
اسلام آباد: حکومت نے 18 محکموں کی تنخواہوں میں 25 فیصد مجوزہ اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیصلے کے نتیجے میں 3 لاکھ 26 ہزار 745 ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
ایکسٹرا الاؤنسز لینے والے محکموں کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ اس فیصلے کے بعد ایوان صدر، وزیراعظم سیکرٹریٹ، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
ایف بی آر، شعبہ صحت، نیب، اعلیٰ عدلیہ اور وفاقی پولیس کے ملازمین بھی تنخواہوں میں اضافہ سے محروم رہیں گے۔ موٹروے پولیس، ایئرپورٹ سکیورٹی فورس، انٹیلی جنس بیورو، آئی ایس آئی اور ایف آئی اے کے ملازمین کی تنخواہیں بھی نہیں بڑھیں گی۔
اسی طرح لا اینڈ جسٹس کمیشن،پارلیمانی افیئر ڈویژن اور اسلام آباد ماڈل پولیس کے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ نہیں کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب 2 لاکھ 96 ہزار 470 ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد ایڈہاک اضافے سے قومی خزانے پر 21 ارب روپے سالانہ کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایسے ملازمین جن کو پہلے ہی 100 فیصد ایڈہاک ریلیف مل رہا ہے، ان کو موجودہ اضافہ نہیں ملے گا۔ موجودہ اضافہ ان ملازمین کے لئے ہو گا جن کو بنیادی تنخواہ کے برابر اضافی تنخواہ یا پرفارمنس الاؤنس نہیں مل رہا۔
حکام کے مطابق متعدد وفاقی اداروں کے ملازمین کو بنیادی تنخواہ کا تین سو فیصد تک الاؤنس دیا جا رہا ہے۔ ملازمین کی تنخواہوں میں فرق کم کرنے کے لئے ایڈہاک ریلیف دیا جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں وزارت خزانہ کی 18 محکموں کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ نہ کرنے کی سمری سے قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ وزارت خزانہ نے سو فیصد تنخواہ لینے والے متعدد محکموں، ریگولیٹری اتھارٹیز اور کمیشن کو مذکورہ 18 محکموں کی فہرست میں شامل نہیں کیا۔
ان میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، پیپرا، نیپرا، مسابقتی کمیشن پاکستان، نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی، پاکستان ہاؤسنگ فاؤنڈیشن، پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی، نیشنل ہائی وے اتھارٹی سمیت متعدد محکمے شامل ہیں۔
وفاقی وزارت خزانہ نے 2013ء میں سیکرٹریٹ میں موجود وفاقی وزارتوں کے ملازمین کو 20 فیصد الاؤنس دینے کی منظوری دی تھی جس کے خلاف دیگر محکموں کے ملازمین نے اس امتیازی سلوک کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا تھا۔
وزارت خزانہ مذکورہ کیس سپریم کورٹ سے بھی ہار چکی ہے اور نظر ثانی کی اپیل زیر سماعت ہے۔ ادھر وزارت خزانہ کی وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافی الاؤنس نہ دینے کی 18 محکموں کی سمری میں ایک محکمے کو دوبار شامل کر دیا گیا ہے۔
فہرست میں نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس کا محکمہ دوبار لکھا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کی فہرست کی سیریل نمبر 8 پر نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس اور سیریل نمبر 15 پر بھی نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس لکھا گیا ہے۔



