راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ کے روبرو امریکی

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ کے روبرو امریکی نژاد خاتون وجیہہ فاروق سواتی کے اغوا و قتل کے مقدمہ میں امریکہ کے مقیم مقتولہ کے بیٹے و مقدمہ کے مدعی کی شہادت قلمبند کرلی گئی ہے جس پر ملزمان کے وکیل نے جرح بھی مکمل کر لی ہے جس کے بعد عدالت نے برطانیہ میں مقیم استغاثہ کے 2مزید گواہان مقتولہ کی ہمشیرہ فائزہ فاروق سواتی اور بھانجے ایان خان کا بیان ریکارڈ کرنے کے لئے سماعت ملتوی کر دی آئندہ تاریخ پر ویڈیو لنک کے ذریعے استغاثہ کے مذکورہ دونوں گواہا ن کے بیان ریکارڈ کئے جائیں گے جس کے لئے عدالت نے پاکستان میں قائم برطانوی سفارتخانے اور برطانیہ میں قائم پاکستانی سفارتخانے کو ہدائیت کی ہے وہ تمام ضروری انتظامات مکمل کریں عدالت نے یہ بھی ہدائیت کی ہے کہ شہادت قلمبند کروانے کے دوران گواہوں پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہ آنے پائے گزشتہ روز سماعت کے موقع پر مقدمہ کے مرکزی ملزم رضوان حبیب،اس کے والد حریت اللہ خان،ڈرائیور سلطان احمدگھریلو ملازمہ زاہدہ یوسف اور اس کے شوہر یوسف مسیح کو پولیس کی تحویل میں عدالت میں پیش کیا گیاجبکہ اس موقع پرملزمان کے وکیل طلعت زیدی بھی عدالت میں موجود تھے گزشتہ روز ویڈیو لنک کے ذریعے عبداللہ مہدی کے بیان سے قبل امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کے قونصلربرائے کمیونٹی افیئرزمحمد الیاس نے عدالت کو اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ مقدمہ کے اس اہم گواہ پر نہ تو کسی قسم کا تشدد کیا گیا ہے اور نہ اس پر کسی قسم کا کوئی دباؤ ہے بلکہ یہ آزادانہ طور پر اپنی شہادت قلمبند کروا رہاہے مقتولہ کے بیٹے عبداللہ مہدی نے امریکہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے قلمبند کرائی گئی شہادت میں موقف اختیار کیا کہ 10سالہ ارشد علی اور16سالہ ہاشم علی پر مشتمل اس کے2چھوٹے بھائی بھی ہیں والد کی وفات کے بعد ان کی والدہ یو اے ای منتقل ہو گئیں جہاں ان کی ملاقات رضوان حبیب سے ہوئی کیونکہ رضوان حبیب ان کی قانونی دستاویزات کی تیاری میں انہیں معاونت دیتا تھا رضوان سے میری پہلی ملاقات بھی یو اے ای میں ہوئیمیں سورہا تھا جب مجھے والدہ نے جگایا اور وہ کوفزدہ دکھائی دے رہی تھیں انہوں نے بتایا کہ رضوان حبیب انہیں مارنے کی دھمکیاں دے رہا ہے والدہ مجھے لے کر باہر آگئیں جہاں پہلی مرتبہ رضوان حبیب سے میرا سامنا ہوا اور ان کی پاکستان روانگی تک میں ان کے ساتھ رہاپاکستان آنے کے بعد ہم ڈی ایچ اے چلے گئے ڈی ایچ اے کا گھر میری والدہ نے اپنے پیسوں سے خریدا تھا لیکن رضوان حبیب نے اس وعدے پر اپنے نام کروالیا تھا کہ بعد میں ان کے نام منتقل کر دے گا عبداللہ مہدی نے بتایا کہ فروری2021میں وہ واپس آگیا اور واپسی سے قبل وہ راولپنڈی میں ایک عزیز کے گھر مقیم رہا جبکہ میری والدہ اور بھائی ایبٹ آباد اور رضوان حبیب ڈی ایچ اے میں رہائش پذیر تھا ہم سب لوگ رضوان حبیب کی دھمکیوں کی وجہ سے اس سے دور رہتے تھے جبکہ اس نے ایک مرتبہ اس کے چھوٹے بھائی ہاشم کو میرے سامنے اس کی گردن پر لات ماری اس طرح رضوان حبیب کا رویہ بتدریج غیر متوقع ہوتا گیا ہماری روانگی سے قبل اس نے فون بند کر دیا اور وقت بے وقت میری والدہ کے پاس