راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خورشید عالم بھٹی نے لال حویلی سمیت 7

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خورشید عالم بھٹی نے لال حویلی سمیت 7یونٹس کا قبضہ واگزار کرانے کے لئے ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمداور ان کے بھائی کی اپیل پرزونل ایڈمنسٹریٹر و چیئرمین متروکہ وقف املاک راولپنڈی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 4اکتوبر کو جواب طلب کر لیا ہے شیخ رشید احمد اور ان کے بھائی شیخ صدیق احمد نے ماتحت عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اپیل دائر کر دی زونل ایڈمنسٹریٹر و چیئرمین متروکہ وقف املاک راولپنڈی کو فریق بناتے ہوئے دائر اپیل میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ درخواست گزارشیخ صدیق بوہڑ بازار میں واقع جائیداد نمبرD-158کا مالک و قابض ہے جو ڈیڈ نمبر6381کے تحت 19اگست1987سے نہ صرف رجسٹرڈ ہے بلکہ درخواست گزار اس کا قانونی قابض ہے جبکہ درخواست گزار کا بھائی شیخ رشید ایک معروف سیاستدان ہے جو عوامی مسلم لیگ کا صدر ہونے کے ساتھ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے62سے منتخب رکن اسمبلی ہے جو وفاقی وزیر داخلہ سمیت مختلف اہم وزارتوں پر فائز رہا اور3دہائیوں سے جائیداد نمبرD-329پر قانونی قابض ہے درخواست گزاروں نے مینجمنٹ اینڈ ڈسپوزل آف اربن ایویکیوٹرسٹ پراپرٹیز 1977کے چیپٹر2کے تحت ان جائیدادوں کی کرایہ داری کی ریگولائزیشن کے لئے متروکہ وقف املاک کو درخواست دی جو زونل ایڈمنسٹریٹر کے پاس زیر التوا ہے اور کوشش کے باوجود درخواست گزار کو سیاسی انتقام کی وجہ سے ناگزیر وجوہات کی بنا پر کرایہ داری کو ریگولرائز نہیں کیا گیا اس طرح 21نومبر2014کودرخواست گزار کوجائیداد سے بے دخلی کا حکم دے دیا گیا جسے چیلنج کرنے کے بعدایڈمنسٹریٹر متروکہ وقف املاک 17اکتوبر2016کو فیصلہ دیابعد ازاں درخواست گزاروں نے متروکہ وقف املاک کی کاروائی روکنے کے خلاف وفاقی سیکریٹری وزارت مذہبی امور کو اپیل کی گئی لیکن جہاں سے اس اپیل کو ریمانڈ کرتے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدائیت کی گئی اس طرح مینجمنٹ اینڈ ڈسپوزل آف اربن ایویکیوٹرسٹ پراپرٹیز 1977میں ترمیم 3کے تحت کرایہ داری میں تبدیلی کی گئی جس کے تحت بورڈ کے لیگل ایڈوائزرکی مشاورت سے یہ طے کیا گیا کہ کہ کرایہ داری نظام میں تبدیلی کے عمل کو اخبارات میں مشتہر کیا جائے اور سابقہ کرایہ داروں کو بذریعہ نوٹس بھی مطلع کیا جائے جس کے بعد درخواست گزاروں نے سابقہ کرایہ داری کے12قانونی وارث پیش کئے لیکن سیاسی مخالفت کی وجہ سے درخواست گزاروں اور ان کے قانونی ورثا پر جائیداد خالی کرنے کے لئے دباؤ بڑھا دیا گیا اور پھر درخواست گزاروں کے خلاف فیصلہ جاری کر دیا گیا سمن وصول ہونے کے بعد درخواست گزار مجاز عدالت میں پیش ہوئے جہاں پر درخواست گزاروں کے وکیل نے سول عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھایا لیکن عدالت نے سماعت کے لئے28ستمبر کی تاریخ مقرر کی اور 28ستمبر کو ہی درخواست گزاروں کے خلاف عجلت پر مبنی فیصلہ جاری کر دیا گیا اس طرح ماتحت عدالت نے درخواست گزار نے خلاف قانون فیصلہ جاری کیا اس طرح ماتحت عدالت کے فیصلے میں مینجمنٹ اینڈ ڈسپوزل آف اربن ایویکیوٹرسٹ پراپرٹیز 1977کی سیکشن 14کو بھی یکسرنظر انداز کیاگیاحالانکہ درخواست گزار کے پاس قانونی جواز موجود تھے لیکن ماتحت عدالت نے کسی چیز کو خاطر میں لانے اور دستیاب مواد کے مطابق فیصلے کی بجائے عجلت میں فیصلہ جاری کیااس طرح درخواست گزاروں کے کیس کی غلط تشریح کی گئی جس سے انصاف کا گلا گھونٹا گیا ہے اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ درخواست گزار کی اپیل منظورکر کے کیس دوبارہ سنا جائے اور اس پر قانون کے تقاضے پورے کر کے فیصلہ جاری کیا جائے یاد رہے کہ سابق وفاقی وزیرو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمدنے متروکہ وقف املاک بورڈکی جانب سے بورڈ کی ملکیتی جائیداد میں لال حویلی سمیت 7یونٹس کا قبضہ واگزار کرانے کے لئے جاری کاروائی روکنے کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی تھی سول جج راولپنڈی نوید اختر لوہن نے28ستمبر جہاں پرسول جج راولپنڈی نوید اختر لوہن نے سماعت کے بعدسماعت کا دائرہ اختیار نہ ہونے کی وجہ سے 28ستمبر کو شیخ رشید کی درخواست خارج کر دی تھی جس کے خلاف شیخ رشید اور ان کے بھائی نے سیشن کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔
راولپنڈی : افتخار خٹک سے



