پنجاب

راولپنڈی : سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ غلام اکبر نے سوشل میڈیا سٹار”ظفر سپاری

راولپنڈی : سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ غلام اکبر نے سوشل میڈیا سٹار”ظفر سپاری“ کی جانب سے تھانہ آر اے بازار کے سابق ایس ایچ او کے خلاف 20کروڑ 30لاکھ روپے ہرجانے کے دعویٰ پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے16جون کو جواب طلب کر لیا ہے عدالت نے درخواست گزار کو ہدائیت کی ہے کہ3دن کے اندر پراسیس فیس جمع کروانے کے ساتھ آئندہ تاریخ سماعت سے قبل 15ہزار روپے کورٹ فیس بھی جمع کروائے عدالت نے حکم دیا ہے دعویٰ کی نقل اورمتعلقہ دستاویزات سمن کے ساتھ 3دن کے اندرمدعا علیہ کورجسٹرڈ ڈاک یا کوریئرسروس کے ذریعے بھجوائی جائیں عدالتی سمن کے تعمیل کنندہ کو ہدائیت کی گئی ہے کہ وہ مدعا علیہ کے گھر اور گھر مین سمن وصول کرنے والے فرد کی تصویر بنا ئی جائے ظفر خان عرف ظفرسپاری نے تھانہ آر اے بازار کے سابق ایس ایچ او اورجوڈیشل کمپلیکس ضلع کچہری کے موجودہ سکیورٹی انچارج انسپکٹر خالد ستی اور ہیڈ کانسٹیبل عذیر میر احمدکے خلاف 20کروڑ 30لاکھ روپے ہرجانے کے لئے دائر دعوی میں موقف اپنایا تھا کہ درخواست گزار ایک سوشل میڈیا سٹار ہے گوگل اور یو ٹیوب پر اس کے لاکھوں پرستار اسے ظفر سپاری کے نام سے جانتے ہیں 24جولائی 2019کو درخواست گزار کے علم میں آیا کہ تھانہ آر اے بازار پولیس نے اس کے قریبی دوست نمبردار اسد محمود کو کسی کریمنل کیس میں گرفتار کر لیا ہے جس پر درخواست گزار نے اپنے فون سے ایس ایچ او کو کال کر کے زیر حراست اسد محمود سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا اور ایس ایچ او کی اجازت سے اپنے دوستوں وقاص عرف وکی، چوہدری عقیل اورعاصم کے ہمراہ اسد محمود سے ملنے تھانہ آر اے بازار گیاتھانے پہنچے پر کانسٹیبل نے آکر بتایا کہ ایس ایچ او نے صرف ظفر سپاری کو اندر بلایا ہے درخواست گزار تھانے ہی کے اندر داخل ہوا تو محررکے کمرے کے باہر موجود ایس ایچ او نے کہا کہ میں تہمارا ہی انتظار کر رہا تھا ابھی تمہیں نمبردار اسد سے ملواتا ہوں اور درخواست گزار کو ہتھکڑی لگا کرزبردستی حوالات میں بند کر دیا اور درخواست گزار کی تصویریں بنا کر کسی کو بھیجتارہا ایس ایچ او نے گالیاں دیتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر درخواست گزار نے بیٹھنے کی کوشش کی تو اسے تشدد کا سامنا کرناپڑے گااس دوران ایس ایچ او نے حجام کو بلوا کر درخواست گزار کے بال کٹوا دیئے اور ویڈیو بنا کر سوشل میدیا پر وائرل کر دیں اس طرح درخواست گزار کے لاکھوں مداحوں کے سامنے درخواست گزارکی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا گیا جس کے بعد ایس ایچ او نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ107/151کے قلندرے کے تحت درخواست گزار کی گرفتاری ڈال دی اور25جولائی کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا جہاں سے عدالت نے درخواست گزار کو ڈسچارج کیا اس طرح ایس ایچ او نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر کے سنگی جرم کا ارتکاب کیا ہے اور یہ سب نمبردار اسد کے سیاسی مخالف کے کہنے پر کیا گیا عدالت سے ڈسچارج ہونے کے بعد درخواست گزار آئی جی پنجاب، آر پی او اور سی پی او راولپنڈی کے علاوہ ڈپٹی ڈائریکٹرایف آئی اے کو درخواستیں دیں لیکن سیاسی مداخلت اورایس ایچ او کی ذاتی انتقامی کاروائی کی وجہ سے درخواست گزار کی درخواستوں پر کاروائی نہ کی گئی جس پر درخواست گزار نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ22-Aکے تحت ایف آئی آر کے اندراج کے لئے عدالت سے رجوع کیا اس دوران تھانہ ایئر پورٹ میں درخواست گزار کے خلاف 506ii/34کی دفعہ کے تحت 31اگست کو ایک نئی ایف آئی آر درج کر دی گئی جس میں درخواست گزار کو اس کے پلازہ سے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا دعوی میں درخواست گزار نے ذہنی اذیت دینے پر10کروڑ، ساکھ کو نقصان پہنچانے پر10کروڑ، اپنے خلاف بے بنیاد مقدمات کی پیروی پر اٹھنے والے اخراجات کی مد میں 10لاکھ روپے، وکیل کی فیس کی مد میں 20لاکھ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے دعویٰ میں استدعا کی گئی ہے کہ 20کروڑ30لاکھ روپے ہرجانہ پر سائل کے حق میں فیصلہ دیا جائے۔

رپورٹ : افتخار خٹک سے

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You