آتا رہا جس کے بعد میں فروری2021میں امریکہ چلا گیا جولائی2021میں والدہ میرے پاس آئیں اس کے بعد میری والدہ پاکستان جانے کا پروگرام بنا رہی تھیں اور اسی اثنا میں والدہ اپنی ہمشیرہ کے پاس برطانیہ چلی گئیں جہاں سے انہوں نے فیصلہ کرنا تھا کہ کدھر جانا ہے اس طرح 16اکتوبر2021کو میری والدہ میرے کزن ایان خان کے ساتھ فلائیٹ نمبر BA-261کے ذریعے اسلام آباد آگئیں جہاں میری والدہ نے ڈی ایچ اے والے گھر کے کچھ ڈاکومنٹس تیار کرنے تھے اس مقصد کے لئے انہوں نے رضوان حبیب کی والدہ ارفا حریہ کے ذریعے ڈاکومنٹس کی تصاویربھجوائیں اور والدہ نے دی ایچ اے والے گھر میں رہنے کو کہا تو میں نے انہیں بتایا کہ جس طرح ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں مجھے خدشہ ہے کہ وہ یہاں محفوظ نہیں ہو ں گی اس طرھ یہ میرا والدہ سے آخری رابطہ تھا اس کے بعد والدہ نے میری کال یا میسجز کا کوئی جواب نہ دیا رضوان حبیب نے بتایا کہ اس کی والدہ یہاں ٹھیک اور محفوظ ہیں اور وہ تب تک کسی سے کوئی رابطہ نہیں کریں گی جب تک ہمارے درمیان تحفظات دور نہیں ہو جاتے 22اکتوبر2021کو والدہ نے فلائیٹ نمبرBA-261کے ذریعے واپس آنا تھا لیکن ایسا نہ ہوا جس پر رضوان حبیب نے بتایا کہ اس کی والدہ اس کے ساتھ ہیں اورٹھیک ہیں جبکہ میرا کزن ایان ایمرجنسی طور پر واپس برطانیہ آگیاجس کے بعد رضوان حبیب ہمیں کچھ بتا نہیں رہا تھا کہ والدہ کدھر ہیں جس پر میں نے پاکستان میں امریکی سفارتخانے سے رابطہ کیا کہ میری والدہ لاپتہ ہیں اور 23اکتوبر کوپاکستان سٹیزن پورٹل پر بھی شکائیت درج کروانے کے علاوہ سی پی او راولپنڈی، ڈی آئی جی کرائم اور پنجاب پولیس کے دیگر حکام کو بذریعہ میل شکایات درج کروائیں اس کے بعد 25اکتوبر اور2نومبر کو دوبارہ شکایات درج کروائیں سٹیزن پورٹل سمیت کسی جانب سے ہمارای شکایات کا کوئی جواب نہ ملنے پر میں نے شبنم نواز ایڈووکیٹ کے ذریعے اپنی طرف سے ایف آئی آر درج کروائی اس دوران رضوان حبیب نے نے اپنی کہانی تبدیل کر دی اور موقف اختیار کیا کہ میری والدہ ٹیکسی پر کہیں گئی ہیں اور وہ نہیں جانتا کہ وہ کدھر ہے مقدمہ کے اندراج کا پتہ چلنے پر رضوان حبیب نے مجھے مقدمہ روکنے کے لئے دھمکیاں بھی دیں اڑھائی گھنٹے سے زائد وقت تک بیان اور جرح جاری رہنے کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کر دی یاد رہے کہ تھانہ مورگاہ پولیس نے وجیہہ سواتی کے اغوا کے الزام میں رواں سال 2نومبرکومغویہ کے بیٹے عبداللہ مہدی کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات365 کے تحت مقدمہ نمبر577درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ اس کی والدہ اپنے بھانجے کے ساتھ 16اکتوبر کو فلائیٹ نمبر BA-0261کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان آئی جبکہ انہوں نے 22اکتوبر کو فلائیٹ نمبرBA-0260سے واپس جانا تھا ایف آئی آرکے مطابق اس کی والدہ اور ان کے2مزید بچے سب امریکی شہریت کے حامل ہیں اور والد کی وفات کے بعد سے امریکہ میں ہی مقیم ہیں جبکہ اس کی والدہ اپنے سابقہ شوہر رضوان حبیب سے جائیداد کے معاملات سلجھانے کے لئے پاکستان آئی تھیں لیکن رضوان حبیب نے انہیں جائیدا دکی خاطر اغوا کیا اور بعد ازاں 17اکتوبرکو قتل کر دیاتھااس مقدمہ میں 5 ملزمان قیداور1 ملزم ضمانت پر ہے۔
رپورٹ : افتخار خٹک سے



