کرائمز

سول جج علاقہ مجسٹریٹ خالد حیات نے تحریک انصاف کے مقامی رہنما

راولپنڈی( افتخار خٹک سے )سول جج علاقہ مجسٹریٹ خالد حیات نے تحریک انصاف کے مقامی رہنما ماجد ستی قتل کیس میں گرفتارامتیاز عرف تاجی کھوکھر (مرحوم)کے صاحبزادے فرخ امتیازکھوکھرکے جسمانی ریمانڈ میں 3یوم کی مزید توسیع کرتے ہوئے انہیں 19جنوری تک دوبارہ پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے عدالت نے ملزم کی جانب سے طبی معائنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو حکم دیا ہے کہ فوری طور پر ملزم کے طبی معائنے کا انتظام کیا جائے اور آئندہ تاریخ پر رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گزشتہ روز فرخ کھوکھر کو سخت حفاظتی تحویل میں عدالت میں پیش کیا گیا اس موقع پر ضلع کچہری میں غیرمعمولی حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے اس موقع پر ملزم کی جانب سے ملک وحید انجم ایڈووکیٹ جبکہ مدعی کی جانب سے ملک فخر حیات اعوان ایڈووکیٹ، اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکوٹر ارشاد احمدکے علاوہ مقدمہ کے تفتیشی سب انسپکٹرمحمد ریاض بھی عدالت میں موجود تھے سماعت کے آغاز پرتھانہ صادق آباد پولیس نے ملزم کے مزید 5روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا میں موقف اختیار کیا کہ ملزم سے وقوعہ سے متعلق موبائل فون برآمد کرنا ہے اور پھر اس موبائل فون پرملزم کے ملزمان کے ساتھ رابطوں کی تحقیقات کرنا ہیں لیکن ملزم موبائل کی برآمدگی میں لیت و لعل سے کام لے رہا ہے جس پر ملزم کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پولیس پہلے ہی ملزم کا 5روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے باوجود کچھ حاصل نہیں کر سکی جبکہ ملزم کے زیر استعمال موبائل فون بھی پولیس تحویل میں ہے جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے پولیس کا مطلوبہ اصل موبائل تاحال برآمد نہیں کروایا جس پر ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیاکہ موبائل دیکھ کر یہ رائے قائم نہیں کی جا سکتی لہٰذا موبائل لیبارٹری کے لئے بھجوایا جائے جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کو دیئے گئے موبائل کا ای ایم آئی نمبر ہی مماثلت نہیں رکھتا ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت تمام حقائق سے آگاہ ہے ملزم کو دفعہ109کے تحت 5دن سے پولیس کی تحویل میں رکھا گیا ہے جہاں ملزم پرذہنی و جسمانی تشدد کیا جا رہا ہے اور اسے ساری رات سونے نہیں دیا جاتا پہلے پولیس موبائل برآمدگی کو جواز بنا رہی تھی اب جب موبائل بھی پولیس کو دے دیا گیا ہے تو پولیس اس موبائل کو تسلیمکرنے سے انکاری ہے ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پولیس14دن پورے کرنا چاہتی ہے اس موقع پر مدعی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ167کے تحت پولیس 14دن تک ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر رکھ سکتی ہے چونکہ ملزم سے موبائل کی برآمدگی ابھی باقی ہے لیکن تاحال پولیس کو مطلوبہ موبائل نہیں ملااور تحقیقات کا انحصار اس اصل موبائل پر ہے جس سے ان ملزمان کے ساتھ رابطوں کا پتہ لگانا ہے جو تاحال روپوش ہیں جس پر ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پولیس اور پراسیکیوشن ملزمان سے زبردستی تعلق جوڑنا چاہتی ہے یہ محض راولپنڈی کے ایک اعلیٰ پولیس افسر کی ایما پر ایسا کیا جا رہا ہے اور اسی مقصد کے لئے یہ مزید ریمانڈ پررکھنا چاہتے ہیں ملزم کے وکیل نے موقف اکتیار کیا کہ اگر پولیس تحویل میں دیاگیا موبائل پولیس کا مطلوبہ نہیں تو وہ واپس کیا جائے اس دوران تفتیشی افسر نے کہا کہ پولیس نے ابھی تک موبائل کی برآمدگی نہیں ڈالی جس پر ملزم کے وکیل نے کہا اگر زیر تحویل موبائل کی برآمدگی نہیں ڈالی گئی تو پھرپولیس نے کس قانون کے تحت یہ موبائل تحویل میں لے رکھا ہے اس موقع پر مدعی کے وکیل نے اعتراض لگایا کہ ملزم کے وکیل بے بنیاد بحث سے عدالت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں یہ مقدمہ بھی نامعلوم ملزمان کے خلاف ہے اور ملزم اس مقدمہ میں نامزد نہیں ہے نہ ہی اس وقوعہ میں ملزم کا کوئی کردار ہے چونکہ ملزم کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ109کی وجہ سے حراست میں لیا گیا ہے لہٰذا مزید جسمانی ریمانڈ کا کوئی جواز نہیں ہے مدعی کے وکیل نے دوران حراست ملزم پر کسی قسم کے تشدد کی بھی نفی کرتے ہوئے کہا کہ ملزم پر قطعی کو تشدد نہیں کیا گیا جس پر ملزم فرخ کھوکھر نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ میں قرآن پر حلف دے کر کہہ سکتا ہوں کہ مجھ پر تشدد کیا گیا ہے لہٰذا عدالت طبی معائنے کا حکم دے جس پر عدالت نے قرار دیا کہ پہلے بھی4روزہ ریمانڈ جاری کیا گیا لیکن مقدمہ کے تفتیشی کی جانب سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی لیکن چونکہ یہ سنگین نوعیت کا کیس ہے جس میں تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہے عدالت نے جسمانی ریمانڈ میں مزید3یوم کی توسیع کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو سختی سے ہدائیت کی کہ تھقیقات کا عمل جلد مکمل کریں اور19جنوری کو ملزم کو دوبارہ عدالت میں پیش کر کے تحقیقاتی پیش رفت سے آگاہ کریں عدالت نے ملزم کے وکیل کی جانب سے طبی معائنے کے لئے دی گئی درخواست منظور کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو ہدائیت کی کہ ملزم کی مناسب سکیورٹی کے انتظامات مکمل کر کے فوری طبی معائنہ کروایا جائے یادرہے کہ تھانہ صادق آباد پولیس نے تحریک انصاف کے مقامی رہنما ماجد ستی(مقتول) کے چچا حاجی ارشد کی مدعیت میں رواں سال 23اگست کو تعزیرات پاکستان کی دفعات302اور 109کے تحت مقدمہ نمبر 2349 درج کیا تھا اس مقدمہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے سکستھ روڈ پرماجد ستی کو قتل کر دیا تھا۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You