پنجاب

سندھ کا سالانہ بجٹ بھی عوامی توقعات کے برعکس ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

سندھ کا سالانہ بجٹ بھی عوامی توقعات کے برعکس ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

مرکز اورپنجاب کی طرح سندھ کا بجٹ بھی مرے کو مارے شاہ مدار کے مترادف ہے:گفتگو

پیپلز پارٹی گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل برسر اقتدار چلی آرہی ہے مگرعوامی مسائل کم نہیں کئے:چیئرمین

تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ بڑھانے کی بجائے مراعات یافتہ طبقے کی مراعات ختم کرنے کی ضرورت ہے

سالانہ میزانیہ قومی ترقی و خوشحالی کی راہیں متعین کرتا ہے مگر کسی بھی حکومت نے اس پر وہ توجہ نہیں دی جو دینے چاہیے تھی

چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ سندھ کا سالانہ بجٹ بھی عوامی توقعات کے برعکس،اشرافیہ کو نواز کر عوام پر ٹیکس کا بوجھ بڑھانے والوں کو ذرا برابر بھی احساس نہیں ہے کہ عوام کے شب و روز کیسے بسر ہوں گے،33سو ارب روپے کے بجٹ میں 50ارب روپے کے خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے اگر یہ بجٹ ٹیکس فری ہوگا تو حکومت یہ بتائے وہ یہ خسارہ کس طرح پورا کرے گی،وفاق اور پنجاب کی طرح سندھ کا سالانہ میزانیہ بھی مرے کو مارے شاہ مدار کے مترادف ہے لفظوں کی ہیر ا پھیری کو اگر یہ لوگ بجٹ کا نام دے رہے تو ان کو داد دینی پڑے گی کہ وہ کس طرح ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیکسز کی بھرمار کرکے سالانہ میزانیہ کو ٹیکس فری قرار دے رہے ہیں،سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل برسر اقتدار چلی آرہی ہے مگر اندرون و بیرون سندھ کے مسائل میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے،اس سے بڑی ستم ظریفی اور کیا ہوگی کہ کراچی جو پہلے روشنیوں کا شہر اور غریب کی ماں کہلاتا تھا آج وہاں پر امن و امان کا قیام بگڑنے کے ساتھ پینے کا صاف پانی،سیوریج و گندگی سمیت دیگر مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے جارہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار صوبہ سندھ کے سالانہ بجٹ 2024-25پر خصوصی ردعمل دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ بڑھانے کی بجائے اگر اشرافیہ کو ٹیکس نیٹ میں لاتے ہوئے مراعات یافتہ طبقے کی مراعات ختم کی جائیں تو اس کے مثبت نتائج مرتب ہوں گے کیونکہ وہ لوگ ہیں جو اپنے شاہانہ طرز زندگی سے ملکی تباہی کا باعث بن رہے ہیں غریب آدمی تو پہلے ہی ٹیکسز کے شکنجے میں پھنسا ہوا ہے اب اُس پر مزید بوجھ بڑھا کر مرنا بھی مشکل بنا دیا گیا ہے۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ سالانہ میزانیہ قومی ترقی و خوشحالی کی راہیں متعین کرتا ہے مگر کسی بھی حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی بلکہ آئی ایم ایف کی شرائط پر مبنی بجٹ پیش کرکے ایک طرف ہوگئے ہیں اب یہ کوئی مسائل کی دلدل میں دھنسی قوم سے پوچھے کہ اُن کیلئے زندگی کس قدر مشکل ہوکر رہ گئی ہے۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
14-06-2024

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You