پنجاب

صحافی ہاؤسنگ اسکیم: وعدوں، امیدوں اور انتظار کی ایک طویل داستان

صحافی ہاؤسنگ اسکیم: وعدوں، امیدوں اور انتظار کی ایک طویل داستان

تحریر: افتخار خٹک

جمہوری معاشروں میں صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے صحافی نہ صرف عوام اور حکمرانوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں بلکہ قومی مسائل کو اجاگر کرنے، عوامی آواز کو ایوانوں تک پہنچانے اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھنے کی اہم ذمہ داری بھی نبھاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی اقدامات کیے جاتے ہیں تاکہ وہ معاشی اور سماجی دباؤ سے آزاد ہو کر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر سکیں پاکستان میں بھی مختلف ادوار میں صحافیوں کی فلاح کے لیے متعدد اعلانات کیے گئے جن میں رہائشی پلاٹوں کی فراہمی کا منصوبہ بھی شامل تھا، لیکن بدقسمتی سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے صحافیوں اور کیمرہ مینوں کے لیے اعلان کردہ ہاؤسنگ اسکیم تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکی اطلاعات کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے 191 صحافیوں اور کیمرہ مینوں نے مجوزہ صحافی ہاؤسنگ اسکیم میں شمولیت کے لیے مطلوبہ دستاویزی کارروائی مکمل کرتے ہوئے دو سال قبل فی کس 25 ہزار روپے جمع کرائے تھے اس منصوبے کے حوالے سے مختلف ادوار میں اہم سیاسی شخصیات کی جانب سے اعلانات اور یقین دہانیاں بھی کروائی گئیں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف، وفاقی وزیر داخلہ و سابق نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے مختلف مواقع پر صحافیوں کو رہائشی پلاٹ فراہم کرنے کے وعدے کیے جس کے بعد صحافتی برادری میں امید ہو چلی تھی کہ ان کا دیرینہ مطالبہ جلد پورا ہو جائے گا ذرائع کے مطابق فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی جانب سے راولپنڈی کے علاقے تھنیہ کے علاقے میں زمین کی نشاندہی بھی کی جا چکی ہے اور منصوبے کے ابتدائی مراحل بھی مکمل کیے جا چکے ہیں اس کے باوجود الاٹمنٹ کا عمل تاحال شروع نہیں ہو سکا جس کے باعث متاثرہ صحافیوں اور کیمرہ مینوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب زمین کی نشاندہی ہو چکی، درخواستیں وصول ہو چکیں اور ان سے رقم بھی جمع کر لی گئی تو پھر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟
یہ مسئلہ محض پلاٹوں کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ حکومتی وعدوں اور ادارہ جاتی ساکھ سے بھی جڑا ہوا ہے جب کسی منصوبے کے لیے شہریوں سے رقم وصول کر لی جائے اور انہیں مستقبل کے حوالے سے یقین دہانیاں دی جائیں تو پھر ریاست اور متعلقہ اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کریں یا کم از کم اس کی پیش رفت کے بارے میں واضح معلومات فراہم کریں بدقسمتی سے اس معاملے میں شفافیت کا فقدان دکھائی دیتا ہے جس کی وجہ سے صحافی برادری میں مایوسی اور تشویش بڑھ رہی ہے صحافی معاشرے کے وہ افراد ہیں جو عوامی مسائل کو اجاگر کرتے ہیں، سرکاری منصوبوں کی نگرانی کرتے ہیں اور احتساب کے عمل کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں اگر یہی طبقہ اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے برسوں انتظار کرنے پر مجبور ہو تو یہ صورتحال نہ صرف افسوسناک بلکہ تشویشناک بھی ہے ایک صحافی اپنی پوری زندگی معاشرے کی خدمت میں گزارتا ہے لیکن زندگی کے آخری حصے میں یا بڑھتی عمر میں ایک محفوظ چھت کا حصول اس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن جاتا ہے ایسے میں ہاؤسنگ اسکیمیں صحافیوں کے لیے محض ایک سہولت نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہیں حکومتوں کے بدلنے کے ساتھ منصوبوں کا تعطل کا شکار ہو جانا پاکستان کا ایک پرانا مسئلہ ہے اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ ایک حکومت کے شروع کیے گئے منصوبے کو دوسری حکومت مطلوبہ توجہ نہیں دیتی جس کا نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے صحافی ہاؤسنگ اسکیم کے معاملے میں بھی یہی تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ مختلف اعلانات اور وعدوں کے باوجود عملی اقدامات سست روی کا شکار ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے اور اسے صحافی برادری کے جائز حق کے طور پر تسلیم کیا جائے حکومت کو چاہیے کہ صحافی ہاؤسنگ اسکیم کے حوالے سے فوری طور پر ایک واضح ٹائم لائن جاری کرے، منصوبے کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کرے اور الاٹمنٹ کے عمل میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرے اگر کسی قانونی، مالی یا انتظامی پیچیدگی کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے تو اس کی تفصیلات بھی متعلقہ صحافتی تنظیموں کے ساتھ شیئر کی جائیں تاکہ بے یقینی کی فضا کا خاتمہ ہو سکے صحافتی تنظیموں کی جانب سے بھی اس مسئلے کو مؤثر انداز میں متعلقہ حکام کے سامنے اٹھانا وقت کی ضرورت ہے مذاکرات، مشاورت اور قانونی ذرائع کے ذریعے اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے صحافیوں اور کیمرہ مینوں کی خدمات کا تقاضا ہے کہ ان کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے اور انہیں مزید انتظار کی اذیت میں مبتلا نہ رکھا جائے حکومت کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ صحافی برادری کے اعتماد کو بحال کرے اور برسوں سے زیر التوا اس منصوبے کو مکمل کر کے ایک مثبت مثال قائم کرے صحافیوں کو رہائشی پلاٹوں کی فراہمی صرف ایک وعدے کی تکمیل نہیں بلکہ ان افراد کی خدمات کا اعتراف بھی ہو گا جو دن رات عوام کو باخبر رکھنے اور سچائی کو سامنے لانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اب وقت آ گیا ہے کہ اعلانات اور یقین دہانیاں عملی اقدامات میں تبدیل ہوں اور صحافی ہاؤسنگ اسکیم کا خواب حقیقت کا روپ دھار لے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You