوں کو اس کے نیچے زیر آبپاشی لایا جا سکتا ہے تو وہاں تک اس کی توسیع بھی اس منصوبے میں شامل یے۔اجلاس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ پیہور ہائی لیول کنال کا بنیادی منصوبہ 30 مارچ تک مکمل کیا جائے گا اور مقررہ ٹائم لائن میں ہی اس منصوبے کو مکمل کیا جائے گا۔اس طرح اجلاس کے شرکا کو متعلقہ افسران نے بتایا کہ لاٹ 4 کا تفصیلی ڈیزائن مکمل کیا گیا ہے اور اس منصوبے کے ذریعے 12 ہزار ایکڑ سے زاید رقبہ سیراب ہو سکے گا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اس منصوبے پر آئندہ تین سالوں میں عملدرآمد کیا جائے گا۔اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ پیہور مین کنال کی بحالی اور ری ماڈلنگ بھی کی جارہی ہے اور اس منصوبے کے ذریعے بھی مزید اراضی زیر کاشت لائی جائے گا۔اس موقع پر وزیر اعلی کے معاون خصوصی نے تجویز دی کہ صوابی میں ہر سال ممکنہ سیلابوں کے خطرات سے نمٹنے کیلئے مناسب منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا صوابی کو سیلاب کے خطرات بونیر کی جانب سے بارشوں میں پانی کے بہاؤ کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ماضی میں شیر درہ کے مقام پر ایک ڈیم کا قیام تجویز کیا گیا تھا اگر وہ منصوبہ قائم ہو سکیں تو صوابی میں سیلابوں کے 50 فیصد خطرات کم ہو سکیں گے۔اس طرح خدوخیل کے مقام پر بھی ڈیم کے ذریعے پانی کو روکا جا سکے گا۔انھوں نے کہا کہ ان مجوزہ منصوبوں سے نہ صرف سیلابوں کو کنٹرول کیا جا سکے گا بلکہ کمانڈ ایریا بھی سیراب ہو سکے گا اور علاقے میں سیاحت اور ماہی پروری کی سرگرمیاں بھی بڑھیں گی۔اس تجویز پر فورم نے فیصلہ کیا کہ محکمہ ایریگیشن کے حکام معاون خصوصی کو تفصیلی بریفنگ دیں گے جس میں ان تجاویز کا اعدادو شمار اور اسکی افادیت کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کے بعد اس سلسلے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You