
راولپنڈی : سی پی او محمد احسن یونس کی زیر صدرات صدر ڈویژن میں قتل کے زیر تفتیش مقدمات کے مدعیوں سے میٹنگ،
68مقدمات کے مدعیوں اورتفتیش افسران سے بات چیت،میٹنگ میں ایس پی صدر، اے ایس پی صدرسرکل اور تفتیشی افسران بھی موجودتھے،02مختلف مقدمات میں سپیشل ٹیمیں تشکیل دینے کا حکم، مدعی مقدمہ سے رابطہ نہ رکھنے پر صدر بیرونی کے تفتیش افسر کو شو کاز نوٹس جاری،مدعی مقدمہ جس شخص پر شک کا اظہار کریں اسے ضرور شامل تفتیش کریں،بے گناہ شخص کو گرفتار نہیں ہونا چاہیے، سی پی او۔تفصیلات کے مطابق سٹی پولیس آفیسر محمد احسن یونس نے پولیس لائنز ہیڈ کوارٹرز میں صدر ڈویژن میں قتل کے زیر تفتیش مقدمات کے مدعیوں سے میٹنگ کی، میٹنگ میں ایس پی صدر، اے ایس پی صدر سرکل اور تفتیشی افسران بھی موجودتھے، میٹنگ کا مقصد تفتیشی افسران کی موجودگی میں مدعی مقدمہ سے بات چیت اوران کو مقدمہ کی پراگرس سے آگا ہ کرنے کے ساتھ ساتھ مدعی مقدمہ کے تحفظات دور کرنا تھا، میٹنگ میں صدر ڈویژن کے 68مقدمات اورتفتیش افسران کو مقدمات کے حوالے سے اہم ہدایات دیں،سی پی راولپنڈی نے صدر بیرونی اور تھانہ چونترہ کے02مختلف مقدمات میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے سپیشل ٹیمیں تشکیل دینے جبکہ مدعی مقدمہ سے رابطہ نہ رکھنے پر صدر بیرونی کے تفتیش افسر سب انسپکٹر نصیر احمد کو شو کاز نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا، میٹنگ میں سی پی اونے مختلف مقدمات میں ملزمان کی گرفتاری،چالان کی تکمیل،شواہد کے حصول کے حوالے سے ٹائم لائن دیتے ہوئے ضروری ہدایات جاری کیں،اس موقعہ پر مختلف مقدمات کے مدعیوں کا کہناتھاکہ سینئر افسران کے سامنے تفتیش کی پراگرس سے آگاہی اورسی پی اومحمد احسن یونس کی جاری کردہ ہدایات سے ہمیں یقین ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا، سی پی اومحمد احسن یونس کا کہناتھاکہ مدعی مقدمہ جس شخص پر شک کا اظہار کریں اسے ضرور شامل تفتیش کریں،بے گناہ شخص کو گرفتار نہیں ہونا چاہیے،سنگین مقدمات میں ملزمان کی گرفتاری،ٹھوس شواہد کے حصول اورموثر تفتیش کے ذریعے ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جا سکتی ہے۔



