راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی سائرہ نورین کے روبروتھانہ پیرودھائی

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی سائرہ نورین کے روبروتھانہ پیرودھائی میں درج اغوا اور جنسی زیادتی کے مقدمہ میں متاثرہ لڑکی نے کسی قسم کی جنسی زیادتی کی نفی کر دی متاثرہ لڑکی نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ پولیس نے ان سے سادہ کاغذپر دستخط لئے تھے جبکہ ہماری جانب سے کسی کو ملزم نامزد نہیں کیا گیا اور نہ ہی اب بھی حقائق مخفی رکھے جا رہے عدالت نے لڑکی کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد مقدمہ کی مدعیہ کو 8جولائی کو عدالت میں طلب کر لیا ہے گزشتہ روز سماعت کے موقع پرصبا کنول نے عدالت کے روبرو اپنے بیان میں ملزمان کے خلاف درج مقدمہ کو محض غلط فہمی قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملزمان نے اس سے کسی قسم کی جنسی زیادتی نہ کی ہے وہ ملزمان کے بے گناہی سے مکمل مطمئن ہے اور عدالت کی جانب سے ان کی بریت پر کوئی اعتراض نہ ہے جس پر ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ ممکن ہے کہ لڑکی کسی دباؤ میں آکر بیان دے رہی ہوجس سے حقائق چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہوجس پر لڑکی نے موقف اختیار کیا کہ یہ درست ہے کہ اس کی ممانی اس مقدمہ کی مدعیہ ہے لیکن پولیس نے ان سے سادہ کاغذپر دستخط لئے تھے جبکہ ہماری جانب سے کسی کو ملزم نامزد نہیں کیا گیا اور اب بھی ہماری جانب سے کوئی حقائق نہیں چھپائے جا رہے یادرہے کہ تھانہ پیرودھائی پولیس نے ریحانہ کوثرزوجہ محمد طفیل سکنہ گجرات کی مدعیت میں گزشتہ سال14اکتوبر کو تعزیرات پاکستان کی دفعات 365-B، 376iiاور377کے تحت مقدمہ نمبر 1129درج کیا تھا جس مدعیہ کا موقف تھا وہ اپنی 17سالہ لے پالک بھانجی صبا کنول کے ہمراہ گجرات سے راولپنڈی عیدگاہ شریف دربار پر حاضری دینے آئی منڈی موڑ پرزونگ فرنچائز پر فون سم خریدنے کے دوران بھانجی کی طبیعت خراب ہو گئی جس کو ادھر ہی بٹھا کر باہر سے کچھ کھانے کے لئے لینے گئی واپس آئی تو بھانجی غائب تھی جسے نامعلوم افراد نے بدکاری کی نیت سے اغوا کر لیا ہے تاہم پولیس نے بعد ازاں شعیب ارشد،احسان عابد،عبدالرشید اورشہاب الدین پر مشتمل4افراد کو مقدمہ میں ملزم نامزد کیا تھا
رپورٹ : افتخار خٹک سے



